Tuesday, July 16, 2024

 مدت ملازمت میں توسیع اور ایکسٹینشنز: ملکی سالمیت، ترقی اور جمہوریت پر اثرات*

*مدت ملازمت میں توسیع اور ایکسٹینشنز: ملکی سالمیت، ترقی اور جمہوریت پر اثرات*

پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کی مدت ملازمت میں توسیع اور ایکسٹینشن حاصل کرنے کی روایت نے ہمیشہ ملکی سالمیت، ترقی اور جمہوریت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی جمہوری اصولوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

*جمہوری اصولوں کی پامالی*
جب کوئی اعلیٰ عہدیدار اپنی مدت ملازمت میں توسیع یا ایکسٹینشن کی کوشش کرتا ہے تو وہ عملاً جمہوری اصولوں کی پامالی کرتا ہے۔ جمہوری نظام میں ہر عہدیدار کی مدت مقرر ہوتی ہے تاکہ عوام کو نئی قیادت منتخب کرنے کا موقع ملے اور احتساب کا عمل جاری رہے۔ مدت ملازمت میں توسیع اس عمل کو متاثر کرتی ہے اور جمہوری اقدار کو نقصان پہنچاتی ہے۔

*طاقت کے توازن کی خرابی*
مدت ملازمت میں توسیع اور ایکسٹینشن کی کوششیں عملاً اختیارات کے توازن کو خراب کرتی ہیں۔ جمہوریت میں اختیارات کا توازن انتہائی اہم ہوتا ہے تاکہ ایک ادارہ یا فرد بے جا طاقت حاصل نہ کر سکے۔ جب کوئی عہدیدار اپنی مدت ملازمت میں توسیع کروا لیتا ہے تو وہ اپنے اختیارات کو مضبوط کرتا ہے، جو کہ جمہوری نظام کے خلاف ہے۔

*تاریخی مثالیں*
تاریخ میں کئی ممالک میں مدت ملازمت میں توسیع کی کوششوں نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ افریقہ کے کئی ممالک میں صدرات کی مدت ملازمت میں توسیع نے سیاسی عدم استحکام اور فوجی بغاوتوں کو جنم دیا ہے۔ مثال کے طور پر، مالے، برکینا فاسو، اور چاڈ میں فوجی بغاوتیں جمہوری اصولوں کی پامالی کی وجہ سے ہوئیں۔

*پاکستان کی صورت حال*
*پاکستان میں بھی اعلیٰ عدالتی اور فوجی عہدیداروں کی مدت ملازمت میں توسیع کی کوششیں دیکھنے کو ملی ہیں۔ حالیہ مثال میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی مدت ملازمت میں توسیع کی کوشش نے جمہوری نظام میں مداخلت کی ایک اور مثال پیش کی ہے۔ ایسی کوششیں ملک میں جمہوری استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں اور عوام کا اعتماد کم کرتی ہیں*۔

 *اقتصادی ترقی پر اثرات*
جمہوری عدم استحکام کا اثر اقتصادی ترقی پر بھی پڑتا ہے۔ جب جمہوری ادارے مضبوط نہیں ہوتے تو ملکی سرمایہ کاری میں کمی آتی ہے اور اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ مدت ملازمت میں توسیع کی کوششیں ملکی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں کیونکہ یہ غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہیں۔

*جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اقدامات*
جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ مدت ملازمت میں توسیع کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عوامی شعور بیدار کیا جائے اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔ مزید برآں، بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کی مدد سے جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

*حاصل تحریر*
مدت ملازمت میں توسیع اور ایکسٹینشن کی کوششیں ملکی سالمیت، ترقی اور جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ان کوششوں کی روک تھام کے لیے جمہوری اصولوں کی پاسداری اور عوامی شعور کی بیداری انتہائی اہم ہیں۔ پاکستان اور دیگر ممالک کو جمہوری اصولوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ملکی ترقی اور سالمیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
تحریر :- *صابر جلیل فاروقی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ مشیرانکم ٹیکس*

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home