متحدہ میں قحط الرجال کے بعد پیوند کاری کا عمل
عامر لیاقت عرف قدودسی صاحب کی بیواہ ۔۔۔ جی ہاں موصف کو معافی اس وقت دی گئی ہے جس وقت حالت قحط الرجال تھا ،، قحط میں کیونکہ مکروہ تحریمی بھی حلال ہو جاتا ہے جیسا کہ گھوڑا ،، تو کراچی کی عوام کو گدھا کھلا نے کی نہ صحیح گدھا برداشت کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے ،، مقاصد کیا ہیں اس سوال کا جواب جاننے کے لیے آپ کو دانشور ہونے کی ضرورت نہیں ،، متحدہ کے قحط الرجال کے مرحلے میں دو کا ٹولہ آگے آیا ایک عابدی دوسرا عامری ،، عابدی کو کسی اور بڑی چوٹ کے بعد مرحم کے طور پر استعمال کیا جائے گا فی الوقت شیخ لیاقت کے فرزند جس کو آخری وقت میں اپنے باپ کے پاس سے بدبو آرہی تھی اور بلوانے پر بھی عیادت کو نہیں گیا تھا اس بے ادب ، بے نصیب شخص کو متحدہ کے وجود کا میڈیہ پر دفاع کرنے کی منصوبہ بندی کرائی گئی ہے ۔ قارئین کرام اگر لفاظی کے ذریعہ غلط کو صحیح کیا جا سکتا ہو اور عوام کو ان عابدیوں اور عامریوں کے ذریعہ بیوقوف بنا یا جا سکا تو یہ عوام کی بد قسمتی ہو گی اور سید مصطفی کمال اور رضا ہارون کے سامنے ان زبان دراز افراد کے زبان شارٹ نہ ہو جائے گی اور متحدہ کے بچے کچے لوگوں کے زہن میں پارٹی کے اندر پیراشوٹ سے اترنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر مزید سوالات ابھرنے سے کون روک سکے گا ۔ پاک سرزمین پارٹی کی قیادت سید مصطفی کمال کے قیادت میں جس تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اس کو دیکھتے ہو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ متحدہ کے ہاتھ سے عوامی مینڈیٹ ریت کی طرح نکلتا جا رہا ہے اور ہر نئے اقدام پر پاکستان میں موجود قیادت باغی ہوتی جارہی ہے اور مصطفی کمال کیمپ سے آواز سنائی دے رہی ہے کہ ،،،،، شب کو سنوارنے کا ہنر ہم پہ چھوڑ دو ،،، تم تھک چکے ہو اب یہ سفر ہم پہ چھوڑ دو ۔ صابر جلیل ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ،، پی ایس پی میر پور خاص
Labels: PSP PAKISTAN

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home