فلسفہ محبت نہیں فلسفہ نفرت و منافقت
فلسفہ محبت یا فلسفہ نفرت ،، متحدہ کے قائد نے ایک کتاب لکھ کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ انکا فلسفہ ،، فلسفہ محبت ہے لیکن مجھ سمیت متحدہ کا ہر فرد جانتا ہے کہ خون کی بواس دیو کی خوراک ہے اور جتنی خوشی اس کو خون کی خبر سے ہوتی ہے کسی بڑی سے بڑی خبر سے نہیں ہوتی ، مہاجروں کے مائنڈسیٹ کو سمجھتے ہوئے اسکو خبر ہے کہ قوم کتنی ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو وفاداری کی انتہا کر دیتی ہے ۔ لیکن حقائق سے پردہ اٹھنے پر یہ نظروں سے گرا بھی دیتی ہے اس قوم نے الطاف کو نہ صرف راہنما مانہ بلکہ اسکو عقل کل سمجتے ہوئے اپنی باگ دوڑ اسکے ہاتھ میں دے دی اور سمجھتی رہی کہ یہ ان کی نیاء پار لگائے گا لیکن خداوند بزرگ و برتر کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس شخص کا راز کھل گیا کہ یہ پیسوں کا رسیا خون آشام دیو ہے جس کو بھائی لوگو کی طرح سپاری دے کر کوئی بھی شخص کیسا بھی کام کروا لے یعنی اجرتی قاتل وہ بھی بقول شاعر ،، دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ ،، تم قتل کروہو کہ کرامات کرو ہو ،، کے مصداق اس نے ہر سامنے آنے والے کو ختم کروا دیا اور مکروہ اتنا کہ اس نے عامر حقیقی والے کو مہاجروں کا قتل عام معاف کر کے نوے کا انچارج بنا دیا ،، اب حیدر آباد میں پی ایس پی کی پر امن ریلی پر حملہ کروانہ عامر حقیقی کا کام ہے جس کو کر کے لندن قیادت کو خوش کرنا مقصود ہے ، کیونکہ متحدہ کی پولیٹیکل افادیت صفر ہو گئی ہے لحاظہ اس کی سیاسی بلیک میلنگ بھی بند ہے بس پی پی سے اندرونی اتحاد برقرار ہے جو کسی بھی وقت حکومت میں شراکت کا باعث بن سکتا ہے لیکن اس وقت یہ کا بیک فائر مار سکتا ہے اس وجہ سے یہ معاملہ تعطل کا شکار ہے ۔ فلسفہ محبت کا مظاہرہ رات حیدر آباد کے عوام نے دیکھا کہ یہ دراصل فلسفہ منافقت ہے محبت نہیں ، حیدرآباد کی عوام پر حملہ کروانا دراصل اپنی بچی کچی ساکھ برقرار رکھنے کی آخری کوشش ہے اور یہ کوشش انشاء اللہ کامیاب نہیں ہو گی پی ایس پی قائدین کا یہ فیصلہ ہے کہ ہم عوام کو لڑنے نہیں دیں گے اور حالات خراب کرنے کی ہر سازش جس سے لندن قیادت کو تقویت ملے اسے ناکام بنا دیں گے اور شہری علاقوں کو کسی کی جاگیر نہیں بنے دیں گے ، سیاست کی آذادی ایک آئینی حق ہے اس پر کسی مافیہ کو مسط نہیں ہونے دیں گے علاقوں پر کسی کا راج یا قبضہ نہیں ہونے دیں گے اور فلسفہ محبت کی آڑ میں فلسفہ نفرت کا زہر نہیں پھیلنے دیں گے اور عوام کو لندن قیادت کے بارے میں سب کچھ بتاتے رہیں گے ،، یہ قافلہ کمال کا ہے اور کمال تک پہنچا کے دم لیں گے کسی ایک کارکن میں کسی قسم کے خوف کا عنصر نہیں ہے ۔ ہمیں پتہ ہے کہ تمام عوامی نمائندگی کے باوجود تم صفر ہو اور اس کی وجہ صرف تمہاری الطاف سے نسبت ہے اور جب یہ نسبت پاکستانی پرچم سے ہو جائے گی تو سندھ شہری کا وزیراعظم پاکستان کا حکمران بنے گا ۔ مہاجر قوم کسی شرابی کبابی زانی گھمنڈی مغرور فرعون صفت کو اپنا راہ نما نہیں مانتی اور ریاست پاکستان کی کی وفادار ہے اور کسی انڈین را کے ایجنٹ کا ایجنڈا تسلیم نہیں کرتی ہے اور اگر اس کام کو کرنے میں ریاست ہماری مدد کرے تو ہم کو اس مدد کے لینے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے ، جب انڈین را سے مدد لینے والے شرمندگی محسوس نہیں کر رہے تو ہم پاکستانی ادروں کو ہی پکاریں گے نہ کہ اقوام متحدہ کے سامنے پاکستانی اداروں کے خلاف مظاہرے کریں گے ، ہمارہ نعرہ پاک سرزمین شاد باد ،، کشور حسین شاد باد ۔
Labels: PSP PAKISTAN

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home