Monday, May 2, 2016

تھری ایڈیٹس

Altaf... Amir... Afaq

یہ جو تیتر بٹیر لڑ رہے تھے
ایک دوجے سے جھگڑ رہے تھے
وہ دھوکا تھا
ایک ناٹک تھا
جب لڑتے لڑتے ہوگئ گم
ایک کی چونچ ایک کی دم
تو پھر سے سر جوڑے بیٹھ گئے
جو ان کے کھیل تماشے میں
پکڑے گئے مارے گئے
ان کی صدائیں گونجیں گی
روحیں ان پر چیخیں گی
اپنے بھائیوں کی لاشوں پر
ان کے شانوں پر چڑھ چڑھ کر
پھر ہاتھ ملانے آئے ہیں
مل کر خون دھونے آئے ہیں
پہچان چکی ہے قوم انہیں
جان چکی ہے قوم انہیں
چلے ہوئے کارتوس ہیں یہ
قوم کے لیے منحوس ہیں یہ

Labels:

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home