Tuesday, June 28, 2016

ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے ایک سوال

ملیٹری اسٹیبلشمنٹ سے ایک سوال : سندھ کی سیاست میں سقوط ڈھاکہ کے بعد ایک تبدیلی لائی گئی اور یہ ضروری بھی تھی کہ ملک کا ایک حصہ جدا ہو چکا تھا ، پڑوسی انڈیا کے عزائم واضع ہو چکے تھے اور سندھ میں سندھودیش کی تحریک زوروں پر تھی ، پی پی پی کو لا کر قوم پرستوں کا توڑ کیا گیا اور پی پی پی کو ہٹانے کے لیے قومی اتحاد بنایا گیا اور مارشل لا دور میں قوم پرستوں کو سیاست دانوں پر سبقت دی گئی ،، جئے سندھ تحریک اور مہاجر قومی مومنٹ بنائی گئی اور ثانی الزکر کو عوامی مینڈٹ دلایا گیا جو بلدیاتی سے لے کر سینٹ تک ایک لمبا سفر تھا ۔۔ ایک موقع پر مہاجر قومی مومنٹ کو متحدہ بنوا کر اور پھر اس میں دو دھڑے بنوا کر عجب سیاست کی گئی جبکہ جنرل مشرف دور میں یو ٹرن لیا گیا اور اس متحدہ کو دوبارہ گلے لگایا گیا جس کی قیادت کی حب الوطنی مشکوک تھی اور ایڈھاک ازم جیت گیا ،، متحدہ کے راہنما ملک سے باہر رہ کر ملک کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے رہے اور ملک میں حکومت سازی میں حصہ دار رہے ،، بی بی سی نے پورا بھانڈہ بیچ چورہے پر پھوڑ دیا اور متحدہ اور انڈین را کے درمیان ساز باز اور منی لانڈر نگ کی کہانی افشاء کر دی اور ان انکشافات کو سرفراز مرچنٹ پیپرز نے مزید تقویت پہنچا دی ہے کہ انڈیا ہم سے کشمیر کی جنگ کراچی میں لڑ رہا ہے اور متحدہ کے قائد کو ایجنٹ بنا چکا ہے ۔۔ اس پس منظر میں پاکستان کا جھڈا اور قومی ترانے کی دھن کے ساتھ پی ایس پی کے راہنماء اپنی سابقہ قیادت کے خلاف گواہ بن کر کھڑے ہوئے اور چار ماہ میں ایک پاپولر قیادت کے طور پر ابھر رہے ہیں اور اس قیادت کو اور اس کے فالوورز کو اپنے لیے تھریٹ سمجھنے والی متحدہ کی قیادت اوچھے ہتھکنڈونوں اور جھوٹے پروپگنڈوں کے ذریعہ نقصان پہچانے کی کوشش کر رہی ہے اور متحدہ کا قائد بڑی بے باقی سے پاک فوج اور پاک سرزمین پارٹی کے لوگوں کی گردن مروڑنے کی کھلے عام ہدایات دے رہا ہے ،، کیا یہ اعلان جنگ نہیں ہے اور اگر اس کی ان کھلی دھمکیوں کو سنجیدہ نہ لیا گیا توکیا  سقوط ڈھاکہ کا کھیل شروع نہیں کر دیا گیا ہے اور اس مرتبہ ملک کی سالمیت کے خاطر پاک سرزمین پارٹی کے راہنماء آگے آگے نہیں ہیں اور اس قیادت کی حفاظت قومی سرمائے کی طرح نہیں کی جانی چاہیے اور متحدہ اور اسکے قائد پر فوری پابندی نہیں لگائی جانی چاہیئے ۔۔۔ ????? صابر جلیل ایڈوکیٹ ہائیکورٹ ۔۔ پی ایس پی میرپورخاص

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home