Thursday, June 30, 2016

امجد صابری کی شہادت پر کیا جلائوں موم بتی یا اگربتی

لاکھ کوشش بسیار کے باوجود جب متحدہ والے امجد فرید صابری کی میت کو کے کے ایف کی ایمبیولنس میں منتول نہ کروا سکے اور خدمت چھیپا کے حصہ میں آئی اور ہزار منتوں کے باوجود والدہ امجد نے فوٹو نہیں بنوایا اور ستار کے بیٹے فاروق خجل پاء ہوتے رہے تو اچانک مقید شیطان نے چٹکی لے کر آنکھ مار کر بولا " موم بتیاں جلائو " ڈبل فائدہ ہو گا  کہ لبرل بھی کہلائو گے اور امجد کے فین بھی مانے جائو گے تو پھر موم بتی جلائی گئی اور ایک منٹ کی خاموشی نے درود فاتحہ کی جگہ لے لی ، سیاست کی دکان بھی چمکا لی اور عوام کو بیوقوف بھی بنا دیا کہ امجد صابری ہماراکارکن تھا جبکہ صوفی ازم کے پیروکاروں کی کوئ سیاسی سوچ نہیں ہوتی بقول عبداللہ قوال ہم صوفی منش لوگ ہیں اور خانقاہی نظام کی پیدا وار ہیں ہمارا سب سے تعلق ہوتا ہے اور ہم سب کے ہوتے ہیں ۔ ۔صابر جلیل ایڈوکیٹ ، پی ایس پی میرپورخاص سندھ ۔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home