اب نہیں تو کب ۔۔ را ایجنٹس کے خلاف کاروائی کیوں ضروری
بس چند دنوں کی بات ہے یہ بھاگ جائیں گے ،، یہ تھا وہ جملہ جو متحدہ والے مسلسل اپنے کارکنوں کو پاک سر زمین کی قیادت کے بارے میں تسلیاں دیتے ہوئے کہتے تھے اور پھر چند مہینوں کا ٹائم دیتے نظر آئے لیکن پہ در پہ ڈسٹرکٹ کمیٹیوں کا اعلان اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کی شمولیت اور ملک سے باہر خاص طور پر لندن یو کے میں پاک سر زمین پارٹی کی مقبولیت نے اچھوں اچھوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ان کو ہلکہ نہ لو ۔ متحدہ کی پاکستانی قیادت کی باڈی لینگویج بتا رہی ہے کہ وہ پارٹی سربراہ کی طرف سے اداروں کے لیے بدزبانی کو زیادہ عرصہ تک فیس نہیں کر سکیں گے اور شوشل میڈیا پر لندن میں مقیم ٹیوٹر مافیہ کے اداروں کے مخالف ٹرینڈز کو مقامی قیادت انڈوزڈ کرتے ہوئے احتیاط کر رہی ہے ،، پاک سرزمین پارٹی اور پاک فوج کی اعلی قیادت کو یہ باور ہو چکا ہے کہ را کے اس ونگ کے خلاف اب نہیں تو کب کے مصداق آخری کیل ٹھونکنی واجب ہو گئی ہے ۔۔ دیر کرنے کی صورت میں متحدہ کے سلیپر سیلز اور را کے دیگر ذرائع متحرک ہو سکتے ہیں اور عوام کو ایک مرتبہ پھر کوئی بھڑکتا ہوا نعرا دے کر فساد کی آگ میں جھونک سکتے ہیں ، متحدہ کے غیر قانونی مالی ذرائع بند کیے جانے لازمی ہو گئے ہیں ،، بگڑتی ہوئی عالمی صورت حال ایک پر امن کراچی کا تقاضہ کر رہی ہے جس سے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاالقوامی طور پر حالات ساز گار ہونگے اور معشیت ترقی کرے گی ۔۔ہمیں اپنی عسکری قیادت پر اعتماد ہے اور پاک سر زمین پارٹی کی قیادت سید مصطفی کمال کی سربراہی میں اس شہر کراچی اور اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔ شب کو سنوارنے کا ہنر ہم پہ چھوڑ دو ۔۔ تم تھک چکے ہو اب یہ سفر ہم پہ چھوڑ دو ۔۔ صابر جلیل ایڈوکیٹ پی ایس پی میرپورخاص سندھ ۔

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home