Sunday, July 10, 2016

مہاجر نہیں ہیں ، ہم یہاں بس چکے ہیں پاکستانی ہیں

اردو قوم پورے پاکستان میں آباد ہیں ہر سیاسی پارٹی میں لیڈر بھی ہیں اور ووٹر بھی ،، پاکستان بنتے وقت یہ مسلم لیگی تھے پھر جے یو پی اور جماعت اسلامی سے وابستہ ہو گئے  تین صوبوں میں بسنے والوں نے کبھی اپنے آپ کو مہاجر نہیں کہلوایا اور ہمیشہ پاکستانی ہونے پر فخر کیا اور قربانی تو مشرقی پنجاب کی سرحد سے ہجرت کرنے والوں نے دی جو ٹرینیں خون سے رنگین کی گیئں ،، کھوکھراپار بارڈر سے اگر کوئی ٹرین سے گر کر شہید ہوا ہو تو نہیں کہہ سکتے باقی کئی خاندان تو اس بارڈر سے بار بار آئے اور گئے 1956 تک یہ سلسل چلتا رہا ،، پھر یہ مہاجر نام پر ہماری قیمت کم کر کے کس نے لگائی اور اس نام کے لگانے سے ہمیں کیا فائدہ ملا اور لیڈر نے خود اور اپنی فیملی کو کہاں سے کہاں پہنچایا ،، عظیم طارق نے جب اس راز سے پردہ اٹھانا چاہا کہ کسی نظریا کا کوئی وجود نہیں سب غبارہ کی ہوا اور آنکھوں میں دھول ہے تو انہیں اللہ کی امانت اللہ ہی کے سپرد کروا دیا ،، ہر ادرو بولنے والا شخص پاکستان میں بحیثیت پاکستانی قابل عزت وتکریم ہے اور اس کی مثال ریاست کا ایدھی صاحب کو دیا جانے والا پروٹوکول ہے اور زندوں میں ڈاکٹر ادیب الحسن کی عزت و احترام ہے ۔۔ متحدہ نے مہاجر نعرے کے ذریعہ اردو بولنے والوں کو اردو قوم کو کچھ نہیں دیا سوائے رسوائی کے ،، اگر موت کا ڈر نہ ہو تو بزدل ملک میں ہوں اپنوں کے بیچ ان کے غم میں شریک مگر یہ کسی صورت وطن نہیں آسکتے کہ ضمیر کا سودا تو دشمن ملک بھارت سے کر چکے ہیں ۔۔ جاری ہے

Labels:

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home