ایم کیو ایم اقتدار میں شمولیت کے لیے بے تاب ہے
ایم کیو ایم اقتدار میں شمولیت کے لیے بے تاب ہے ،، جب جب اقتدار کی بھوک پیاس بڑھتی ہے تو اسے پانے کے لیے احساس محرومی کا نعرہ لگایا جاتا رہا اور دینے والے جب مجبور تھے اور ا نکے اقتدار کی کرسی ایم کیو ایم کے سہارے پر تھی تو اس کے قائد نے احساس محرومی دور کرنے کے لیے کوئ کالج یونیورسٹی یا ہسپتال یا کوٹہ سسٹم کا خاتمہ یا محصورین بنگلہ دیش کی واپسی نہیں ما نگی ،، بلکہ مینڈٹ کو کیش کی صورت میں وصول کیا گیا ۔۔ اس بات کو نہ مانو صرف اتنا بتا دو سید مراد علی شاہ کے مقابلہ کے لیے متحدہ کے امیدوار نہ کھڑا کرنے میں قوم و ملک کی کونسی بہتری پنہاں تھی ۔۔۔ ڈری ہوئی پی پی پی اپنے عمر رسیدہ وزیر اعلی کی تبدیلی نہیں کر پا رہی تھی کہ ان کے اندر ایک گروپ بن چکا تھا اور 85 اور 50 کے درمیان کا فرق کچھ زیادہ نہیں تھا ۔۔ مگر مگر واہ رے قائد تیری کرامت کہ تو نےصوبہ کا وزیر اعلی بڑی آسانی سے بنوا دیا اور ویہل چیئر کو گھما کر دونوں ہاتھوں سے تالی مار کر دیدے گھما کر دائیں بائیں بیٹھے نو رتنوں سے مخاطب ہوا کہ ،، کیسا دیا ،، سب نے جواب دیا جی بھائی مزا آگیا ، یہ قوم ہے ہی اس قابل کہ اسکا سودا بھی سر بازار اور بار بار کیا جائے اور بعد میں تم کو ہی انہیں لوگوں کے خلاف بھوک ہڑتال پر بٹھا دیا جا ئے جن کا وزیر اعلی بنوا کر دیا تھا ،،، واہ رے اندھی تقلید کے رسیا لوگو ۔۔ واہ حق پرستی کا نعرہ مارنے والوں تمہیں بار بار خیالی سونے کی چڑیا دکھا کر تمہاری بار بار طہر کرنے والے صحیح کرتے ہیں کہ تم ہو ہی اس قابل کہ ایک ہی سوراخ سے مسلسل ڈسوائے جارہے ہو پر ہوش میں نہ آنے کی قسم کھا لی ہے تم نے ،،،، ٹھیک ہے نہ مانو اور نہ پڑھو دیوار کا لکھا پر وقت قریب ہے کہ جان جائو گے کہ سراب کے پیچھے بھاگتے رہے ہو ۔
Labels: PSP PAKISTAN

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home