را ایجنٹ کے ذریعہ اقتصادی راہداری منصوبہ پامال کرنے کی سازش میں ایم کیو ایم قیادت کا کردار
متحدہ قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم کی قیادت کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے ملک کے اندر اور بیرون ملک پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، اس سلسلے میں انسانی حقوق کی بین القوامی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماتحت اداروں اور چند ممالک کے سفارت خانوں کو یادداشتیں پیش کی جا رہی ہیں ۔ سابق سفیر حسین حقانی اور واجد شمس الحسن اس سلسلہ میں متحدہ قائد اور لندن میں مقیم چار کے ٹولے کے مشیر ہیں ۔ کشمیر کے تنازعے سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے بھارت کا ایجنٹ الطاف کراچی کے معاملات کو مقبوضہ کشمیر کی طرح پیش کر رہا ہے اور پاک رینجرز اور عسکری اداروں کے کردار کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے ،، اس سلسلہ میں شوشل میڈیہ کے ذریعہ پروپیگینڈا بھی کیا جاتا ہے اور یہ کام لندن میں ندیم نصرت ، مصطفی عزیزآبادی ، واسع جلیل انجام دے رہے ہیں جس کو پاکستان میں مقامی قیادت انڈوزڈ کر کے شیئر اور ٹیویٹ کرتی ہے اور یہ پوسٹ تقریبا بغاوت اور احساس محرومی کا رجہان پیدا کر رہی ہیں ۔ جیسے ایک نئی پوسٹ میں مہاجر وزیر اعلی نہ بنائے جانے کا رونا رویا گیا ہے حالانکہ شہری عوام کے مینڈٹ کا متواتر سودا بھی خود لندن میں مقیم قیادت ہی کرتی رہی ہے ۔ اور ہر سودا کیش کی صورت میں رقم کی وصولی پر ختم ہوتا رہا ہے ۔ پاکستان میں حامد میر اور قادیانی لابی متحدہ کو سپورٹ کر رہی ہیں جبکہ پی پی پی کی اعلی قیادت صوبائی سطح پر اور پی ایم ایل این کی قیادت اسحاق ڈار کے ذریعہ متحدہ کو انگیج رکھ کر کسی نازک وقت پر استعمال کرنے کے موڈ میں ہیں ۔ پاک چائینہ ایکونامک کوریڈور جیسے بڑے مسئلہ ہو یا دہشت گردی جیسا عفریت یا انٹیلیجنس حملوں سے بچائو ہر ایک سے نبٹنے کے لیے عسکری اداروں نے ہی بیڑا اٹھایا ہوا ہے اور ان چیلینجز سے توجہ ہٹانے کے لیے متحدہ کا قائد ایک اسٹرٹجی کے ساتھ سندھ شہری کے عوام کو بغاوت پر آمادہ کرنے کے لیے مسلسل تقریر کر رہا ہے اور پبلک کو اکسا رہا ہے کہ یا تو کراچی کو دوبارہ متحدہ کے ہاتھوں یرغمال بننے دو یا پھر روز احتجاج اور دھرنوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہو ۔ اس ہمہ جہت صوتحال کا تقاضہ ہے کہ ایک لائین آف ایکشن ترتیب دے کر قوم کو اعتماد میں لے کر میڈیہ کو بریف کر کے دشمن پر اٹیک کیا جائے اور مہلت نہ دی جائے ۔ اصل پالیسی ساز غداروں کا سر کچل دیا جائے اور عام عوام جو حقیقت حال سے ناواقف ہیں اور سطحی معلومات رکھتی ہیں ان کو نہ چھیڑا جائے تو مسئلہ جلد ہو گا ورنہ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں کرمنلز اور مافیاز اپنی اسپیس بنا لیں گی جس سے آپرشن وطن پرست متاثر ہو گا اور پاکستان کو اقتصادی راہداری کی تکمیل میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا جو کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہونا چاہیے ۔ صابر جلیل ایڈوکیٹ ہائیکورٹ پی ایس پی میرپورخاص ۔
Labels: PSP PAKISTAN

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home