اویس شاہ بازیابی سے اسد کھرل کی گرفتاری تک، دھماکہ خیز انکشافات سامنے آگئے
اویس شاہ بازیابی سے اسد کھرل کی گرفتاری تک، دھماکہ خیز انکشافات سامنے آگئے
اسد کھرل نے انکشاف کیا ہے کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس سید سجاد علی شاہ کے صاحبزادے اویس شاہ کے اغواءمیں آصف علی زرداری اینڈ کمپنی ملوث ہے، حساس اداروں کی جانب سے حیدرآباد سے حراست میں لئے جانیوالے محمدعلی عرف اسد کھرل نے اویس شاہ اغواءکیس میں مرکزی کردار ادا کیا۔
ذرائع نے تہلکہ ٹی وی کو بتایا کہ اویس شاہ کو عیدتک کراچی میں دومقامات پر رکھا گیا اور ان کے اغواءمیں محکمہ داخلہ حکومت سندھ کی سرکاری گاڑی استعمال کی گئی ۔اویس شاہ کو پہلے ایک گھر میں رکھا گیا جس کا ایک دروازہ ڈبل روڈ کی طرف کھلتا ہے جبکہ دوسرا دروازہ ایک گلی کی طرف کھلتا ہے اور اس گھر کے باہر سکول کا بورڈ بھی آویزاں ہے۔ دوسرا مقام جہاں پر اویس شاہ کو رکھا گیا وہ کراچی کا وہ سائٹ ایریا ہے جہاں زرداری اینڈ کمپنی نے قبضہ کرکے مذکورہ پراپرٹی کوایک خاتون کے نام ٹرانسفر کروایا ہے ۔
اویس شاہ کو بلیک شیشوں والی گاڑی جس کے پیچھے ایک پولیس کا ڈبل کیبن ڈالا تھا کے ذریعے کراچی سے لاڑکانہ منتقل کیا گیا، اویس شاہ کو کالے شیشوں والی کار اور پیچھے پولیس ڈبل کیبن میں لے کر اسد کھرل پھرتا رہا ۔ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اویس شاہ کے اغواءمیں اسد کھرل نے اہم کردار اداکیا جو صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کے بھائی طارق سیال کا فرنٹ مین ہے ۔
دوران تحقیقات حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں کہ اسد کھرل نے اویس شاہ کو محسود قبیلے کے متنی گروپ کو فروخت کیا اور اس سلسلے میں ابتدائی رقم 16 کروڑ روپے وصول کی جس میں کیش کے علاوہ ایچ بی ایس سی بینک کی دبئی برانچ کے دو عدد چیک اور ایک چیک اے بی ایل بینک بھی شامل تھا ۔
چونکا دینے والاانکشاف یہ سامنے آیا کہ اویس شاہ کو لاڑکانہ سے سندھ کی سرحد تک سندھ پولیس کی سکواڈ کے ساتھ لے جایا گیا ۔ جہاں محسود قبیلے کے متنی گروپ نے اسے وصول کرکے ٹانک شفٹ کیا۔ جہاں سے اویس شاہ کو افغانستان منتقل کرناتھا لیکن حساس اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ٹانک سے اویس شاہ کو اس وقت بازیاب کرلیا ۔ جب اغواءکار اسے افغانستان منتقل کرنے کےلئے ٹانک سے روانہ ہوچکے تھے اس دوران مقابلے میں تین اغواءکار بھی مقابلے میں مارے گئے۔ اویس شاہ کو افغانستان پہنچانے کا مقصد حساس اداروں کو گمراہ کرنا تھا تاکہ تحقیقات میں پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کا نام نہ آئے اور الزام طالبان پر عائد کیا جائے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا تھا کہ سپلینٹر گروپ اغواء میں ملوث ہے، محسود قبیلے کا متنی گروپ تحریک طالبان پاکستان کا سپلینٹر گروپ ہی ہے۔
اویس شاہ کے اغواءکے فوری بعد ہی حساس اداروں کو علم ہوگیا تھا کہ اس اغواءکے پیچھے آصف علی زرداری گروپ کا ہاتھ ہے اور اسد کھرل نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اسی بنیاد پر رینجرز اور حساس ادارے نے لاڑکانہ میں اسد کھرل کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا تھا۔ جس کا مقصد نہ صرف اویس شاہ کی بازیابی بلکہ اویس شاہ کو فروخت کرنے کے عوض 16کروڑ روپے کی رقم جس میں 3عدد چیک بھی شامل تھے کو بھی برآمد کرنا تھا۔ اسد کھرل کی گرفتاری سے تمام حقائق سامنے آنے کے خدشہ کے پیش نظر اسد کھرل کو رینجرز سے زبردست مزاحمت کے بعد ناصرف چھڑوالیا گیا بلکہ سی آئی اے پولیس کی گاڑی میں اسے فرار کروادیا گیا تھا۔
کچا چٹھا کھلنے کے خوف سے آصف علی زرداری نے صوبائی وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیرداخلہ سندھ کو خصوصی ٹاسک دیا ہے کہ ہر صورت میں اسد کھرل کو سندھ پولیس کے حوالے کرنے پر اصرار کریں۔ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے حوالے سے بھی وفاق کو شرط رکھی گئی ہےکہ اسد کھرل کو سندھ پولیس کے حوالے کریں۔ صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے آج سندھ کے تمام ڈی آئی جیز اور آئی جی سندھ کا اجلاس بھی طلب کیا جو اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
واضح رہے بے نظیربھٹو کو قتل کروانے کےلئے محسود قبیلے کے اسی متنی گروپ نے خودکش بمبار راولپنڈی بھجوائے تھے جس کے عوض انہوں نے تیس کروڑ روپے کی رقم حاصل کی جو کراچی کے ایک پولیس افسر کے ذریعے محسود گروپ تک پہنچی ۔یہ انکشاف اکرام اللہ محسود نے کیا جوکچھ عرصہ سے ایک ادارے کی تحویل میں ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ رینجرزکو فوری طور پر تمام حقائق منظر عام پر لانے سے روک دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس سے تفتیش پر اثر پڑ سکتا ہے اور شہادتیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home