ہجرت تو اجداد کی شناخت تھی ہم تو اس ملک میں بس چکے ہیں ۔
ہمارے اجداد مہاجر تھے ، ہم تیسری نسل کے لوگ ہیں ہم پاکستان میں بس چکے ہیں ہمیں پاکستانی کہا جائے اردو بولنے والا سندھ کا باشندہ یا پنجاب کا باشندہ کہا جائے ۔۔ ہمارے مہاجر اجداد کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے اور ہمارہ استقبال کرنے والوں کو انصار مدینہ سے مشابہت دی جائے لیکن ہماری تیسری نسل کو اب بھی مہاجر کہو گے تو بھائی ان سندھ کے ٹکڑے کرنے والوں کے نعرے کو تقویت ہو گی جو ایک زبان میں سندھ کو دھرتی ماں کہتے ہیں اور دوسرے سانس میں علحیدگی کا نعرہ اور مقبوضہ کراچی کا استعارہ استعمال کرتے ہیں ۔۔ بر صغیر کی تقسیم کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں کی بڑی تعداد نے مشرقی پنجاب کے بارڈر سے ہجرت کی تھی اور سب سے زیادہ قربانیاں اس بارڈر پر ہوئیں تھیں ،، لیکن پنجاب میں بسنے والوں نے اپنے آپ کو وہاں کے لوگوں میں ضم کر لیا کہ ان کی اپنی ذات اور قبیلے کی شناخت آج تک برقرار ہے ۔۔ لیکن سندھ کے معروضی حالات نے اور سیاست دانوں کی پھیلائی جانے والی نفرتوں نے یہاں شہری اور دیہی کی تقسیم پیدا کر دی جو کہ اب وقت کے ساتھ قربت میں تبدیل ہو رہی ہے جس کی مثال سندھ اور مہران یو نیورسٹیز میں لسانی تعصب سے پاک ماحول سے دی جا سکتی ہے ۔۔ بلا شبہ اس ماحول کو بنانے میں اداروں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ پہلے جو ہاسٹلز طلبہ کی آڑ میں مجرموں کو پناہ دیتے تھے اب بالکل پاک ہو چکے ہیں اور اس ماحول کو برقرار رکھنے میں یونیورسٹی کی انتظامیہ ، سندھی دانشور کے ساتھ سندھ رینجرز کا بھی ہاتھ ہے ۔ ایم کیو ایم نے مہاجر نعرہ کو استعمال کر کے شہری علاقوں کا مینڈٹ حاصل کیا اور اردو بولنے والوں کو سہانے مطالبات پورے کروانے کے خواب دیکھائے گئے مگر تاریخ گواہ ہے کہ کوئی ایک مطالبہ پورہ نہیں کروا سکی ہے یہ جو ساٹھ فیصد دیہی اور چالیس فیصد شہری کا فارمولا طے ہوا تھا یہ ایم کیو ایم سے پہلے کی شہری قیادت نے طے کروایا تھا ،، ایم کیو ایم کو جب بھی موقع ملا اس نے اپنے مینڈٹ کو کیش کی صورت میں ملک سے باہر وصول کیا اور چند ملازمتوں کے حصول کو کامیابی باور کروایا ۔۔ شہری باشعور عوام جس نے اپنا ابتدائی مینڈٹ جماعت اسلامی اور جے یو پی کو دیا تھا اور ڈلیور نہ کرنے پر یہ مینڈٹ ایم کیو ایم کو دیا تھا اب ایم کیو ایم سے نالاں ہو گئی ہے اور الیکشن میں ووٹ کے لیے باہر نہ نکل کر عندیہ دے رہی ہے کہ اب اس کی پسند بدل رہی ہے جسکا اظہار عوام اگلے جنرل الیکشن میں کر دیکھائے گی ۔۔ پاک سرزمین پارٹی نے سندھ شہری ہی نہیں بلکہ سندھ دیہی کو اور پورے پاکستان کو ایک وطن پرستی کا پیغام دیا ہے اور کم وقت میں عوام کی توجہ حاصل کر لی ہے ،، امید ہے کہ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں اس پارٹی کا مستقبل روشن ہوگا اور نظام کو بدلنے کی خواہش رکھنے والی اس پارٹی کی قیادت عوام کی مزید حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی ۔۔ صابر جلیل ایڈوکیٹ پاک سرزمین پارٹی میرپورخاص
Labels: PSP PAKISTAN

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home