ہارن نہ بجائیں ۔۔۔ ریاست سو رہی ہے ،
ہارن نہ بجائیں ۔۔۔ ریاست سو رہی ہے ، کیا واقعی ریاست نے سقوط ڈھاکہ کے بعد کوئی ایسا لائحہ عمل بنا لیا ہے کہ اب ایسے سانحے ظہور پزیر نہیں ہونگے اور ملکی جغرافیہ میں کوئی انچ برابر بھی تبدیلی لانا ممکن نہیں رہا ، کیا ریاست ہے یا ہے ہی نہیں ?? ریاست کیا ہے اسکے اجزائے ترکیبی کیا ہیں اور کیا ہمارے اردگرد کے ممالک بھی ریاستی وجود رکھتے ہیں ،، کیا کسی بھی ریاست کا آئین اس ریاست کے جسم میں روح کی مانند ہوتا ہے ،، کیا حکومتوں کی تبدیلی سے ریاست کے خدوخال میں آئین سے فرار کے زریعہ تبدیلی لائی جاتی ہے ۔۔ کیا پاکستان صرف اس لیے ایک جغرافیائی حقیقت ہے کہ اس کے چاروں طرف حقیقی جغرافیائی ملک بستے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ہمیں اپنے اندر سمونے کی غلطی نہیں کرنا چاھتا اور ایسا کرنے سے ان کا کیا نقصان ہو سکتا ہے ۔ ملک میں چلنے والی باغیانہ تحریکیں اور ان کو کائونٹر کرنے کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہو رہی ہیں ? کیا یہ جدا جدا تحریکیں ملک سے باہر ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملا رہیں ہیں ،، وہ کون کون سے ممالک ہیں جو اس باغیانہ سوچ کو تقویت دے رہے ہیں اور فنڈنگ کر رہے ہیں ،، کیا چین ہماری اتنی مدد کر رہا ہے جتنی ہمیں ضرورت ہے یا جس شعبہ میں ہمیں ضرورت ہے ،، کیا ایران سے ہمارہ آر سی ڈی والا رشتہ برقرار ہے یا وہ بھی بھارت کی جانب جھکائو رکھتا ہے ، کیا بھارت سے تجارتی تعلقات صرف عسکری حکومت ہی قائم کر سکتی ہے جمہوری نہیں ،، مسئلہ کشمیر فلسطین شام عراق کی طرح امت مسلمہ کا مسئلہ کیوں نہیں ہے ۔۔ کیا کراچی سندھ نہیں ہے یا سندھ پاکستان نہیں ہے ، کیا کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی نہیں ہے ، کیا فوج یک لسانی فوج ہے ،، کیا قوم وفادار نہیں ہے صرف ادارے وفادار ہیں ، کیا ملک میں کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں میرٹ ہے ،، کیا مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوتا یا میں دوسرے افراد اور اداروں کو غلط سمجھتا ہوں اور اپنے آپ درست ۔ کیا ملک کی سیاسی جماعتیں اور خاص طور پر تین بڑی پارلیمانی جماعتیں محب وطن نہیں ہیں، کیا صرف عسکری اداروں کی وجہ سے ملک چل رہا ہے ،، کیا آج کے غدار کل کے حاکم نہیں بن جاتے اور ان کو این او سی کون دیتا ہے ،، کیا دنیا کے کسی اور ملک کی صورتحال ہم سے ملتی جلتی ہے یا ہم اپنی مثال آپ ہیں ۔۔ کیا ہمارے علماء کرام اپنے منصب کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ،، کیا پاک فوج ہمارے ملک کا واحد منظم اور مستحکم ادارہ نہیں ہے ، کیا فوج ہماری نہیں ہے ، کیا ہم سب کو مل جل کر نہیں چلنا چاہیے ،، کیا وطن سے بڑھ کر کوئی اور شے ہو سکتی ہے ، کیا نئے معاہدہ عمرانی کی ضرورت نہیں ہے ، کیا وطنیت اور ولدیت تبدیل ہو سکتی ہے ،، کیا ان کیا کا جواب ملے گا ،، ???????? بس بس ہارن نہ بجائو ۔۔ ریاست سو رہی ہے ۔۔
Labels: PSP PAKISTAN

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home