ایم کیوایم کی قیادت کس کی جھولی میں گرے گی ۔
ایم کیو ایم کی لیڈر شپ کےامیدوارکون کون ہو سکتے ہیں ۔۔ 1 . فاروق ستار 2. خالد مقبول 3. عامر خان ان کے علاوہ دو افراد اور جنکو ہم عشرت العباد اور وسیم اختر کے نام سے جانتے ہیں ۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب وہ وقت آچکا ہے کہ الطاف کا جانشیں چنا جائے اور وہ بھی الطاف کی مرضی کے بغیر کیا یہ ممکن ہے ۔۔ ان پانچ ناموں میں سے کون ایک شخص ایسا ہو سکتا ہے جو الطاف کے کہنے پر کسی جنرل کو کھلے عام گالی بک سکتا ہو یا ملک کو ناسور کہ سکتا ہو اور اپنے آپ کو محفوظ بھی رکھ سکتا ہو تو اس سوال کا جواب ہو گا کہ ان پانچ میں سے الطاف کی نظر میں کوئی بھی نہیں ۔۔ تو پھر کون ہو سکتا ہے جو الطاف کی گدی سنبھال سکے تو اسکا جواب دو طرح سے دیا جا سکتا ہے کہ الطاف کی زندگی میں اس پارٹی کو الطاف کے سوا کوئی دوسرا نہیں چلائے گا اور الطاف کے بعد جو نائن زیرو پر قابض ہوگا وہ ہی اس پارٹی کو چلائے گا ۔۔ ملک سے باہر ندیم نصرت کے علاوہ بابر غوری بھی ہیں جو الطاف کے قریب ہیں لیکن اگر ملک کے اندر سے ایک نام اور باہر سے ایک نام لینا ہو تو الطاف کی ذہنیت کے اعتبار سے عامر اور ندیم نصرت ہی ان کی چوائس بنیں گے ۔۔ کہ باقی لوگ اپنی ذاتی شخصیت بھی رکھتے ہیں جو کہ الطاف کے لیے نا قابل برداشت ہے ۔۔۔ الطاف کی قید زندگی سے رہائی کے بعد فاروق ستار ، عشرت العباد کا معاشقہ چلے سکتا ہے اور دونوں ملکر اس پارٹی کو چلا سکتے ہیں کیونکہ 22 اگست کی رات گورنر ہائوس کا فاروق ستار پر بڑا احسان ہوا ہے ،،،،، اب ان دونوں کی وسڈم کا امتحان ہوگا کہ یہ پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ اپنا الحاق کس طرح کریں گے یا مینڈٹ کی تقسیم کا تماشہ دیکھیں گے ۔۔۔۔ یایہ بھی ممکن ہے کہ الطاف کی کوئی نئی تقریر ایم کیوایم کے تابوت میں چوتھی کیل ثابت ہو ۔کہ۔ اگر میں خود نہیں رہوں گا تو ایم کیوایم بھی نہیں رہے گی کی سوچ اس تحریک کے بانی و قائد پر غالب آجائے ۔۔ بلاشبہ سیاست میں پلک جھپکنے میں کھیل بدل جاتا ہے ۔۔اس مرحلے پر پاک سرزمین پارٹی کی قیادت نے شہری مینڈٹ کو یکجاء رکھنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کر دیا ہے اور بہت کم عرصہ میں ایک فعال جماعت کا کردار ادا کر دیکھایا ہے جو کہ شہری مینڈٹ کو بکھرنے سے بچا سکتا ہے ۔۔۔
Labels: PSP PAKISTAN

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home