بحوالہ آپکی قومی اسمبلی میں جمع شدہ قرارداد برائے ادائیگی تنخواہ،ہمارا احوال بھی ملاحظہ ہو۔
Muhammad Tauqeer
mtauqir786@gmail.com
Hide details
To:
asad.umar@insaf.pk
Date:
August 27, 2016, 4:59 PM
السلام علیکم!
مکرمی!
بحوالہ آپکی قومی اسمبلی میں جمع شدہ قرارداد برائے ادائیگی تنخواہ،ہمارا احوال بھی ملاحظہ ہو۔
پی.ٹی.سی.ایل پنشنرز پر جاری 7 - سالہ ظلم و استبداد کی داستان آپ کے گوش گزار ہے.
1-پاکستان ٹیلی گرافس و ٹیلیفون ڈیپاڑٹمنٹ حکومت پاکستان کا ایک ادارہ تها جو ملک بهر میں ٹیلیکمیونیکیشن سہولیات کی فراہمی کا ذمہ دار تها.1991 تک یہ ادارہ اسی حیثیت میں کام کر رہا تها.
2-سن 1991 میں ادارے کو بعینہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ ادارے کے تمام ملازمین اپنی سابقہ حیثیت یعنی "سول سرونٹ " کے سٹیٹس کے ساته "ڈیپارٹمنٹل ایمپلائز " کی تعریف کے تحت کارپوریشن میں منتقل ہوگئے.
3-پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ1996( ایکٹ آف پارلیمنٹ ) کے تحت پی ٹی. سی کو پانچ اداروں PTCL, PTET, FAB,NTC اور PTA میں تقسیم کر دیا گیا اور ملازمین کوانکی سابقہ حیثیت کے تحت "ٹرانسفرڈ ایمپلائز " کے نام سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ میں منتقل کر دیا گیا.پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 کے آرٹیکل 35،36 کے تحت ان کی شرائط و حقوق کو تحفظ دیا گیا.
3.پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 کے تحت ان ملازمین کی پنشن ادائیگی کے لئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ (پی.ٹی.ای.ٹی ) کا قیام بهی عمل میں آیا اور یہ ادارہ حکومت پاکستان کے اعلانات کے عین مطابق اپنے قیام سے لیکر 14-سال تک یعنی 2010 تک تمام ادائیگیآں بلا حیل و حجت کرتا رہا.
4-سن 2005 میں پی.ٹی.سی.ایل کے 26 فیصد حصص کی نیلامی عمل میں آئی اور اتصالات بلند ترین بولی دینے کے نتیجے میں پی.ٹی.سی.ایل کے انتظامی کنٹرول کی حقدار قرار پائی. ستم یہ کہ ایک نئے معاہدے کے تحت پی.ٹی.سی.ایل کی تمام تر جائیداد بهی اتصالات کے نام منتقل کر دی گئی اور اس منتقلی کے محصولات حکومت پاکستان نے ادا کئے اس مقصد کے لیے حکومت پاکستان نے پرائیویٹائزیشن کمیشن کے ذریعے صوبوں کو قرض دیا.
5-معاہدہ خریداری حصص کے تحت تمام ملازمین/پنشنرز کے حقوق نجکاری سے قبل ان کے حقوق کے مساوی قرار دئیے گئے جو کہ سول سرونٹ کے مساوی تهے.مذکورہ معاہدے کی ضامن حکومت پاکستان ہے.
6-نجکاری کے بعدبهی سن 2010 تک پی.ٹی.ای.ٹی تمام حکومتی اعلان کردہ اضافہ جات پنشنرز کو ادا کرتا رہا.لیکن 2010-11کے حکومتی اعلان کردہ سالانہ اضافہ پنشن و میڈیکل الاءونس میں پی.ٹی.ای.ٹی نے قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تخفیف کردی جبکہ میڈیکل الاءونس دینے سے قطعی انکار کر دیا.
7-پی.ٹی.سی.ایل پنشنرز نے اس ظلم کے خلاف ملک بهر میں احتجاج کیا لیکن میڈیا کے کوریج نہ دینے کے باعث بے بس ہوگئے.ارباب اقتدار اور سیاسی قیادت کی عدم توجہی کے باعث پی.ٹی.سی.ایل پنشنرز کے پاس عدالتی چارہ جوئی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا.
8-پی.ٹی.سی.ایل پنشنرز نے پشاور واسلام آباد ہآئی کورٹس میں مقدمات دائر کئے اور ایک طویل اور صبر آزما سفر کے بعد عدالتوں سے سرخرو ہوئے.لیکن حکومت کی ملی بھگت سے کمپنی نے عدالتی فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر دیں اور ایک مرتبہ پھر صبر آزما مشق کے بعد پنشنرز عدالت عظمٰی سے بهی سرخرو ہوئے.عدالت عظمٰی نے اپنے 12-جون 2015 کے فیصلے میں پی.ٹی.سی.ایل پنشنرز کو حکومتی نوٹیفکیشنز کے مطابق تمام رکی ہوئی مراعات دینے کا حکم دیا.
9-لیکن پی.ٹی.سی.ایل پنشنرز کی ابتلا ابهی بهی ختم نہیں ہوئی اور کمپنی کے ساته ساته ہمارے حقوق کی ضامن حکومت پاکستان بهی نظرثانی اپیلوں میں پنشنرز کے خلاف عدالت میں فریق بن گئی.ارباب اقتدار ترقیاتی و غیر ترقیاتی منصوبوں پر کهربوں روپے خرچ کر رہے ہیں لیکن یہ شاید بهول گئے ہیں کہ حقدار کا حق مارنے کا عذاب بہت سخت ہے جسکا وعدہ ہے.
دعا گو !
محمد توقیر
Labels: ptcl penssioners case

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home