Friday, October 14, 2016

واسع جلیل بزدلوں کے شہنشاہ

واسع جلیل بزدلوں کے شہنشاہ

۹۲ آپریشن کے وقت اے پی ایم ایس او کے سیکٹر انچارج تھے۔ کڑے وقت میں مرکزی کمیٹی دیگر ذمہ داران کے ساتھ انہیں بھی ڈھونڈتے رہی لیکن موصوف مہاجروں کو آزادی دلانے امریکہ فرار ہو گئے اور ۹۶ میں بینظیر حکومت کے خاتمے کے بعد ہی ۹۷ کا الیکشن لڑنے کے لیئے پاکستان واپس آئے

ڈاکٹر صغیر انصاری کی جیل کے آرام دہ سفر سے واپسی کے باعث امریکہ میں مہاجر قوم کے لیئے ۵ سال صعوبتیں برداشت کرنے والے واسع جلیل کو ایم پی اے کی سیٹ تو نہ ملی لیکن حکومت میں آتے ہی پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن اور ایم کیو ایم ایمپلائمنٹ سیل کے بد عنوان اور اقربا پروری میں بدنام ترین انچارج بن گئے۔ چونکہ موصوف رابطہ کمیٹی اور تنظیمی کمیٹی کے بہادر رکن بھی تھے اس لیئے غریب کارکنان محض ۵-۷ گریڈ کی نوکری یا نوکری کا آسرے پر ہی ٹرخائے جاتے رہے اور ان کی سربراہی میں نوکریاں فروخت ہوتی رہیں اور بندر بانٹ ہوتی رہی۔ اپنے دوستوں کے گھروں میں ۱۷ گریڈ کی ۲-۲ نوکریاں دینا تو معمولی بات تھی، شہنشاہ نے اپنے کو۔آرڈینیٹرز کو بھی ایک ساتھ ۲-۲ نوکریاں بخشیش کے طور پر بانٹیں۔
چونکہ شہنشاہِ بزدلان پی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی تھے اور اسوقت ۹۰ پر بھی ہوتے تھے، انہوں نے قائد کے گھر کے بالکل سامنے ہی بوجوہ شادی فرما لی۔
ساتھیوں کو یاد رہنا چاہیئے کہ ۹۷-۹۸ میں کئی بار حالات خراب ہونے کی جانب جاتے رہے اور ہر بار شہنشاہ سلامت پہلی فلائٹ سے لندن جا کر ظالم اسٹیبلشمنٹ سے لڑنے کی تیاری کرتے رہے، جونہی حالات بہتر ہوتے موصوف مال بٹورنے اور نوکریاں بیچنے کے لیئے کراچی کی فلائٹ پکڑ لیتے۔

۹۸ میں گورنر راج لگتے ہی واسع جلیل نے مہاجر قوم کو بالکل مایوس نہیں کیا اور کراچی میں مظاہروں، ہڑتالوں، گرفتاریوں سے بچنے کے لیئے فی الفور لندن جا کر مہاجروں کو نت نئے نعروں سے بہلاتے رہے۔ اس بار یہ صاحب اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ لندن میں حالات کی صعوبتیں جھیلنے پہنچے تھے۔ اور یہ سلسلہ ۲۰۰۳ کے آخر تک جاری رہا، جب تک یہ یقین نہیں ہو گیا کہ ایم کیو ایم پرویز مشرف کی حکومت کا مستقل حصہ ہے یہ واپس نہیں آئے۔

۲۰۰۵ کے بلدیاتی انتخابات کے بعد انقلابی لیڈر گلشن اقبال کے ٹاؤن ناظم بنائے گئے۔ اس ۵ سالہ دور میں انہوں نے کوئی تنخواہ، مراعات نہیں لیں، ہاں بس پہلے دن سے گلشن ٹاؤن کی سڑکوں کا ٹھیکہ اپنے خاص دوست کو دیا۔ واضح رہے کہ گلشن ٹاؤن کا سالانہ ترقیاتی بجٹ ایک سے ڈیڑھ ارب روپے تھا، یعنی ۵ سال میں ہوا ۶-۷ ارب، چھ۔سات سو کروڑ۔ اب لگا لیں سات سو کروڑ میں عزت دارانہ ٹاؤن ناظم کمیشن تو وہ ۵ فیصد پر بنتا ہے ۳۵ کروڑ روپے، لیکن جب آپ رابطہ کمیٹی کے رکن ہوں، لندن کے خاص ہوں اور سب سے بڑے اور سڑکوں کے ٹھیکے آپ کے خاص دوست کے پاس جاتے ہوں تو یہ رقم کم از کم دوگنا ہو جاتی ہے یعنی ۷۰-۸۰ کروڑ روپے۔ اب آجائیں گلشن اقبال ٹاؤن میں سرکاری زمین اور گرین بیلٹ پر بنائے جانے والے شادی لانز، فٹ پاتھوں پر بنائے جانیوالے اسٹالز، ٹاؤن کی حدود کے اشتہارات گلشن اقبال، گلستان جوہر میں ہونے والی چائنا کٹنگ میں بھر پور حصہ، یہ سب ملا کر غریب مہاجروں کے غم میں لندن میں بیٹھ کر سوشل میڈیا انقلاب لانے والے واسع جلیل ۱۲۰-۱۵۰ کروڑ روپے (سوا سے ڈیڑھ ارب روپے) بٹور کر لے گئے۔

۲۰۱۳ تک انتظار کرتے رہے کہ کب بلدیاتی نظام آئے کیونکہ امریکی شہریت رکھنے کی وجہ سے یہ سینیٹر، ایم این اے، ایم پی اے نہیں بن سکتے تھے اور دوسروں کو قربانی کا درس دینے والے اپنا امریکی پاسپورٹ تک نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ اس دوران قائد کے تقریروں کو بند کمرے میں بیٹھ کر برا بھلا کہنے اور لندن جاتے ہی جی بھائی جی بھائی کہنے کی منافقت کرتے رہے۔

۱۱ مارچ ۲۰۱۵ کو ۹۰ پر پڑنے والے چھاپے کے فوراً بعد ۹۰ آئے لیکن رابطہ کمیٹی سے میڈیا کو دیکھنے والے بہادر واسع جلیل رینجرز کے چھاپے اور وقاص شاہ کی شہادت پر کسی ٹی وی چینل پر آ کر ایک لفظ بھی نہ پھوٹ سکے۔ جونہی انہیں علم ہوا کہ چھاپے میں ان کا دستِ راست اسد (جو ایمپلائمنٹ سیل سے ٹاؤن نظامت تک ان کا فرنٹ مین رہا ہے) گرفتار ہوگیا ہے، سچائی کے پیکر واسع جلیل جو کہ اب بھی ایک ارب سے زیادہ کی آسامی تھے، ڈاکٹر نصرت سے ۲ لاکھ روپے مانگ کر ۹۰ سے گئے کہ ایک کام سے جا رہا ہوں اور لندن اترنے کے بعد ہی کراچی کی طرف مڑ کر دیکھا۔

رینجرز آپریشن کی سختیوں پر لندن سے بیٹھ کر بیان جاری کرتے رہے لیکن سخت ترین حالات میں پوری تنظیم بلدیاتی الیکشن لڑتی رہی اور
یہ صاحب پارٹی کے الیکشن جیتنے کے بعد ۲۰۱۶ کے شروع میں پھر ڈسٹرکٹ چیئرمین ایسٹ بننے آگئے۔ رابطہ کمیٹی میں بیٹھ کر ساتھیوں کو رینجرز کے مظالم کا ڈٹ کر سامنا کرنے کا درس دیتے رہے اور جب ان کی پاکستان آمد کے چند ہفتوں میں ہی رینجرز نے محض انٹرویو کے لیئے بلایا تو ان چند گھنٹوں کی گفتگو کے بعد ہی کسی سے بھی انقلابی گفتگو کیئے بغیر ہی منہاج قاضی بھائی کو گرفتارکرانے کے بدلے باآسانی لندن فرار ہو گئے اور جب سے ایک بار پھر ٹویٹر اور فیس بک کے ذریعے اپنی جراتمندی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔

گو کہ یہ ڈسٹرکٹ چیئرمین نہیں ہیں لیکن ایسٹ میں اس وقت بھی سارے اہم افسران اور چیئرمین، وائس چیئرمین ان کے من پسند لوگ ہیں اس لیئے قوی امید ہے کہ ۲۰۱۰ میں کسی حد تک رکنے والا کمائی کا سلسلہ دوبارہ جاری ہو چکا ہوگا۔

ان کے بار بار فرار، بزدلی، ڈھٹائی کی داستان طویل تھی، اس کے لیئے معذرت۔ اب آپ سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ان کی مکاری ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

نوٹ:-
واضح رہے کہ لندن میں ان کے گھر اور دیگر حوالوں سے "عجیب" باتوں پر ہم نے پردہ رکھا ہے

London Leaks

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home