Sunday, October 16, 2016

ادارے کہاں غلطی کرتے ہیں ۔

ادارے کہاں غلطی کرتے ہیں ۔۔ جب ادرے اپنا سربراہ تبدیل ہوتے ہی اپنی پالیسی تبدیل کر دیتے ہیں تو سیاست دانوں کو موقع ملتا یے کہ وہ نیا سربراہ چنتے وقت میرٹ کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں ۔۔ پاکستان کے خلاف نعرہ لگانے والوں کو اقتدار آفر کر دیتے ہیں اور ان کے منہ سے پاکستان کھپے کا نعرہ سن کر خوش ہو جاتے ہیں پھر پاکستان اپنی آنکھوں سے کھپتے ہوئے دیکھتے ہیں اور جمہوریت کے چیمپین ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا سودا سر عام کر لیتے ہیں اور عوام مزید عذاب میں مبتلا ہو جاتی ہے ۔۔ ایک ہی وقت میں وہ طالبان بنانے اور طالبان مٹانے کا کام کرتے ہیں ، ایک ملک دشمن کا قلعہ قمہ کرنے کے لیے دو دشمن پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں ، ایک یکساں پالیسی کی جانب وحید کاکڑ صاحب نے قدم بڑھایا جسے راحیل شریف صاحب نے آگے بڑھایا ہے پر اب سندھ اور کراچی کی سیاست میں دہشتگردوں پر کمزور ہاتھ ڈال کر ان کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے اور ان لوگوں کو کمزور کیا جا رہا ہے جن کی بہادری کی وجہ سے آپریشن کامیاب ہو رہا تھا اور ملکی و غیر ملکی پروپیگنڈا کی نفی ہو رہی تھی کہ یہ سارے اقدامات کسی ایک لسانی اکائی کے خلاف نہیں ہیں  ،، اب نیا تاثر ابھر رہا ہے کہ ادارے سندھ حکومت کے سوالات سے پریشان ہو کر پالیسی تبدیل نہ کر دیں کہ را کے ایجنٹس نے جس طرح ببانگ دھل پریس کانفرنس کی ہے وہ ایک نئی کہانی سناتی ہے اور پریس کلب کے باہر کی نعرہ بازی نے فاروق ستار پر دبائو کا حجم بڑھتا ہوا محسوس کروا دیا ہے ،، ایسے میں صرف اسلحہ کی بازیابی ہی نہیں اس کو فراہم کرنے والے ہاتھ بھی بازیاب ہونے چاہیئں ، ورنہ انڈیا ، امریکہ افغانستان اور ایران ملکر کراچی کو بیروت بنا دیں گے اور حب الوطنی میں لڑنے والے لوگوں کا حال محصورین پاکستان والا نہ ہو جائے ۔۔ خاکم بدھن ۔۔ مگر یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے آج بھی بنگلہ دیش پھانسیاں دے رہا ہے اور ہم صرف احتجاج کر رہے ہیں اور محب وطن لوگ سزائے موت کے خلاف اپیل بھی نہیں کر رہے ۔۔ حاصل کلام یی ہے کہ فیصلے ایڈھاک ازم کے بجائے مستقل بنادوں پر کیے جائیں اور سربراہ کی تبدیلی سے ادارے کی پالیسیوں میں یو ٹرن نہیں آئے تو لوگ پھر شخصیات پر نہیں اداروں پر اعتماد کریں نہ کے ان کو سڑکوں پر پوسٹر لگا کر مطالبے کرنے پڑیں ۔۔ حالت جنگ میں آئی ہوئی فورس کو قومی اعتماد کی ضرورت ہے اور یہ اعتماد اور بڑھے گا جب ان وطن پرستوں کی مدد اور حوصلہ افزائی کی جائے گی جنہوں نے آپ کو اخلاقی طور پر مضبوط کیا تھا اور کرنے کا عزم رکھتے ہیں ، بارڈر کے اندر والا دشمن بارڈر پار دشمن سے زیادہ خطرناک ہے جسکا بے رحمی سے قلعہ قمع کرنا ضروری ہے جیسا قبائلی علاقوں میں کیا گیا ہے ۔۔  شاید کے تیرے دل میں اتر جائے مری بات ۔ بقلم خود

Labels:

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home