زرا سوچیں ، اندھی تقلید سے بچیں ۔
خدمت خلق فاؤنڈیشن کہنے کو ایک فلاحی ادارہ ہے۔ پچھلے ستائس سالوں سے ایم کیو ایم کے کارکنان رمضان۔ عید اور بقر عید کے موقعہ پر زکات فطرے اور قربانی کی کھالوں کی مد میں سندھ کے شہری علاقوں سے کروڑوں روپے جمع کرتے ہیں۔ اس بحث میں پڑے بغیر کے یہ پیسے جمع کرنے کے لیے کس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ ان 27 سالوں میں جو اربوں روپے جمع ہوئے آخر ان کا ہوا کیا۔
خدمت خلق فاؤنڈیشن کے تحت ایک ہسپتال نذیر حسین ہسپتال کے نام سے فیڈرل بی ایریا میں قائم ہوا ہے جو باقاعدہ ہسپتال کے طور پر کچھ سالوں سے کام کر رہا ہے۔ اس کی تعمیر میں فنڈنگ جاپان کے ادارے جائکا نے کی۔
جتنے سرد خانے تعمیر ہوئے وہ سب سرکاری زمین پر قبضہ کرکے حکومت کے ایم پی اے/ایم این اےکے فنڈ سے تعمیر کیے گئے۔
اسی طرح کچھ ڈسپنسریاں بھی ایم پی اے/ایم این اے کے فنڈ سے تعمیر کروا کے کے کے ایف کو دے دی گئیں۔
فیڈرل بی ایریا میں سن اکیڈمی سرکاری زمین پر واقع ہے اور تعمیر کے لیے سرکاری فنڈ استعمال ہوا ہے۔
فیڈرل بی ایریا میں واقع نذیر حسین یونیورسٹی بھی قبضے کی زمین پر ہے اور اس کی تعمیر بھی سرکاری فنڈ سے کی گئی ہے۔
سرکاری فنڈ سے تعمیر کا مطلب یہ ہے کہ فائلیں کسی ترقیاتی کام کی بنیں مگر فنڈ استعمال کے کے ایف کے لیے ہوا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدمت خلق فاؤنڈیشن کے لیے ہر سال کروڑوں روپے جمع ہوتے ہیں تو وہ پیسے جاتے کہاں ہیں۔
جواب یہ ہے کہ وہ سارے پیسے لندن میں ایم کیو ایم کے عظیم رہنما اور خود ساختہ بابائے مہاجر قوم کی شاہ خرچیوں اور ان کے خاندان کے افراد کے لیے جائدادیں خریدنے کے کام آتا ہے۔
ایم کیو ایم کے کارکنان پاکستان میں آپریشن بھگت رہے ہیں۔ جیلوں کی سختیاں۔ مقدمات ان کا مقدر ہیں۔ اور لندن میں الطاف حسین دن رات اپنی عیش و عشرت کی زندگی جھیل رہے ہیں۔
اسی زکات فطرے کے پیسے میں سے لاکھوں پاؤنڈ سالانہ بابائے مہاجر قوم کی سیکیورٹی پر خرچ ہوتا ہے۔ کوئی یہ پوچھے کے جناب آپ سال میں صرف کچھ دن صرف تصویر کھنچوانے کے لیے انٹرنیشنل سکریٹیریٹ تشریف لاتے ہیں اور باقی دنوں میں گھر سے بھی نہیں نکلتے تو آپ کو اتنی سیکیورٹی کیا کیا ضرورت ہے اور وہ بھی زکات فطرے اور قربانی کی کھالوں کے پیسے سے؟
جو لوگ ایم کیو ایم کو یہ سوچ کر پیسے دیتے ہیں کہ یہ پیسہ فلاحی کاموں میں خرچ ہوگا تو انھیں سوچنا چاہیے۔
ایم کیو ایم کے کارکنان کو بھی سوچنا چاہیے کہ آخر الطاف حسین پاکستان واپس کیوں نہیں آتے۔ وہ اکثر کہتے رہتے ہیں کہ تمہارا قائد مرد کا بچہ ہے مگر یہ کیسا مرد کا بچہ ہے جو ملک آنا تو کجا لندن میں بھی گھر سے نکلتے ہوئے ڈرتا ہے۔
زرا سوچیں۔ اندھی تقلید سے بچیں۔
Labels: PSP PAKISTAN

0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home