Tuesday, December 27, 2016

جامد و متحرک قوم

📝 جامد و متحرك قوم!

ميرا ايك دوست اپنے بچپن كا واقعہ سناتاہے كہ بچپن ميں ہم محلے كے سب لڑكے ريل گاڑى كو ديكھنے كے لئے ہر روز اسٹيشن پہ جاتے تھے ۔سب بچے اس گاڑى كو بڑے تعجب سے ديكھتے تھے اور دل ہى دل ميں كہتے كہ ديكھو كتنى عجيب چيز ہے ۔ايسا معلوم ہوتاتھا كہ سب بچے اس كے لئے عجيب احترام كے قائل تھے ۔جب تك گاڑى كھڑى رہتى سب بچے اس كو تعريفى نگاہوں سے ديكھتے ، حتى كہ رفتہ رفتہ اس كے چلنے كا وقت ہوجاتا تو  بچے پتھر اٹھاتے اور گاڑى كو پيچھے سے مارتے ۔مجھے تعجب ہوتاتھا كہ اگر پتھر مارنے چاہئيں تو كيا وجہ ہے كہ جب تك وہ كھڑى رہتى كوئى اسے ايك چھوٹا سا ڈھيلا بھى نہيں مارتا اور اگر يہ قابل تعريف ہے تو تعريف كا بہترين وقت وہ  ہے جب وہ حركت كرتى ہے۔ ميرے لئے يہ ايك معمہ بنا رہايہاں تك كہ ميں بڑا ہوگيا اور عملى زندگى ميں داخل ہوگيا تب مجھے يہ اندازہ ہوا كہ يہ ايك جامد اور مردہ قوم كى علامت ہے كہ جب تك كوئى چيز يا كوئى شخص حالت سكوت ميں رہے سب اس كى تعظيم كرتے ہيں ليكن جونہى وہ حركت كرتى ہے اور كوئى قدم اٹھاتى ہے تو نہ فقط يہ كہ كوئى اس كى مدد نہيں كرتا بلكہ اسے پتھر مارے جاتے ہيں ۔اس كے برعكس ايك زندہ اور متحرك قوم كى علامت ہے كہ وہ متحرك اور باخبر افراد كا احترام كرتى ہے نہ كہ خاموش ، ساكن اور بے خبر افرا د كا احترام۔

Labels: