Friday, October 28, 2016

‏گوادر پراجیکٹ امریکہ کی موت ہے

‏گوادر پراجیکٹ امریکہ کی موت ہے جس کے لیے وہ پاکستان پر جنگ بھی مسلط کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!  صحافی اسد کھرل کا تہلکہ خیز انکشاف-

امریکی معیشت اس حد تک تباہ ہوچکی ہے کہ وہ چین سے قرض لینے پر مجبور ہے امریکہ چین سے بانڈز کی شکل میں قرض لیتا ہے جس پر وہ سود دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک اندازہ ہے کہ اگر امریکہ پر چین اپنے قرضے بند کر دے تو صرف دو یا تین ہفتوں میں امریکی معیشت جواب دے جائے گی ۔۔۔۔!

اب تک امریکہ چین کا 3000 بلین ڈالر سے زائد کا مقروض ہو چکا ہے یاد رہے کہ پاکستان پر ٹوٹل قرضوں کا حجم 77 بلین ڈالر ہے۔۔۔۔۔۔۔! لیکن چین امریکہ کو قرضے دینے پر مجبور ہے وجہ یہ ہے کہ چین میں تیل نہیں ہے اور جن بحری راستوں سے چین اپنے ملک میں تیل سپلائی کرتا ہے وہ امریکہ اور انڈیا کنٹرول کر رہے ہیں ۔۔۔۔

چین کو اپنی تیز رفتار بڑھتی ہوئی معیشت کے لیے تیل کی سخت ضرورت ہے۔۔۔۔اگر ان راستوں کی ناکہ بندی کر کے چین کو تیل کی ترسیل روک دی جائے تو چینیی معیشت دھڑام سے نیچے آگرے گی۔۔۔۔۔!

گوادر کو اگر آپ نقشے میں دیکھیں تو یہ ان خلیجی ممالک کے بلکل سامنے آتا ہے جہاں سے چین اپنی تیل کی ضروریات پوری کر سکتا ہے اس طرح چین امریکہ اور انڈیا کو بائی پاس کر لے گا نیز یہاں سے پاکستان اور چین مل کر انڈیا اور جاپان سمیت اس خطے کی ساری تجارت کو کنٹرول کر لیں گے کیونکہ کھلے سمندر میں 200 کلومیٹر تک کا علاقہ پاکستان کا ہے اور یہ علاقہ دنیا کی ساری آبادی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ( راحیل شریف نے پاکستان کی سمندری حدود میں 50 ہزار مربع کلومیٹر کا مزید اضافہ کر لیا ہے جس کے بعد یہ حدود بڑھ گئی ہیں) چین کو یہ روٹ مل جائے تو وہ کسی بھی وقت امریکہ کو قرض دینا بند کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔!

اس خطرے کو محسوس کر کے ایک بار امریکہ افغانستان میں شاہراہ ریشم کے قریب میزائلز بھی فٹ کرنے کا پروگرام بنا چکا تھا جس پر پرویز مشرف نے فوراً اعلان کیا تھا کہ چونکہ پاکستان میں بجلی کی کمی ہے لہذا پاکستان ترکمانستان سے بجلی درآمد کرے گا بجلی کی وہ ٹرانسمیشن لائن امریکہ کی ممکنہ میزائل سسٹم کے اڈے کے قریب سے گزرنی تھی ساتھ ہی اعلان کیا کہ چونکہ افغانستان کے حالات محفوظ نہیں لہذا پاکستان اپنی ٹرانمیشن لائن کی حٖفاظت کے لئے وہاں پاک فوج تعینات کرے گا امریکہ مشرف کی اس چال کو سمجھ گیا اور اپنا منصوبہ ترک کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

آپ یہ بھی نوٹ کیجیے کہ ٹی ٹی پی کے پہلے امیر عبد اللہ محسود نے گونتانا موبے سے رہائی کے فوراً بعد سب سے پہلے گوادر پراجیکٹ پر کام بند کروانے کی کوشش کی تھی۔
گوادر دنیا کی سب سے گہری بندرگاہ ہے اور یہاں جہاز کو بیچ سمندر میں لنگر انداز کرنے کے بجائے عین کنارے پر لنگرانداز کیا جا سکتا ہے۔ جو ایک بہت بڑی سہولت ہے۔
پاکستان کے لیے یہ ایک بیش بہا فائدہ مند منصوبہ ہے۔ اس کے لیے آنے والی 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری محض چٹکی ہے اس کے مقابلے میں جو آنے والے دنوں میں پاکستان یہاں سے حاصل کر سکتا ہے۔ ایران کی گیس یہاں سے ہوتے ہوئے چین جا سکتی ہے۔ روس اور وسطی ایشائی ممالک کے لیے بھی یہ ایک اہم ترین بندگار بن سکتی ہے اور پاکستان ان ممالک کو بھی بذریعہ سڑک یا ریلوے لائن گوادر سے ملا سکتا ہے۔ چین کی سالانہ کئی سو ارب ڈالر کی ٹریڈ میں سے بہت بڑا حصہ یہاں سے ہو کر جائیگا۔

ان سارے ممالک کی اس تجارت کا ایک فیصد بھی پاکستان کو ملے تو پاکستان فوری طور پر تمام معاشی بحرانوں سے نکل آئیگا۔ ایران، روس اور چین جیسی طاقتیں سٹرٹیجکلی پاکستان پر انحصار کرینگی۔

گودار بھی آمریت ہی کا تحفہ ہے۔ یہ 1958 کے آمرانہ دور میں عمان سے خریدا گیا۔ بعد میں اس کو صوبہ بلوچستان کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس پراجیکٹ کو باقاعدہ انداز میں شروع کرنا بلاشبہ مشرف حکومت کا کارنامہ تھا جس سے بعد میں آنے والی جمہوری حکومت نے مجرمانہ غفلت برتی۔ زرداری کے پانچ سالہ دور اس پر کام رکا رہا ۔۔۔۔۔۔۔ نواز شریف کی آمد تک اس پر خاموشی رہی بلکہ نواز شریف نے گوادر پراجیکٹ کے لیے ایران سے آنے والی گیس پائپ لائن منصوبے پر کام بند کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔  راحیل شریف جب آرمی چیف بنا تو اس نے چند ماہ بعد یک دم گوادر پراجیکٹ اور اس کے لیے قائم کی جانی والی راہداری پر نہایت جارحانہ انداز میں کام شروع کر دیا۔

اس سلسلے میں راحیل شریف نے بلوچستان میں ایک وسیع آپریشن کر کے نہ صرف اس منصوبے کے خلاف ہونے والی سازشوں کا قلع قمع کیا بلکہ جب انڈیا نے گوادر کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے ایران کی چاہ بہار کو چین کے سامنے پیش کرنا شروع کیا تو راحیل شریف نے معاشی رہداری پر بغیر سیکورٹی کے سفر کر کے دکھایا اور فوری طور پر چین کا دورہ کر کے اس کے تحفظات کو بھی دور کیا۔ گوادر پراجیکٹ کے لیے قائم کی جانے والی رہداری پر بلوچستان میں پاک فوج کے زیر نگرانی کام نہایت تیزی سے جاری ہے لیکن پنجاب اور خیبر پختنوخواہ میں سیاسی قیادت میں موجود اختلافات کی وجہ سے اس پر کام کی رفتار کافی سست ہے۔

نواز شریف نے منصوبے کی تفصیلات چھپا کر اس کو مشکوک کیا تو عمران خان اور فضل الرحمن وغیرہ نے اس پر کام ہی بند کروانے کا عندیہ دے دیا۔ اللہ عمران خان اور مولانا صاحب کو عقل سلیم دے۔ اس منصوبے کے لیے وہ جن اضافی روٹس پر اعترضات کر رہے ہیں وہ اب بھی کم ہیں۔ یہاں جتنی ہیوی ٹریفک آنی ہے شائد یہ 3 روٹس بھی اس کے لیے کم پڑ جائیں۔

اس پراجیکٹ کو ہر حال میں اور نہایت تیزی سے مکمل کیا جانا چاہئے۔ جتنا وقت ضائع ہوچکا وہ بھی ناقابل تلافی ہے۔ بعض سیاست دانوں اور نام نہاد لیڈروں کی گوادر پراجیکٹ کی مخالفت سے انکی حب الوطنی ،امریکہ سے وفاداری اور انکے سیاسی شعور کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
آئی ایم ایف سے بھاری قرضے لینے کے بعد گوادر اور اس کے لیے قائم کی جانے والی راہداری پر خاموشی، گوادر پرجیکٹ تباہ کرنے کے مشن پر آئے ہوئے کل بھوشن پر خاموشی موجودہ حکومت پر ایک سوالیہ نشان ہے!

Wednesday, October 26, 2016

سانحہ کوئٹہ نواز حکومت ذمہ دار ہے ۔

سانحہ کوئٹہ حکومت ذمہ دار ہے ۔۔ *کوئٹہ واقعے* کو 24 گھنٹے گزر جانے کے بعد کچھ نئے اور نسبتاً زیادہ خطرناک سوالات جنم لے چکے ہیں۔۔۔ !

*کیڈٹس کی ٹریننک مکمل ہو چکی تھی۔ لیکن ان کو اچانک واپس کیوں بلایا گیا* ؟

کوئٹہ کے حساس حالات کے باجود ان کیڈٹس کو ہتھیار نہیں دئیے گئے اور سب نہتے تھے کیوں ؟؟

*500 نہتے کیڈٹس کی سیکیورٹی پر صرف ایک گارڈ تعئنات تھا کیوں... ؟*

اس ٹریننگ سنٹر کی چاردیواری کیوں نہیں بنوائی گئی جبکہ ایف سی کے مقامی کمانڈر نے صرف چند ماہ پہلے حکومت سے اسکی سفارش بھی کی تھی ؟؟

شہید ہونے والے بچوں کے *والدین رو رہے ہیں کہ حکومت نے ان کے بچوں کو مروانے کے لیے واپس بلایا تھا۔*

اس ٹریننگ سنٹر کے قریب بہت بڑی افغان مہاجرین کی آبادی ہے جن کے بارے میں *حساس اداروں نے بارہا اطلاعات جاری کی ہیں کہ وہ افغان اینٹلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کے لیے ٹھکانے کا کام کر رہے ہیں*۔ تب ان کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کی گئی تو اہم حکومتی اتحادی اور گورنر بلوچستان کے بھائی محمود اچکزئی بیچ میں پڑ گئے اور اس کریک ڈاؤن کو رکوا دیا۔
*کہا جاتا ہے کہ وہ افغان مہاجرین محمود اچکزئی کا بہت بڑا ووٹ بینک ہے جن کے بل پر محمود اچکزئی کا خاندان بلوچستان پر حکومت کر رہا ہے۔*

*مسلم لیگ ن کی اپنی صوبائی حکومت کے مطابق یہ حملہ لشکر جھنگوی نے کیا تھا اور لشکر جھنگوی کا اصل گڑھ جنوبی پنجاب ہے جہاں حکومت پاک فوج کو آپریشن نہیں کرنے دے رہی۔*

لیکن ان سب چیزوں کو نظر انداز کرتے ہوئے  *پاک فوج مخالف سمجھے جانے والے میڈیا اینکرز اس واقعے کے فوراً بعد ضرب عضب اور پاک فوج کی کارکرگی پر سوالات اٹھانے لگے ہیں۔*

Labels:

Sunday, October 23, 2016

usefull knowledge about mobile functions

*_📲Tips & Tricks📱_*

*_Secret Codes                                 Functions/Description_*

*#06#                                       To check IMEI of your device, enter this code.
*#0*#                                       To enter service menu on the very new Android phones.
*#0228#                                   To check battery status.t
*#9090# / *#1111#                  To make device in Service mode.
*#*#4636#*#*                        To get information about battery, usage statistics and device.
*#*#34971539#*#*                 To get all information about camera.
*#12580*369#                         To get software and hardware info.
*#228#                                     For ADC Reading.
#7353#                                     To hide test menu 2/Self Test Mode.
##7764726                               To hide service menu for Motorola Droid.
*#*#273283*255*663282*#*#*   For backup of our all media files.
*#*#232338#*#*                       It display the Wi-Fi mac address.
*#7465625#                               To view status of lock-phone.
*#*#3264#*#*                           To show RAM version.
*#*#44336#*#*                         To display build time and change list number.
*#*#232337#*#                         To see or display device’s Bluetooth address.
*#*#197328640#*#*                 It enables test mode for service.
*#*#8351#*#*                           To enable voice dial mode.
*#*#8350#*#*                           To disable the voice dial mode.
*#*#0842#*#*                           To test Back-light/vibration.
*#*#2664#*#*                           To test the touch-screen.
*#*#0289#*#*                           For Audio test.
*#*#0*#*#*                               For LCD display test.
*#*#232331#*#*                       To test Bluetooth of any Android device.
*#*#0283#*#*                           To perform a packet loop-back test.
*#*#1575#*#*                           For advanced GPS test.
*#*#1472365#*#*                     To Perform a quick GPS test.
*#*#0588#*#*                           To perform a proximity sensor test.
*#*#7262626#*#*                     To perform field test.
*#*#232339#*#*                       Testing Wireless LAN.
*#9090#                                     To Diagnose configuration of device.
*#872564#                                 To control U-S-B logging.
*#9900#                                     System dump mode.
*#*#7780#*#*                           Reset  to factory state.
*2767*3855#                             To format Android device.
*#*#4986*2650468#*#*          To get pda, phone, H/W and RF Call Date. 
*#*#1234#*#*                            To know about pda and firmware version.                                     
*#*#1111#*#*                           For FTA Software version.
*#*#2222#*#*                           For FTA Hardware version.
*#*#7594#*#*                          To change power button behaviour once code enabled.     
*#*#8255#*#*                           To launch Google Talk service monitor.

*Join my group*
+923158395684

Labels:

Sunday, October 16, 2016

ادارے کہاں غلطی کرتے ہیں ۔

ادارے کہاں غلطی کرتے ہیں ۔۔ جب ادرے اپنا سربراہ تبدیل ہوتے ہی اپنی پالیسی تبدیل کر دیتے ہیں تو سیاست دانوں کو موقع ملتا یے کہ وہ نیا سربراہ چنتے وقت میرٹ کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں ۔۔ پاکستان کے خلاف نعرہ لگانے والوں کو اقتدار آفر کر دیتے ہیں اور ان کے منہ سے پاکستان کھپے کا نعرہ سن کر خوش ہو جاتے ہیں پھر پاکستان اپنی آنکھوں سے کھپتے ہوئے دیکھتے ہیں اور جمہوریت کے چیمپین ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کا سودا سر عام کر لیتے ہیں اور عوام مزید عذاب میں مبتلا ہو جاتی ہے ۔۔ ایک ہی وقت میں وہ طالبان بنانے اور طالبان مٹانے کا کام کرتے ہیں ، ایک ملک دشمن کا قلعہ قمہ کرنے کے لیے دو دشمن پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں ، ایک یکساں پالیسی کی جانب وحید کاکڑ صاحب نے قدم بڑھایا جسے راحیل شریف صاحب نے آگے بڑھایا ہے پر اب سندھ اور کراچی کی سیاست میں دہشتگردوں پر کمزور ہاتھ ڈال کر ان کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے اور ان لوگوں کو کمزور کیا جا رہا ہے جن کی بہادری کی وجہ سے آپریشن کامیاب ہو رہا تھا اور ملکی و غیر ملکی پروپیگنڈا کی نفی ہو رہی تھی کہ یہ سارے اقدامات کسی ایک لسانی اکائی کے خلاف نہیں ہیں  ،، اب نیا تاثر ابھر رہا ہے کہ ادارے سندھ حکومت کے سوالات سے پریشان ہو کر پالیسی تبدیل نہ کر دیں کہ را کے ایجنٹس نے جس طرح ببانگ دھل پریس کانفرنس کی ہے وہ ایک نئی کہانی سناتی ہے اور پریس کلب کے باہر کی نعرہ بازی نے فاروق ستار پر دبائو کا حجم بڑھتا ہوا محسوس کروا دیا ہے ،، ایسے میں صرف اسلحہ کی بازیابی ہی نہیں اس کو فراہم کرنے والے ہاتھ بھی بازیاب ہونے چاہیئں ، ورنہ انڈیا ، امریکہ افغانستان اور ایران ملکر کراچی کو بیروت بنا دیں گے اور حب الوطنی میں لڑنے والے لوگوں کا حال محصورین پاکستان والا نہ ہو جائے ۔۔ خاکم بدھن ۔۔ مگر یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے آج بھی بنگلہ دیش پھانسیاں دے رہا ہے اور ہم صرف احتجاج کر رہے ہیں اور محب وطن لوگ سزائے موت کے خلاف اپیل بھی نہیں کر رہے ۔۔ حاصل کلام یی ہے کہ فیصلے ایڈھاک ازم کے بجائے مستقل بنادوں پر کیے جائیں اور سربراہ کی تبدیلی سے ادارے کی پالیسیوں میں یو ٹرن نہیں آئے تو لوگ پھر شخصیات پر نہیں اداروں پر اعتماد کریں نہ کے ان کو سڑکوں پر پوسٹر لگا کر مطالبے کرنے پڑیں ۔۔ حالت جنگ میں آئی ہوئی فورس کو قومی اعتماد کی ضرورت ہے اور یہ اعتماد اور بڑھے گا جب ان وطن پرستوں کی مدد اور حوصلہ افزائی کی جائے گی جنہوں نے آپ کو اخلاقی طور پر مضبوط کیا تھا اور کرنے کا عزم رکھتے ہیں ، بارڈر کے اندر والا دشمن بارڈر پار دشمن سے زیادہ خطرناک ہے جسکا بے رحمی سے قلعہ قمع کرنا ضروری ہے جیسا قبائلی علاقوں میں کیا گیا ہے ۔۔  شاید کے تیرے دل میں اتر جائے مری بات ۔ بقلم خود

Labels:

Friday, October 14, 2016

واسع جلیل بزدلوں کے شہنشاہ

واسع جلیل بزدلوں کے شہنشاہ

۹۲ آپریشن کے وقت اے پی ایم ایس او کے سیکٹر انچارج تھے۔ کڑے وقت میں مرکزی کمیٹی دیگر ذمہ داران کے ساتھ انہیں بھی ڈھونڈتے رہی لیکن موصوف مہاجروں کو آزادی دلانے امریکہ فرار ہو گئے اور ۹۶ میں بینظیر حکومت کے خاتمے کے بعد ہی ۹۷ کا الیکشن لڑنے کے لیئے پاکستان واپس آئے

ڈاکٹر صغیر انصاری کی جیل کے آرام دہ سفر سے واپسی کے باعث امریکہ میں مہاجر قوم کے لیئے ۵ سال صعوبتیں برداشت کرنے والے واسع جلیل کو ایم پی اے کی سیٹ تو نہ ملی لیکن حکومت میں آتے ہی پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن اور ایم کیو ایم ایمپلائمنٹ سیل کے بد عنوان اور اقربا پروری میں بدنام ترین انچارج بن گئے۔ چونکہ موصوف رابطہ کمیٹی اور تنظیمی کمیٹی کے بہادر رکن بھی تھے اس لیئے غریب کارکنان محض ۵-۷ گریڈ کی نوکری یا نوکری کا آسرے پر ہی ٹرخائے جاتے رہے اور ان کی سربراہی میں نوکریاں فروخت ہوتی رہیں اور بندر بانٹ ہوتی رہی۔ اپنے دوستوں کے گھروں میں ۱۷ گریڈ کی ۲-۲ نوکریاں دینا تو معمولی بات تھی، شہنشاہ نے اپنے کو۔آرڈینیٹرز کو بھی ایک ساتھ ۲-۲ نوکریاں بخشیش کے طور پر بانٹیں۔
چونکہ شہنشاہِ بزدلان پی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی تھے اور اسوقت ۹۰ پر بھی ہوتے تھے، انہوں نے قائد کے گھر کے بالکل سامنے ہی بوجوہ شادی فرما لی۔
ساتھیوں کو یاد رہنا چاہیئے کہ ۹۷-۹۸ میں کئی بار حالات خراب ہونے کی جانب جاتے رہے اور ہر بار شہنشاہ سلامت پہلی فلائٹ سے لندن جا کر ظالم اسٹیبلشمنٹ سے لڑنے کی تیاری کرتے رہے، جونہی حالات بہتر ہوتے موصوف مال بٹورنے اور نوکریاں بیچنے کے لیئے کراچی کی فلائٹ پکڑ لیتے۔

۹۸ میں گورنر راج لگتے ہی واسع جلیل نے مہاجر قوم کو بالکل مایوس نہیں کیا اور کراچی میں مظاہروں، ہڑتالوں، گرفتاریوں سے بچنے کے لیئے فی الفور لندن جا کر مہاجروں کو نت نئے نعروں سے بہلاتے رہے۔ اس بار یہ صاحب اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ لندن میں حالات کی صعوبتیں جھیلنے پہنچے تھے۔ اور یہ سلسلہ ۲۰۰۳ کے آخر تک جاری رہا، جب تک یہ یقین نہیں ہو گیا کہ ایم کیو ایم پرویز مشرف کی حکومت کا مستقل حصہ ہے یہ واپس نہیں آئے۔

۲۰۰۵ کے بلدیاتی انتخابات کے بعد انقلابی لیڈر گلشن اقبال کے ٹاؤن ناظم بنائے گئے۔ اس ۵ سالہ دور میں انہوں نے کوئی تنخواہ، مراعات نہیں لیں، ہاں بس پہلے دن سے گلشن ٹاؤن کی سڑکوں کا ٹھیکہ اپنے خاص دوست کو دیا۔ واضح رہے کہ گلشن ٹاؤن کا سالانہ ترقیاتی بجٹ ایک سے ڈیڑھ ارب روپے تھا، یعنی ۵ سال میں ہوا ۶-۷ ارب، چھ۔سات سو کروڑ۔ اب لگا لیں سات سو کروڑ میں عزت دارانہ ٹاؤن ناظم کمیشن تو وہ ۵ فیصد پر بنتا ہے ۳۵ کروڑ روپے، لیکن جب آپ رابطہ کمیٹی کے رکن ہوں، لندن کے خاص ہوں اور سب سے بڑے اور سڑکوں کے ٹھیکے آپ کے خاص دوست کے پاس جاتے ہوں تو یہ رقم کم از کم دوگنا ہو جاتی ہے یعنی ۷۰-۸۰ کروڑ روپے۔ اب آجائیں گلشن اقبال ٹاؤن میں سرکاری زمین اور گرین بیلٹ پر بنائے جانے والے شادی لانز، فٹ پاتھوں پر بنائے جانیوالے اسٹالز، ٹاؤن کی حدود کے اشتہارات گلشن اقبال، گلستان جوہر میں ہونے والی چائنا کٹنگ میں بھر پور حصہ، یہ سب ملا کر غریب مہاجروں کے غم میں لندن میں بیٹھ کر سوشل میڈیا انقلاب لانے والے واسع جلیل ۱۲۰-۱۵۰ کروڑ روپے (سوا سے ڈیڑھ ارب روپے) بٹور کر لے گئے۔

۲۰۱۳ تک انتظار کرتے رہے کہ کب بلدیاتی نظام آئے کیونکہ امریکی شہریت رکھنے کی وجہ سے یہ سینیٹر، ایم این اے، ایم پی اے نہیں بن سکتے تھے اور دوسروں کو قربانی کا درس دینے والے اپنا امریکی پاسپورٹ تک نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ اس دوران قائد کے تقریروں کو بند کمرے میں بیٹھ کر برا بھلا کہنے اور لندن جاتے ہی جی بھائی جی بھائی کہنے کی منافقت کرتے رہے۔

۱۱ مارچ ۲۰۱۵ کو ۹۰ پر پڑنے والے چھاپے کے فوراً بعد ۹۰ آئے لیکن رابطہ کمیٹی سے میڈیا کو دیکھنے والے بہادر واسع جلیل رینجرز کے چھاپے اور وقاص شاہ کی شہادت پر کسی ٹی وی چینل پر آ کر ایک لفظ بھی نہ پھوٹ سکے۔ جونہی انہیں علم ہوا کہ چھاپے میں ان کا دستِ راست اسد (جو ایمپلائمنٹ سیل سے ٹاؤن نظامت تک ان کا فرنٹ مین رہا ہے) گرفتار ہوگیا ہے، سچائی کے پیکر واسع جلیل جو کہ اب بھی ایک ارب سے زیادہ کی آسامی تھے، ڈاکٹر نصرت سے ۲ لاکھ روپے مانگ کر ۹۰ سے گئے کہ ایک کام سے جا رہا ہوں اور لندن اترنے کے بعد ہی کراچی کی طرف مڑ کر دیکھا۔

رینجرز آپریشن کی سختیوں پر لندن سے بیٹھ کر بیان جاری کرتے رہے لیکن سخت ترین حالات میں پوری تنظیم بلدیاتی الیکشن لڑتی رہی اور
یہ صاحب پارٹی کے الیکشن جیتنے کے بعد ۲۰۱۶ کے شروع میں پھر ڈسٹرکٹ چیئرمین ایسٹ بننے آگئے۔ رابطہ کمیٹی میں بیٹھ کر ساتھیوں کو رینجرز کے مظالم کا ڈٹ کر سامنا کرنے کا درس دیتے رہے اور جب ان کی پاکستان آمد کے چند ہفتوں میں ہی رینجرز نے محض انٹرویو کے لیئے بلایا تو ان چند گھنٹوں کی گفتگو کے بعد ہی کسی سے بھی انقلابی گفتگو کیئے بغیر ہی منہاج قاضی بھائی کو گرفتارکرانے کے بدلے باآسانی لندن فرار ہو گئے اور جب سے ایک بار پھر ٹویٹر اور فیس بک کے ذریعے اپنی جراتمندی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔

گو کہ یہ ڈسٹرکٹ چیئرمین نہیں ہیں لیکن ایسٹ میں اس وقت بھی سارے اہم افسران اور چیئرمین، وائس چیئرمین ان کے من پسند لوگ ہیں اس لیئے قوی امید ہے کہ ۲۰۱۰ میں کسی حد تک رکنے والا کمائی کا سلسلہ دوبارہ جاری ہو چکا ہوگا۔

ان کے بار بار فرار، بزدلی، ڈھٹائی کی داستان طویل تھی، اس کے لیئے معذرت۔ اب آپ سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ان کی مکاری ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

نوٹ:-
واضح رہے کہ لندن میں ان کے گھر اور دیگر حوالوں سے "عجیب" باتوں پر ہم نے پردہ رکھا ہے

London Leaks

Thursday, October 13, 2016

بحوالہ آپکی قومی اسمبلی میں  جمع شدہ  قرارداد برائے ادائیگی تنخواہ،ہمارا احوال بھی ملاحظہ ہو۔

Muhammad Tauqeer
mtauqir786@gmail.com
Hide details
To:
asad.umar@insaf.pk
Date:
August 27, 2016, 4:59 PM

السلام علیکم!
مکرمی!
بحوالہ آپکی قومی اسمبلی میں  جمع شدہ  قرارداد برائے ادائیگی تنخواہ،ہمارا احوال بھی ملاحظہ ہو۔

پی.ٹی.سی.ایل پنشنرز پر جاری 7 - سالہ ظلم و استبداد کی داستان آپ کے گوش گزار ہے.
1-پاکستان ٹیلی گرافس و ٹیلیفون ڈیپاڑٹمنٹ حکومت پاکستان کا ایک ادارہ تها جو ملک بهر میں ٹیلیکمیونیکیشن سہولیات کی فراہمی کا ذمہ دار تها.1991 تک یہ ادارہ اسی حیثیت میں کام کر رہا تها.
2-سن 1991 میں ادارے کو بعینہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن میں تبدیل کر دیا گیا جبکہ ادارے کے تمام ملازمین اپنی سابقہ حیثیت یعنی "سول سرونٹ " کے سٹیٹس کے ساته "ڈیپارٹمنٹل ایمپلائز " کی تعریف کے تحت کارپوریشن میں منتقل ہوگئے.
3-پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ1996( ایکٹ آف پارلیمنٹ ) کے تحت پی ٹی. سی کو پانچ اداروں PTCL, PTET, FAB,NTC اور PTA میں تقسیم کر دیا گیا اور ملازمین کوانکی سابقہ حیثیت کے تحت "ٹرانسفرڈ ایمپلائز " کے نام سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ میں منتقل کر دیا گیا.پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 کے آرٹیکل 35،36 کے تحت ان کی شرائط و حقوق کو تحفظ دیا گیا.
3.پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 کے تحت ان ملازمین کی پنشن ادائیگی کے لئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایمپلائز ٹرسٹ (پی.ٹی.ای.ٹی ) کا قیام بهی عمل میں آیا اور یہ ادارہ حکومت پاکستان کے اعلانات کے عین مطابق اپنے قیام سے لیکر 14-سال تک یعنی 2010 تک تمام ادائیگیآں بلا حیل و حجت کرتا رہا.
4-سن 2005 میں پی.ٹی.سی.ایل کے 26 فیصد حصص کی نیلامی عمل میں آئی اور اتصالات بلند ترین بولی دینے کے نتیجے میں پی.ٹی.سی.ایل کے انتظامی کنٹرول کی حقدار قرار پائی. ستم یہ کہ ایک نئے معاہدے کے تحت پی.ٹی.سی.ایل کی تمام تر جائیداد بهی اتصالات کے نام منتقل کر دی گئی اور اس منتقلی کے محصولات حکومت پاکستان نے ادا کئے اس مقصد کے لیے حکومت پاکستان نے پرائیویٹائزیشن کمیشن کے ذریعے صوبوں کو قرض دیا.
5-معاہدہ خریداری حصص کے تحت تمام ملازمین/پنشنرز کے حقوق نجکاری سے قبل ان کے حقوق کے مساوی قرار دئیے گئے جو کہ سول سرونٹ کے مساوی تهے.مذکورہ معاہدے کی ضامن حکومت پاکستان ہے.
6-نجکاری کے بعدبهی سن 2010 تک پی.ٹی.ای.ٹی تمام حکومتی اعلان کردہ اضافہ جات پنشنرز کو ادا کرتا رہا.لیکن 2010-11کے حکومتی اعلان کردہ سالانہ اضافہ پنشن و میڈیکل الاءونس میں پی.ٹی.ای.ٹی نے قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تخفیف کردی جبکہ میڈیکل الاءونس دینے سے قطعی انکار کر دیا.
7-پی.ٹی.سی.ایل پنشنرز نے اس ظلم کے خلاف ملک بهر میں احتجاج کیا لیکن میڈیا کے کوریج نہ دینے کے باعث بے بس ہوگئے.ارباب اقتدار اور سیاسی قیادت کی عدم توجہی کے باعث پی.ٹی.سی.ایل پنشنرز کے پاس عدالتی چارہ جوئی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا.
8-پی.ٹی.سی.ایل پنشنرز نے پشاور واسلام آباد ہآئی کورٹس میں مقدمات دائر کئے اور ایک طویل اور صبر آزما سفر کے بعد عدالتوں سے سرخرو ہوئے.لیکن حکومت کی ملی بھگت سے کمپنی نے عدالتی فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر دیں اور ایک مرتبہ پھر صبر آزما مشق کے بعد پنشنرز عدالت عظمٰی سے بهی سرخرو ہوئے.عدالت عظمٰی نے اپنے 12-جون 2015 کے فیصلے میں پی.ٹی.سی.ایل پنشنرز کو حکومتی نوٹیفکیشنز کے مطابق تمام رکی ہوئی مراعات دینے کا حکم دیا.
9-لیکن پی.ٹی.سی.ایل پنشنرز کی ابتلا ابهی بهی ختم نہیں ہوئی اور کمپنی کے ساته ساته ہمارے حقوق کی ضامن حکومت پاکستان بهی نظرثانی اپیلوں میں پنشنرز کے خلاف عدالت میں فریق بن گئی.ارباب اقتدار ترقیاتی و غیر ترقیاتی منصوبوں پر کهربوں روپے خرچ کر رہے ہیں لیکن یہ شاید بهول گئے ہیں کہ حقدار کا حق مارنے کا عذاب بہت سخت ہے جسکا وعدہ ہے.

دعا گو !
محمد توقیر

Labels: