Tuesday, July 26, 2016

ایم کیو ایم نوشتہ دیوار پڑھ لے ۔۔۔

نوشتہ دیوار ۔۔۔ جب بھی قدرت نے متحدہ کو موقع دیا اس نے اپنا سیاسی مینڈٹ بیچ کر اس کی ادئیگی لندن میں کروا لی ۔۔ صرف ایک مطالبہ بتا دو جس کو آپ نے منظور کروایا ہو  ، پی پی کے اتحادی ،، مسلم لیگ کے اتحادی آج حکومت کے اندر کل حکومت سے باہر ،، شہریوں نے تو ہر بار مینڈٹ دیا اور راہنما ہی رہزن نکلا کہ مینڈٹ کو کیش میں وصول کیا ہر بار اور بار بار ،، اب متحدہ کے بعد دوبارہ مہاجر قومی مومنٹ بننے کی تیاری صرف اس مہاجر نعرے کو کتنی بار کیش کروائے گا یہ فرعون صفت چار کا ٹولہ ،، اگر بتیس سال میں ایک بنیادی مطالبہ بھی پورا کروایا ہوتا تو آئندہ کے بتیس سال بھی اس کے حوالے کر دیتے لیکن ہماری اور اسکی بھرپور جوانی جب مٹی ہو گئی تو معاف کرنا میرے بیٹوں اور بیٹی کا مستقبل اس مدہوش کے ہاتھ میں نہیں دیا جا سکتا کہ بتیس سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے جو بادی النظر میں گنوا بیٹھے ہیں ،، ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن ۔۔۔ دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ۔۔۔ نہ صوبہ اور نہ ملک یہ تو ہم سے پاکستان کی شہریت بھی چھیننا چاہتا ہے کہ محصورین بنگلہ دیش کی طرح کا سانحہ کروا کر ہمیں کیمپوں میں زندگی گزارنی پڑے ۔۔ ہم کو تو یہ بات سمجھ میں آگئی آپ کو چند دن یا چند مہینوں میں سمجھ میں آجائے گی ۔۔۔ اپنے بچوں کی طرف نظر کرو ان کو دیکھو اور سوچو کہ پچھلے بتیس سال میں ان کے لیے کیا کیا تم نے کہ صرف کہا کہ ، ہم کو منزل نہیں راہ نما چاہیے اور ہم نہ ہو ہمارے بعد کے نعرے دیے ،، غور کرو تم نے اپنے بچوں کے لیے کیا کیا صرف نعرے اور نعرے جب مقبولیت میں کمی آتی دیکھی فورا مہاجر بن گئے اور بھول گئے کہ کچھ عرصہ پہلے اپنے آپ کو اردو بولنے والے سندھی کہلایا تھا اور ترانے بجوائے تھے کہ گلی گلی اب گونج رہا ہے سندھ امڑ کا نعرہ اور نعرہ لگایا تھا سندھ مہنجی ماں آھی ،، سندھ میری ماں ہے اور کوئی اپنی ماں کے ٹکڑے نہیں کرتا تو جان لو کہ پاک سر زمین پارٹی کو اپنے لیے تھریٹ سمجھتے ہوئے متحدہ کا لیڈر پھر عصبیت کا بیج بو رہا اور مہاجر نعرہ استعمال کر رہا ہے ۔۔۔ لیکن سندھ کے شہری عوام جماعت اسلامی اور جے یو پی کو ڈیلیور نہ کرنے پر چھوڑ کر ایم کیوایم میں آئے تھے اور اب متحدہ کو چھوڑ کر پاک سرزمین پارٹی جوائین کر رہے ہیں اور وہ بھی متحدہ کے عروج کے زمانے میں کہ اتنا بڑا مینڈٹ اس سے پہلے کبھی نہیں ملا تھا ۔ مگر مینڈٹ کو استعمال نہ کر سکنا قیادت کی غلطی ہے نہ کہ عوام کی ۔۔۔۔ شاید کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔۔۔۔۔  صابر جلیل ایڈوکیٹ پی ایس پی میرپورخاص سندھ ۔

Labels:

Sunday, July 24, 2016

اویس شاہ بازیابی سے اسد کھرل کی گرفتاری تک، دھماکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

اویس شاہ بازیابی سے اسد کھرل کی گرفتاری تک، دھماکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

اسد کھرل نے انکشاف  کیا ہے کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس سید سجاد علی شاہ کے صاحبزادے اویس شاہ کے اغواءمیں آصف علی زرداری اینڈ کمپنی ملوث ہے، حساس اداروں کی جانب سے حیدرآباد سے حراست میں لئے جانیوالے محمدعلی عرف اسد کھرل نے اویس شاہ  اغواءکیس میں مرکزی کردار ادا کیا۔
ذرائع نے تہلکہ ٹی وی کو بتایا کہ اویس شاہ کو عیدتک کراچی میں دومقامات پر رکھا گیا اور ان کے اغواءمیں محکمہ داخلہ حکومت سندھ کی سرکاری گاڑی استعمال کی گئی ۔اویس شاہ کو پہلے ایک گھر میں رکھا گیا جس کا ایک دروازہ ڈبل روڈ کی طرف کھلتا ہے جبکہ دوسرا دروازہ ایک گلی کی طرف کھلتا ہے اور اس گھر کے باہر سکول کا بورڈ بھی آویزاں ہے۔ دوسرا مقام جہاں پر اویس شاہ کو رکھا گیا وہ کراچی کا وہ سائٹ ایریا ہے جہاں زرداری اینڈ کمپنی نے قبضہ کرکے مذکورہ پراپرٹی کوایک خاتون کے نام ٹرانسفر کروایا ہے ۔
اویس شاہ کو بلیک شیشوں والی گاڑی جس کے پیچھے ایک پولیس کا ڈبل کیبن ڈالا تھا کے ذریعے کراچی سے لاڑکانہ منتقل کیا گیا، اویس شاہ کو کالے شیشوں والی کار اور پیچھے پولیس ڈبل کیبن میں لے کر اسد کھرل پھرتا رہا ۔ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اویس شاہ کے اغواءمیں اسد کھرل نے اہم کردار اداکیا جو صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کے بھائی طارق سیال کا فرنٹ مین ہے ۔
دوران تحقیقات حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں کہ اسد کھرل نے اویس شاہ کو محسود قبیلے کے متنی گروپ کو فروخت کیا اور اس سلسلے میں ابتدائی رقم 16 کروڑ روپے وصول کی جس میں کیش کے علاوہ ایچ بی ایس سی بینک کی دبئی برانچ کے دو عدد چیک اور ایک چیک اے بی ایل بینک بھی شامل تھا ۔
چونکا دینے والاانکشاف یہ سامنے آیا کہ اویس شاہ کو لاڑکانہ سے سندھ کی سرحد تک سندھ پولیس کی سکواڈ کے ساتھ لے جایا گیا ۔ جہاں محسود قبیلے کے متنی گروپ نے اسے وصول کرکے ٹانک شفٹ کیا۔ جہاں سے اویس شاہ کو افغانستان منتقل کرناتھا لیکن حساس اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ٹانک سے اویس شاہ کو اس وقت بازیاب کرلیا ۔ جب اغواءکار اسے افغانستان منتقل کرنے کےلئے ٹانک سے روانہ ہوچکے تھے اس دوران مقابلے میں تین اغواءکار بھی مقابلے میں مارے گئے۔ اویس شاہ کو افغانستان پہنچانے کا مقصد حساس اداروں کو گمراہ کرنا تھا تاکہ تحقیقات میں پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کا نام نہ آئے اور الزام طالبان پر عائد کیا جائے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا تھا کہ سپلینٹر گروپ اغواء میں ملوث ہے، محسود قبیلے کا متنی گروپ تحریک طالبان پاکستان کا سپلینٹر گروپ ہی ہے۔
اویس شاہ کے اغواءکے فوری بعد ہی حساس اداروں کو علم ہوگیا تھا کہ اس اغواءکے پیچھے آصف علی زرداری گروپ کا ہاتھ ہے اور اسد کھرل نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اسی بنیاد پر رینجرز اور حساس ادارے نے لاڑکانہ میں اسد کھرل کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مارا تھا۔ جس کا مقصد نہ صرف اویس شاہ کی بازیابی بلکہ اویس شاہ کو فروخت کرنے کے عوض 16کروڑ روپے کی رقم جس میں 3عدد چیک بھی شامل تھے کو بھی برآمد کرنا تھا۔ اسد کھرل کی گرفتاری سے تمام حقائق سامنے آنے کے خدشہ کے پیش نظر اسد کھرل کو رینجرز سے زبردست مزاحمت کے بعد ناصرف چھڑوالیا گیا بلکہ سی آئی اے پولیس کی گاڑی میں اسے فرار کروادیا گیا تھا۔
کچا چٹھا کھلنے کے خوف سے آصف علی زرداری نے صوبائی وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیرداخلہ سندھ کو خصوصی ٹاسک دیا ہے کہ ہر صورت میں اسد کھرل کو سندھ پولیس کے حوالے کرنے پر اصرار کریں۔ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے حوالے سے بھی وفاق کو شرط رکھی گئی ہےکہ اسد کھرل کو سندھ پولیس کے حوالے کریں۔ صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال  نے آج سندھ کے تمام ڈی آئی جیز اور آئی جی سندھ کا اجلاس بھی طلب کیا جو اسی سلسلے کی ایک  کڑی ہے۔
واضح رہے بے نظیربھٹو کو قتل کروانے کےلئے محسود قبیلے کے اسی متنی گروپ نے خودکش بمبار راولپنڈی بھجوائے تھے جس کے عوض انہوں نے تیس کروڑ روپے کی رقم حاصل کی جو کراچی کے ایک پولیس افسر کے ذریعے محسود گروپ تک پہنچی ۔یہ انکشاف اکرام اللہ محسود نے کیا جوکچھ عرصہ سے ایک ادارے کی تحویل میں ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ رینجرزکو فوری طور پر تمام حقائق منظر عام پر لانے سے روک دیا گیا ہے۔ کیونکہ اس سے تفتیش پر اثر پڑ سکتا ہے اور شہادتیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

ہجرت تو اجداد کی شناخت تھی ہم تو اس ملک میں بس چکے ہیں ۔

ہمارے اجداد مہاجر تھے ، ہم تیسری نسل کے لوگ ہیں ہم پاکستان میں بس چکے ہیں ہمیں پاکستانی کہا جائے اردو بولنے والا سندھ کا باشندہ یا پنجاب کا باشندہ کہا جائے ۔۔ ہمارے مہاجر اجداد کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے اور ہمارہ استقبال کرنے والوں کو انصار مدینہ سے مشابہت دی جائے لیکن ہماری تیسری نسل کو اب بھی مہاجر کہو گے تو بھائی ان سندھ کے ٹکڑے کرنے والوں کے نعرے کو تقویت ہو گی جو ایک زبان میں سندھ کو دھرتی ماں کہتے ہیں اور دوسرے سانس میں علحیدگی کا نعرہ اور مقبوضہ کراچی کا استعارہ استعمال کرتے ہیں ۔۔ بر صغیر کی تقسیم کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں کی بڑی تعداد نے مشرقی پنجاب کے بارڈر سے ہجرت کی تھی اور سب سے زیادہ قربانیاں اس بارڈر پر ہوئیں تھیں ،، لیکن پنجاب میں بسنے والوں نے اپنے آپ کو وہاں کے لوگوں میں ضم کر لیا کہ ان کی اپنی ذات اور قبیلے کی شناخت آج تک برقرار ہے ۔۔ لیکن سندھ کے معروضی حالات نے اور سیاست دانوں کی پھیلائی جانے والی نفرتوں نے یہاں شہری اور دیہی کی تقسیم پیدا کر دی جو کہ اب وقت کے ساتھ قربت میں تبدیل ہو رہی ہے جس کی مثال سندھ اور مہران یو نیورسٹیز میں لسانی تعصب سے پاک ماحول سے دی جا سکتی ہے ۔۔ بلا شبہ اس ماحول کو بنانے میں اداروں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ پہلے جو ہاسٹلز طلبہ کی آڑ میں مجرموں کو پناہ دیتے تھے اب بالکل پاک ہو چکے ہیں اور اس ماحول کو برقرار رکھنے میں یونیورسٹی کی انتظامیہ ، سندھی دانشور کے ساتھ سندھ رینجرز کا بھی ہاتھ ہے ۔ ایم کیو ایم نے مہاجر نعرہ کو استعمال کر کے شہری علاقوں کا مینڈٹ حاصل کیا اور اردو بولنے والوں کو سہانے مطالبات پورے کروانے کے خواب دیکھائے گئے مگر تاریخ گواہ ہے کہ کوئی ایک مطالبہ پورہ نہیں کروا سکی ہے یہ جو ساٹھ فیصد دیہی اور چالیس فیصد شہری کا فارمولا طے ہوا تھا یہ ایم کیو ایم سے پہلے کی شہری قیادت نے طے کروایا تھا ،، ایم کیو ایم کو جب بھی موقع ملا اس نے اپنے مینڈٹ کو کیش کی صورت میں ملک سے باہر وصول کیا اور چند ملازمتوں کے حصول کو کامیابی باور کروایا ۔۔ شہری باشعور عوام جس نے اپنا ابتدائی مینڈٹ جماعت اسلامی اور جے یو پی کو دیا تھا اور ڈلیور نہ کرنے پر یہ مینڈٹ ایم کیو ایم کو دیا تھا اب ایم کیو ایم سے نالاں ہو گئی ہے اور الیکشن میں ووٹ کے لیے باہر نہ نکل کر عندیہ دے رہی ہے کہ اب اس کی پسند بدل رہی ہے جسکا اظہار عوام اگلے جنرل الیکشن میں کر دیکھائے گی ۔۔ پاک سرزمین پارٹی نے سندھ شہری ہی نہیں بلکہ سندھ دیہی کو اور پورے پاکستان کو ایک وطن پرستی کا پیغام دیا ہے اور کم وقت میں عوام کی توجہ حاصل کر لی ہے ،، امید ہے کہ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں اس پارٹی کا مستقبل روشن ہوگا اور نظام کو بدلنے کی خواہش رکھنے والی اس پارٹی کی قیادت عوام کی مزید حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گی ۔۔ صابر جلیل ایڈوکیٹ پاک سرزمین پارٹی میرپورخاص

Labels:

Friday, July 22, 2016

را ایجنٹ کے ذریعہ اقتصادی راہداری منصوبہ پامال کرنے کی سازش میں ایم کیو ایم قیادت کا کردار

متحدہ قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم کی قیادت کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے ملک کے اندر اور بیرون ملک پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، اس سلسلے میں انسانی حقوق کی بین القوامی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماتحت اداروں اور چند ممالک کے سفارت خانوں کو یادداشتیں پیش کی جا رہی ہیں ۔ سابق سفیر حسین حقانی اور واجد شمس الحسن اس سلسلہ میں متحدہ قائد اور لندن میں مقیم چار کے ٹولے کے مشیر ہیں ۔ کشمیر کے تنازعے سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے بھارت کا ایجنٹ الطاف کراچی کے معاملات کو مقبوضہ کشمیر کی طرح پیش کر رہا ہے اور پاک رینجرز اور عسکری اداروں کے کردار کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے ،، اس سلسلہ میں شوشل میڈیہ کے ذریعہ پروپیگینڈا بھی کیا جاتا ہے اور یہ کام لندن میں ندیم نصرت ، مصطفی عزیزآبادی ، واسع جلیل انجام دے رہے ہیں جس کو پاکستان میں مقامی قیادت انڈوزڈ کر کے شیئر اور ٹیویٹ کرتی ہے اور یہ پوسٹ تقریبا بغاوت اور احساس محرومی کا رجہان پیدا کر رہی ہیں ۔ جیسے ایک نئی پوسٹ میں مہاجر وزیر اعلی نہ بنائے جانے کا رونا رویا گیا ہے حالانکہ شہری عوام کے مینڈٹ کا متواتر سودا بھی خود لندن میں مقیم قیادت ہی کرتی رہی ہے ۔ اور ہر سودا کیش کی صورت میں رقم کی وصولی پر ختم ہوتا رہا ہے ۔ پاکستان میں حامد میر اور قادیانی لابی متحدہ کو سپورٹ کر رہی ہیں جبکہ پی پی پی کی اعلی قیادت صوبائی سطح پر اور پی ایم ایل این کی قیادت اسحاق ڈار کے ذریعہ متحدہ کو انگیج رکھ کر کسی نازک وقت پر استعمال کرنے کے موڈ میں ہیں ۔ پاک چائینہ ایکونامک کوریڈور جیسے بڑے مسئلہ ہو یا دہشت گردی جیسا عفریت یا انٹیلیجنس حملوں سے بچائو ہر ایک سے نبٹنے کے لیے عسکری اداروں نے ہی بیڑا اٹھایا ہوا ہے اور ان چیلینجز سے توجہ ہٹانے کے لیے متحدہ کا قائد ایک اسٹرٹجی کے ساتھ سندھ شہری کے عوام کو بغاوت پر آمادہ کرنے کے لیے مسلسل تقریر کر رہا ہے اور پبلک کو اکسا رہا ہے کہ یا تو کراچی کو دوبارہ متحدہ کے ہاتھوں یرغمال بننے دو یا پھر روز احتجاج اور دھرنوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہو ۔ اس ہمہ جہت صوتحال کا تقاضہ ہے کہ ایک لائین آف ایکشن ترتیب دے کر قوم کو اعتماد میں لے کر میڈیہ کو بریف کر کے دشمن پر اٹیک کیا جائے اور مہلت نہ دی جائے ۔ اصل پالیسی ساز غداروں کا سر کچل دیا جائے اور عام عوام جو حقیقت حال سے ناواقف ہیں اور سطحی معلومات رکھتی ہیں ان کو نہ چھیڑا جائے تو مسئلہ جلد ہو گا ورنہ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں کرمنلز اور مافیاز اپنی اسپیس بنا لیں گی جس سے آپرشن وطن پرست متاثر ہو گا اور پاکستان کو اقتصادی راہداری کی تکمیل میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا جو کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہونا چاہیے ۔ صابر جلیل ایڈوکیٹ ہائیکورٹ پی ایس پی میرپورخاص ۔

Labels:

Friday, July 15, 2016

متحدہ کی باقیات

ایم کیو ایم میں اب تین قسم کے لوگ رہ گئے ہیں ۔ 1 . وہ لوگ جن کے ذاتی مفادات ان سے وابستہ ہیں مثلا رہائش ، وظائف ، وغیرہ ۔ 2.   وہ لوگ جن کو مفادت ملنے کی توقع ہے مثلا ناظمی ، مئیر شپ ، ٹھیکے ،وغیرہ ۔ 3 . وہ لوگ جو ڈرپوک ہیں اور مصلحت کا شکار ہیں مثلا فاروق ستار اور اس قبیل کے دیگر لوگ جن کی گاڑی نیوٹرل گئیر میں ہے اور کسی بھی مناسب وقت پر جب ان میں حوصلہ قائم ہو جائے یہ رورس گیئر مار دیں گے ۔۔ ان تینوں قبیل کے علاوہ ایک گروہ ہے جو چند لوگوں کو کا ہے اور ٹاپ موسٹ لوگوں پر مشتمل ہے وہ اس انتظار میں ہیں کہ کب دادا مریں اور کب بیل بٹیں ۔۔۔۔۔صابر جلیل ایڈوکیٹ ہائی کورٹ پی ایس پی میرپورخاص

Labels:

Sunday, July 10, 2016

مہاجر نہیں ہیں ، ہم یہاں بس چکے ہیں پاکستانی ہیں

اردو قوم پورے پاکستان میں آباد ہیں ہر سیاسی پارٹی میں لیڈر بھی ہیں اور ووٹر بھی ،، پاکستان بنتے وقت یہ مسلم لیگی تھے پھر جے یو پی اور جماعت اسلامی سے وابستہ ہو گئے  تین صوبوں میں بسنے والوں نے کبھی اپنے آپ کو مہاجر نہیں کہلوایا اور ہمیشہ پاکستانی ہونے پر فخر کیا اور قربانی تو مشرقی پنجاب کی سرحد سے ہجرت کرنے والوں نے دی جو ٹرینیں خون سے رنگین کی گیئں ،، کھوکھراپار بارڈر سے اگر کوئی ٹرین سے گر کر شہید ہوا ہو تو نہیں کہہ سکتے باقی کئی خاندان تو اس بارڈر سے بار بار آئے اور گئے 1956 تک یہ سلسل چلتا رہا ،، پھر یہ مہاجر نام پر ہماری قیمت کم کر کے کس نے لگائی اور اس نام کے لگانے سے ہمیں کیا فائدہ ملا اور لیڈر نے خود اور اپنی فیملی کو کہاں سے کہاں پہنچایا ،، عظیم طارق نے جب اس راز سے پردہ اٹھانا چاہا کہ کسی نظریا کا کوئی وجود نہیں سب غبارہ کی ہوا اور آنکھوں میں دھول ہے تو انہیں اللہ کی امانت اللہ ہی کے سپرد کروا دیا ،، ہر ادرو بولنے والا شخص پاکستان میں بحیثیت پاکستانی قابل عزت وتکریم ہے اور اس کی مثال ریاست کا ایدھی صاحب کو دیا جانے والا پروٹوکول ہے اور زندوں میں ڈاکٹر ادیب الحسن کی عزت و احترام ہے ۔۔ متحدہ نے مہاجر نعرے کے ذریعہ اردو بولنے والوں کو اردو قوم کو کچھ نہیں دیا سوائے رسوائی کے ،، اگر موت کا ڈر نہ ہو تو بزدل ملک میں ہوں اپنوں کے بیچ ان کے غم میں شریک مگر یہ کسی صورت وطن نہیں آسکتے کہ ضمیر کا سودا تو دشمن ملک بھارت سے کر چکے ہیں ۔۔ جاری ہے

Labels:

Tuesday, July 5, 2016

اب نہیں تو کب ۔۔ را ایجنٹس کے خلاف کاروائی کیوں ضروری

بس چند دنوں کی بات ہے یہ بھاگ جائیں گے ،، یہ تھا وہ جملہ جو متحدہ والے مسلسل اپنے کارکنوں کو پاک سر زمین کی قیادت کے بارے میں تسلیاں دیتے ہوئے کہتے تھے اور پھر چند مہینوں کا ٹائم دیتے نظر آئے لیکن پہ در پہ ڈسٹرکٹ کمیٹیوں کا اعلان اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کی شمولیت اور ملک سے باہر خاص طور پر لندن یو کے میں پاک سر زمین پارٹی کی مقبولیت نے اچھوں اچھوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ان کو ہلکہ نہ  لو ۔ متحدہ کی پاکستانی قیادت کی باڈی لینگویج بتا رہی ہے کہ وہ پارٹی سربراہ کی طرف سے اداروں کے لیے بدزبانی کو زیادہ عرصہ تک فیس نہیں کر سکیں گے اور شوشل میڈیا پر لندن میں مقیم ٹیوٹر مافیہ کے اداروں کے مخالف ٹرینڈز کو مقامی قیادت انڈوزڈ کرتے ہوئے احتیاط کر رہی ہے ،، پاک سرزمین پارٹی اور پاک فوج کی اعلی قیادت کو یہ باور ہو چکا ہے کہ را کے اس ونگ کے خلاف اب نہیں تو کب کے مصداق آخری کیل ٹھونکنی واجب ہو گئی ہے ۔۔ دیر کرنے کی صورت میں متحدہ کے سلیپر سیلز اور را کے دیگر ذرائع متحرک ہو سکتے ہیں اور عوام کو ایک مرتبہ پھر کوئی بھڑکتا ہوا نعرا دے کر فساد کی آگ میں جھونک سکتے ہیں  ، متحدہ کے غیر قانونی مالی ذرائع بند کیے جانے لازمی ہو گئے ہیں ،، بگڑتی ہوئی عالمی صورت حال ایک پر امن کراچی کا تقاضہ کر رہی ہے جس سے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاالقوامی طور پر حالات ساز گار ہونگے اور معشیت ترقی کرے گی ۔۔ہمیں اپنی عسکری قیادت پر اعتماد ہے اور پاک سر زمین پارٹی کی  قیادت سید مصطفی کمال کی سربراہی میں اس شہر کراچی اور اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔ شب کو سنوارنے کا ہنر ہم پہ چھوڑ دو ۔۔ تم تھک چکے ہو اب یہ سفر ہم پہ چھوڑ دو ۔۔ صابر جلیل ایڈوکیٹ پی ایس پی میرپورخاص سندھ ۔