ایم کیو ایم نوشتہ دیوار پڑھ لے ۔۔۔
نوشتہ دیوار ۔۔۔ جب بھی قدرت نے متحدہ کو موقع دیا اس نے اپنا سیاسی مینڈٹ بیچ کر اس کی ادئیگی لندن میں کروا لی ۔۔ صرف ایک مطالبہ بتا دو جس کو آپ نے منظور کروایا ہو ، پی پی کے اتحادی ،، مسلم لیگ کے اتحادی آج حکومت کے اندر کل حکومت سے باہر ،، شہریوں نے تو ہر بار مینڈٹ دیا اور راہنما ہی رہزن نکلا کہ مینڈٹ کو کیش میں وصول کیا ہر بار اور بار بار ،، اب متحدہ کے بعد دوبارہ مہاجر قومی مومنٹ بننے کی تیاری صرف اس مہاجر نعرے کو کتنی بار کیش کروائے گا یہ فرعون صفت چار کا ٹولہ ،، اگر بتیس سال میں ایک بنیادی مطالبہ بھی پورا کروایا ہوتا تو آئندہ کے بتیس سال بھی اس کے حوالے کر دیتے لیکن ہماری اور اسکی بھرپور جوانی جب مٹی ہو گئی تو معاف کرنا میرے بیٹوں اور بیٹی کا مستقبل اس مدہوش کے ہاتھ میں نہیں دیا جا سکتا کہ بتیس سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے جو بادی النظر میں گنوا بیٹھے ہیں ،، ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن ۔۔۔ دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ۔۔۔ نہ صوبہ اور نہ ملک یہ تو ہم سے پاکستان کی شہریت بھی چھیننا چاہتا ہے کہ محصورین بنگلہ دیش کی طرح کا سانحہ کروا کر ہمیں کیمپوں میں زندگی گزارنی پڑے ۔۔ ہم کو تو یہ بات سمجھ میں آگئی آپ کو چند دن یا چند مہینوں میں سمجھ میں آجائے گی ۔۔۔ اپنے بچوں کی طرف نظر کرو ان کو دیکھو اور سوچو کہ پچھلے بتیس سال میں ان کے لیے کیا کیا تم نے کہ صرف کہا کہ ، ہم کو منزل نہیں راہ نما چاہیے اور ہم نہ ہو ہمارے بعد کے نعرے دیے ،، غور کرو تم نے اپنے بچوں کے لیے کیا کیا صرف نعرے اور نعرے جب مقبولیت میں کمی آتی دیکھی فورا مہاجر بن گئے اور بھول گئے کہ کچھ عرصہ پہلے اپنے آپ کو اردو بولنے والے سندھی کہلایا تھا اور ترانے بجوائے تھے کہ گلی گلی اب گونج رہا ہے سندھ امڑ کا نعرہ اور نعرہ لگایا تھا سندھ مہنجی ماں آھی ،، سندھ میری ماں ہے اور کوئی اپنی ماں کے ٹکڑے نہیں کرتا تو جان لو کہ پاک سر زمین پارٹی کو اپنے لیے تھریٹ سمجھتے ہوئے متحدہ کا لیڈر پھر عصبیت کا بیج بو رہا اور مہاجر نعرہ استعمال کر رہا ہے ۔۔۔ لیکن سندھ کے شہری عوام جماعت اسلامی اور جے یو پی کو ڈیلیور نہ کرنے پر چھوڑ کر ایم کیوایم میں آئے تھے اور اب متحدہ کو چھوڑ کر پاک سرزمین پارٹی جوائین کر رہے ہیں اور وہ بھی متحدہ کے عروج کے زمانے میں کہ اتنا بڑا مینڈٹ اس سے پہلے کبھی نہیں ملا تھا ۔ مگر مینڈٹ کو استعمال نہ کر سکنا قیادت کی غلطی ہے نہ کہ عوام کی ۔۔۔۔ شاید کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔۔۔۔۔ صابر جلیل ایڈوکیٹ پی ایس پی میرپورخاص سندھ ۔
Labels: PSP PAKISTAN
