Sunday, November 20, 2016

ایک قابل فکر پہلو یہ بھی ہے کیا کچھ داؤ پر لگایا جاسکتا ہے اوریا مقبول جان CPEC

#CPECایک قابل فکر پہلو یہ بھی ہے
کیا کچھ داؤ پر لگایا جاسکتا ہے
اوریا مقبول جان

دنیا کی سب سے فعال آبی گزرگاہ "نہر سویز " ہر سال 5.5- ارب ڈالر کمانے کے باوجود اگر مصر جیسے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں کرسکی اور وہ آج اپنی حیثیت کی بحالی کے لیے "عالمی قرضوں" کی راہ دیکھ رہا ہوتا ہے۔
👈 تو کیا چین کی مدد سے بننے والی اقتصادی راہداری پاکستان کی تقدیر بدل دے گی...🤔🤔🤔

👈 تقریباً200- کلو میٹر طویل اس نہر کی کھدائی 25 ستمبر 1859ء میں شروع ہوئی -
🔹 10- سال بعد 17 نومبر 1869ء کو اس کا افتتاح ہوگیا۔

🔹یہ نہر بحراوقیانوس سے متصل بحر قلزم کو اور بحر ہند سے متصل بحرالکاہل کو ملاتی ہے۔
🔹 یوں امریکا اور یورپ کے جہاز 7000 کلو میٹر کے سفر کی بچت کرتے ہوئے اپنی تجارت کو فروغ دیتے ہیں۔
🔹 فرانس کے سفیر فرڈنینڈ ڈی لیس پس Ferdinand De Less-ps نے خلافت عثمانیہ کے والیٔ مصر محمد سعید پاشا سے ایک کمپنی بنانے کی اجازت طلب کی جو نہر سویز کی کھدائی کرے گی اور پھر ننانوے سال تک وہ اسے استعمال کرے گی۔

👈برطانیہ اس زمانے میں سب سے بڑی بحری قوت تھا لیکن اس نے اس نہر کی کھدائی کی مخالفت کی۔
🔹 برطانوی میڈیا روز خبریں اور مضامین شایع کرتا کہ 30000- غلاموں سے اس نہر کی کھدائی کروائی جارہی ہے جو انسانیت کے لیے بہت بڑا سوال ہے۔
🔹 فرڈنینڈ نے برطانیہ کو ایک طویل خط لکھا اور کہا کہ اس وقت آپ کا ضمیر کہاں مرگیا تھا جب اسی طرح کے غلاموں سے مصر میں برطانوی کمپنی ریلوے لائن بچھا رہی تھی اور سرنگیں کھودتے سیکڑوں مزدور ہلاک ہوگئے تھے۔

🔹فرانس اس زمانے میں امریکا کا اتحادی تھا اور اس نے امریکا کو برطانیہ کی غلامی سے آزادی دلانے میں مدد کی تھی۔ اسی لیے نہر سویز نے امریکی تجارت کو چار چاند لگادیے۔
🔹 امریکا نے اس نہر کے مکمل ہونے سے چھ ماہ قبل پورے امریکا میں سانس فرانسسکو سے لے کر نیویارک تک ریلوے لائن بچھا دی تھی۔ یوں امریکی مال کا راستہ پوری دنیا کے لیے آسان ہوگیا۔ اس نہر کا سب سے بدترین نتیجہ براعظم افریقہ کی غلامی تھی۔ اس کے مختلف حصوں پر یورپی ممالک قابض ہو گئے اور یہ اس قدر بدترین حکمران تھے کہ جب وہ یہاں کی معدنیاتی دولت لوٹ کر واپس گئے تو افریقہ کو غربت، افلاس، بیماری اور قحط تحفے میں دے گئے۔

🔹نہر سویز بن گئی، جہازوں کی آمدورفت شروع ہوئے عرصہ ہوگیا۔
🔹عالمی تجارت کو پر لگ گئے لیکن مصر کی غربت ختم ہوئی اور نہ ہی قرضہ....🤔
🔹سعید پاشا کے جانشین اسماعیل پاشا نے قرضہ اتارنے کے لیے سویز نہر میں حکومت کے 40- پونڈ کے حصص کو برطانوی حکومت کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ یہ رقم ایک یہودی سرمایہ کار خاندان روتھ شیلڈز Roth Schilds نے ادا کی۔

👈تجارت چونکہ "عالمی بنیکاروں" کے سرمائے سے چلتی ہے اس لیے برطانیہ، جرمنی، ہنگری، ہالینڈ، اسپین، روس اور آسٹریا نے 29 اکتوبر 1888ء میں خلافت عثمانیہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا‘ جسے استنبول معاہدہ کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت نہر سویز ایک عالمی گزرگاہ قرار پاگئی جس کی ملکیت پوری دنیا کی ہو گئی اور طے پایا کہ اس میں جنگ اور امن دونوں صورتوں میں جہاز گزرتے رہیں گے۔
🔹 یہ مصر کی سرزمین سے گزرتی تھی لیکن اس کو چلانے اور اس کی دیکھ بھال کی ذمے داری "برطانیہ " کو سونپ دی گئی۔
🔹مصر پر جمال عبدالناصر کی حکومت آئی تو اس کا جھکاؤ سوویت یونین کی جانب ہوگیا۔

🔹مصر دریائے نیل پر "اسوان بند" بنانا چاہتا تھا۔ امریکا اور برطانیہ نے امداد روک دی۔ 🔹جمال عبدالناصر نے سویز نہر کو قومی ملکیت میں لے لیا۔
🔹 عالمی طاقتوں کی آشیرباد سے اسرائیل نے 1967ء میں عرب ممالک پر حملہ کردیا۔ 🔹یروشلم کا مقدس شہر اور نہر سویز اس کے قبضے میں چلے گئے۔ پورا علاقہ جنگ کے خوف میں ڈوب گیا۔

👈جنگ کے دوران 15 جہاز سویز نہر میں پھنس گئے تھے۔ وہ 8- سال تک وہاں پھنسے رہے اور انوار سادات کی اسرائیل سے جنگ، فتح، امریکا کی طرف جھکاؤ، کیمپ ڈیوڈ معاہدہ اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد 1975ء میں یہ دوبارہ کھول دی گئی۔
🔹 آج اسے کھولے ہوئے 51- سال ہوچکے۔
🔹ہر روز 50- جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔ پوری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس سے اپنی تجارتی سلطنت میں اضافہ کرتے ہیں۔
🔹 5.5- ارب ڈالر سالانہ کمانے والی یہ نہر سویز ...مصر کی پسماندگی دور نہ کرسکی۔

👈 حالت یہ ہے کہ اب مصر اس نہر کو "دو رویہ " کرنے کے منصوبے پر کام شروع کرنے والا ہے جس پر 8- ارب ڈالر لاگت آئے گی اور وہ یہ رقم عالمی قوتوں کو بانڈ بیچ کر حاصل کرے گا اور اس کے اقتصادی ماہرین عوام کے سامنے یہ نقشے پیش کررہے ہیں کہ اس طرح نہر سویز سے ہونے والی آمدن5.5- ارب ڈالر سے بڑھ کر 12- ارب ڈالر ہوجائے گی اور "بددیانت سیاسی قیادت" ایک بار پھر عوام کو خواب دکھا رہی ہے، جس کے نتیجے میں قوم "قرضے کی دلدل" میں پھنستی چلی جائے گی اور حسنی مبارک جیسے حکمرانوں کے غیر ملکی اثاثوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

🔹"انفراسٹرکچر" کے ذریعے ترقی کا خواب ہر ایسے پسماندہ ملک کو دکھایا جاتا ہے جس کے پاس "معدنی وسائل اور زرعی زمین"  موجود ہو پھر اس کو قرض کی دلدل میں پھنسا کر سب کچھ ہتھیا لیا جاتا ہے۔

👈 "آمدورفت کے ذریعے" ترقی کا راگ الاپنے والے یہ سیاست دان اور معاشی پنڈت بھول جاتے ہیں کہ خود برصغیر پاک وہند کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ... 🔹1872ء سے لے کر 1895ء تک انگریز نے ریلوے لائن بچھائی۔
🔹بلوچستان کے چپے چپے کو اس کے ساتھ منسلک کیا۔ کئی سرنگیں کھود کر پٹڑی گزاری گئی۔

خیبر سے کراچی تک لائن بچھی‘ ...👈لیکن ترقی صرف وہیں ہوئی جہاں انگریز چاہتا تھا۔
🔹تمام تعلیمی ادارے راولپنڈی سے لے کر لاہور تک محدود تھے۔
🔹 نہری نظام،
🔹صحت کی سہولیات... سب پنجاب کے حصے میں رکھ دی گئیں کیونکہ 1857ء کی جنگ آزادی میں یہاں کے "زمینداروں اور ملتان کے پیروں " نے سپاہیوں کی ایک کثیر تعداد انگریز کو فراہم کی تھی..🤔

🔹سندھ ویران رہا، وہاں اگر تعلیمی ادارے کھلے بھی تو پرائیویٹ،
🔹 بلوچستان کو اس قدر عالمی سطح کی ریلوے لائن نے کیا دیا.....
🔺...پسماندگی،
🔺 ...غربت،
🔺 ...افلاس،
🔹 کیا وہاں اسکول، کالج اسپتال کھولے گئے۔ وہاں تو ان کی کوئلے کی کانوں میں بھی جدید آلات نصب نہ ہوئے۔ وہ جیسے غربت کے مارے تھے ویسے ہی رہے۔
🔹 البتہ چند سرداروں کی جیبیں بھریں اور کوئٹہ میونسپلٹی اور "کینٹ" خوبصورت بن گیا کہ یہ حکمرانوں کی بستی تھی۔

🔹لاہور سے اسلام آباد کے موٹروے پر آج بھی 1000- سالہ پرانی تہذیب نظر آتی ہے۔

اس ملک کو اقتصادی راہداری کا نیا خواب دکھایا جارہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس کے بنتے ہی پاکستان کا ہر شہری خوشحال ہوجائے گا۔

👈جس ملک میں کرپشن کے گدھ چاروں طرف منڈلا رہے ہوں ، وہاں ایک نہیں 10- اقتصادی راہداریاں بھی بنالی جائیں اس ملک کی غربت دور نہیں ہوسکتی...
🔹... بلکہ ویسے ہی جیسے "نہر سویز" مصر کی غربت دور نہ کرسکی۔

👈کتنے لوگ، خاندان اور گروہ ہیں.....
🔹 جو روز اس گلے سڑے  نظام کے تسلسل کی بات کرتے ہیں۔
🔹روز دعائیں کرتے ہوں گے، مزاروں پر چڑھاوے اور دیگیں چڑھاتے ہوں گے۔
🔹 تبصرہ نگاروں کو سرمایہ فراہم کرتے ہوں گے کہ اس جمہوری نظام خصوصاً موجودہ حکومت کے بقا کی بات کرو۔

👈اسی گلے سڑے  جمہوری نظام کا کما ل یہ ہے کہ وزیراعظم فارغ ہوسکتا ہے لیکن سوئٹزر لینڈ میںجمع دولت پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا۔

👈کیا کمال کی منطق ہے کہ قوم کشمیر کی آزادی کے لیے متحد ہوجائے لیکن کرپشن کے خلاف متحد نہ ہو۔

👈 کس قدر بدقسمت ہوتی ہے وہ قوم جو جنگ پر روانہ ہو اور اس کے لیڈروں پر کرپشن کے الزامات ہوں۔

👈جس قوم کو ترقی کے خواب گزشتہ سترسال سے دکھائے جارہے ہوں اور اس کے دامن میں غربت و افلاس آئے۔

Monday, November 14, 2016

ندیم نصرت کی چندہ مہم یا دھوکا ۔

ندیم نصرت فرماتے ہیں کہ لندن سیکریٹریٹ کے فون عدم ادائیگی کی وجہ سے بند پڑے ہیں اور کارکنان لندن پیسے بھیجیں۔۔۔۔۔۔

جب ہر دوسرے مہینے ندیم نصرت اور واسع جلیل پارٹی کے خرچے پر امریکہ یاترا ہوتی ہے تو لندن کے فون بل کا خیال نہیں آتا

جب ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم میں ندیم نصرت، امریکہ کے محنت کش کارکنان سے جمع کی گئی 50 ہزار ڈالر کی خطیر رقم، اپنے نام سے ہیلری کلنٹن کی مشیر خارجہ امور Laura Rosenberger کو بطور چندہ دے رہے تھے تو لندن کے فون بل کا خیال نہیں آیا

جس بابر غوری نے اپنے کالے کرتوتوں سے مہاجروں اور ایم کیو ایم کو بدعنوان مشہور کیا، یہ اس سے پارٹی فنڈ کے 60 کروڑ روپے کیوں نہیں مانگتے؟ اور غریب کارکنان کو بیوقوف بنا کر پیسے مانگ رہے ہیں۔۔

ٹیلی فون کے بل مانگنے والے آج بھی لندن میں پارٹی کی کروڑوں روپے کی جائیداد میں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہ رہے ہیں، انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کے سارے وفادار پارٹی کے تنخواہ دار ہیں۔۔۔

جب بل جمع کرنے کی نوبت آئے تو وہ بھی کارکن دے

ذرا سوچیئے۔۔۔

Labels:

Saturday, November 12, 2016

آپ کمیشن بنوا لیں۔۔ آپ احتساب کر لیں۔۔

آپ کمیشن بنوا لیں۔۔ آپ احتساب کر لیں۔۔                    The core team of PM, consisting of Ishaq Dar and Fawad H. Fawad, has finalised the plan to get favourable decision from the Judges in Panama Papers scandal on the pattern of election rigging tribunal.
1. The TORs are too wide, vague, and complicated to produce any meaningful results. A trick hardly any one in opposition can understand.
2. The registrar and additional registrar are DMG bureaucrats, handpicked by his close bureaucrat Mr. Fawad  Hassan Fawad, though these two posts are judicial posts, but PM Team managed to post DMG bureaucrats on these posts.
3. Both registrar and additional are in line for their further promotion for which PM is the competent authority to decide their fate.
4. The coordination is being done through Barrister Zafrullah, Mohiddudin Wani, a former CJ and Ramday.
5. The winning team has been given the task again to perform as they manipulated and managed the election rigging tribunal.
6. Former registrar of Supreme Court has been posted secretary establishment division directly under the PM as reward.
7. The secretary of Supreme Court tribunal on Election Rigging, Mr. Hamid Ali, a bureaucrat, has been posted to Spain as Commercial counsellor as reward, though he got lowest written marks in the LUMS test.
8. Both sons of law of chief Election Commissioner have been posted on coveted posts, one in Geneva and other on lucrative post of DG housing authority.
9. So the stage is set for exonerating the PM Shareef, declare him innocent, rather whiten his all offshore assets for all times to come.

Labels:

Monday, November 7, 2016

پاک فوج کے دفاعی اخراجات کے خلاف پروپیگینڈہ کیوں ۔ آئیے ذرا سمجھیں ۔

پاک فوج کے دفاعی اخراجات کے خلاف پروپیگینڈہ کیوں ۔ آئیے ذرا سمجھیں ۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پاک فوج ملک کا 80٪ فیصد بجٹ کھا جاتی ہے اور کرتی کچھ نہیں " ۔۔۔
کچھ انتہائی دلچسپ حقائق ملاحظہ کیجیے ۔
پہلے یہ تو سن لیں کہ اس بار کل 42 ارب ڈالر کا بجٹ پیش کیا گیا جس میں سے پاک فوج کا حصہ 6.8 ارب ڈالر ہے جو تقریبا 15٪ بنتا ہے ۔۔۔۔ ۔۔ اور دوسری بات ۔۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ پاک فوج دنیا میں کم ترین پیسے لینے والی افواج میں سے ایک ہے ۔۔۔؟؟؟؟
بدقسمتی یا خوش قسمتی سے پاکستان اپنی ایک مخصوص اسلامک آئیڈیالوجی اور نہایت اہم سٹریٹیجک لوکیشن کی وجہ سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ دشمن رکھنے والا ملک ہے ۔۔۔۔۔ پاکستان کے وجود کو ختم کرنا یا کم از کم اسکی دفاعی طاقت کو توڑنا اس وقت دنیا کے چند طاقتور ترین ممالک کا مشترکہ ایجنڈا اور مفاد ہے جن میں انڈیا ، امریکہ اور اسرائیل سرفہرست ہیں اور پھر انکے اتحادی یعنی نیٹو اور افغانستان جیسے مسلم ممالک بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
اسی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی 3600 کلومیٹر سرحد جنگی لحاظ سے ایکٹیو ہے جو پاکستان کو دنیا میں سب سے بڑی جنگی ایکٹیو سرحد رکھنے والا ملک بناتی ہے ۔۔!
جبکہ اندرونی حالات یہ ہیں کہ ۔۔۔
پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان جسکا کل رقبہ تقریباً آدھے پاکستان کے برابر ہے حالت جنگ میں ہے !
کراچی جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے حالت جنگ میں ہے اور وہاں دہشت گردوں کے خلاف ایک مستقل آپریشن جاری ہے ۔
پاکستان کے شمال میں واقعہ پورا قبائیلی علاقہ جو جنگی لحاظ سے دنیا کا مشکل ترین خطہ سمجھا جاتا ہے پوری طرح حالت جنگ میں ہے اور وہاں ہماری کم از کم ڈھائی لاکھ آرمی دہشت گردوں سے برسرپیکار ہے ۔
پاکستان کی دفاعی ضروریات کس نوعیت کی ہونی چاہئیں اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ لیکن حیران کن طور پر ۔۔
دنیا کی پانچویں بڑی آرمی ( پاک فوج ) اخرجات کے لحاظ سے دنیا میں 25 ویں نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کا بہت بڑا ایٹمی اور میزائل پروگرام بھی ان اخراجات کا حصہ ہے ۔
پاکستان کے دفاعی اخراجات ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا محض 2.8 فیصد ہیں ۔ (خیال رہے کہ یہ مجموعی قومی پیدوار ہے نہ کہ بجٹ )۔۔۔
جبکہ امریکہ کے دفاعی یا ملٹری اخراجات انکے کل پیداوار کا 4.7 فیصد ہیں ۔۔۔۔
روس کے 3.9 فیصد ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسرائیل کے 6.9 فیصد ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
سعودی عرب کے 11.4 فیصد ہیں ۔۔۔۔۔۔
عرب امارات کے 6.9 فیصد ۔۔۔۔۔۔۔
افغانستان کا 6.4 فیصد ہے ۔۔۔
پاکستان سے رقبے اور آبادی کے لحاظ سے 5 گنا بڑے انڈیا کے دفاعی اخراجات پاکستان سے 8 گنا زیادہ ہیں ۔ پاکستان کے 6.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں انڈیا کے دفاعی اخرجات 50 ارب ڈالر زیادہ ہیں جس میں نریندر مودی مزید اضافہ کررہا ہے۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!
امریکہ کے کل دفاعی اخراجات 642 ارب ڈالر ہیں ۔
چین کے دفاعی اخراجات 160 ارب ڈالر ہیں ۔
پاکستان سے اپنے دفاع کے لیے فوجی مدد طلب کرنے والے سعودی عرب کے کل دفاعی اخراجات 81 ارب ڈالر ہیں ۔
پاکستان کے ہاتھوں شکست کھانے والے روس کے دفاعی اخراجات 70 ارب ڈالر ہیں ۔
82 لاکھ آبادی رکھنے والے اسرائیل کے دفاعی اخرجات 23 ارب ڈالر ہیں ۔
افغانستان جیسے ٹوٹے پھوٹے ملک کا دفاعی بجٹ 11 ارب ڈالر ہے ۔
بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہونگے کہ ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت ۔۔۔۔۔۔ کولمبیا، سنگاپور ، تائیوان ، چلی اور ناروے جیسے ممالک کے ملٹری اخراجات بھی پاکستان سے زیادہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
حضور (ص) کے گھر میں اکثر کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا ۔ جس دن فوت ہو رہے تھے گھر میں دیا روشن کرنے کے لیے تیل تک نہیں تھا لیکن گھر کی دیواروں پر 9 تلواریں لٹک رہی تھیں۔
پاکستان کے بے پناہ وسائل کا استحصال کرنے والے اور بے انتہا لوٹ مار کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو تباہ کر دینے والے اکثر سیاست دان پاکستان کے تمام مسائل کا حل یہ سمجھتے ہیں کہ " دفاعی اخراجات کم کریں" ۔۔۔۔۔۔!
مذکورہ ممالک میں سے کوئی ایک بھی اپنے دفاع پر سمجھوتہ نہیں کرتا نہ وہاں دفاعی اخراجات کے خلاف کوئی آواز اٹھتی ہے ۔ حالانکہ ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کو کہیں کسی بھی جنگ کا سامنا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ان سارے حقائق کو سمجھنے کے بعد یہ سوال دماغ میں ضرور اٹھتا ہے کہ پاکستان کے دفاعی بجٹ پر اعتراضات کرنے والے لوگ کون ہیں ؟
نادان دوست یا دانا دشمن ؟؟

Saturday, November 5, 2016

Authentic List Of Asif Ali Zardari's Assets According To Govt. Officials

As received:
Here is an Authentic List Of Asif Ali Zardari's Assets According To Govt. Officials.. (as of 2013)

Plot no. 121, Phase VIII, DHA Karachi.
Agricultural land situated in Deh Dali Wadi, Taluka, Tando Allah Yar.
Agricultural property located in Deh Tahooki Taluka, District Hyderabad measuring 65.15 acres.
Agricultural land falling in Deh 76-Nusrat, Taluka, District Nawabshah measuring 827.14 acres
Agricultural land situated in Deh 76-Nusrat, Taluka, District Nawabshah measuring 293.18 acres
Residential plot No 3 (Now House) Block No B-I, City Survey No 2268 Ward-A Nawabshah
Huma Heights (Asif Apartments) 133, Depot Lines, Commissariat Road, Karachi
Trade Tower Building 3/CL/V Abdullah Haroon Road, Karachi
House No 8, St 9, F-8/2, Islamabad
Agricultural land in Deh 42 Dad Taluka/ District Nawabshah
Agricultural land in Deh 51 Dad Taluka Distt Nawabshah
Plot No 3 & 4 Sikni (residential) Near Housing Society Ltd. Nawabshah
CafT Sheraz (C.S No.. 2231/2 & 2231/3) Nawabshah
Agricultural land in Deh 23-Deh Taluka & District Nawabshah
Agricultural property in Deh 72-A, Nusrat Taluka, Nawabshah
Agricultural land in Deh 76-Nusrat Taluka, Nawabshah
Plot No. A/136 Survey No 2346 Ward A Government Employee’s Cooperative Housing Society Ltd, Nawabshah
Agricultural land in Deh Jaryoon Taluka Tando Allah Yar, Distt. Hyderabad
Agricultural land in Deh Aroro Taluka Tando Allah Yar, Distt. Hyderabad
Agricultural land in Deh Nondani Taluka Tando Allah Yar, Distt. Hyderabad
Agricultural land in Deh Lotko Taluka Tando Allah Yar, Distt. Hyderabad
Agricultural land in Deh Jhol Taluka Tando Allah Yar, Distt. Hyderabad
Agricultural land in Deh Kandari Taluka Tando Allah Yar, Distt. Hyderabad
Agricultural land in Deh Deghi Taluka Tando Mohammad Khan
Agricultural land in Deh Rahooki Taluka, Hyderabad
Property in Deh Charo Taluka, Badin
Agricultural property in Deh Dali Wadi Taluka, Hyderabad
Five acres prime land allotted by DG KDA in 1995/96
4,000 kanals on Simli Dam
80 acres of land at Hawkes Bay
13 acres of land at Maj Gulradi (KPT Land)
One acre plot, GCI, Clifton
One acre of land, State Life (International Center, Sadar)
FEBCs worth Rs. 4 million

SHARES IN SUGAR MILLS INCLUDE:

Sakrand Sugar Mills Nawabshah
Ansari Sugar
Mills Hyderabad
Mirza Sugar Mills Badin
Pangrio Sugar Mills Thatta
Bachani Sugar Mills Sanghar

FRONT COMPANIES IN FOREIGN COUNTRIES:

Bomer Fiannce Inc, British Virgin Islands
Mariston Securities Inc, British Virgin Islands
Marleton Business S A, British Virgin Islands
Capricorn Trading S A, British Virgin Islands
Fagarita Consulting INc, British Virgin Islands
Marvil Associated Inc, British Virgin Islands
Pawnbury Finance Ltd, British Virgin Islands
Oxton Trading Limited, British Virgin Islands
Brinslen Invest S A, British Virgin Islands
Chimitex Holding S A, British Virgin Islands
Elkins Holding S A, British Virgin Islands
Minister Invest Ltd, British Virgin Islands
Silvernut Investment Inc, British Virgin Islands
Tacolen Investment Ltd, British Virgin Islands
Marlcrdon Invest S A, British Virgin Islands
Dustan Trading Inc, British Virgin Islands
Reconstruction and Development Finance Inc, British Virgin Islands
Nassam Alexander Inc.
Westminster Securities Inc.
Laptworth Investment Inc 202, Saint Martin Drive, West Jacksonville
Intra Foods Inc. 3376, Lomrel Grove, Jacksonville, Florida
Dynatel Trading Co, Florida
A..S Realty Inc. Palm Beach Gardens Florida
Bon Voyage Travel Consultancy Inc, Florida

ZARDARI’S PROPERTIES IN UK ARE:

355 acre Rockwood Estate, Surrey (Now stands admitted)
Flat 6, 11 Queensgate Terrace, London SW7
26 Palace Mansions, Hammersmith Road, London W14
27 Pont Street, London, SW1
20 Wilton Crescent, London SW1
23 Lord Chancellor Walk, Coombe Hill, Kingston, Surrey
The Mansion, Warren Lane, West Hampstead, London
A flat at Queensgate Terrace, London
Houses at Hammersmith Road, Wilton Crescent, Kingston and in Hampstead.

ZARDARI’S PROPERTIES IN BELGIUM ARE:

12-3 Boulevard De-Nieuport, 1000, Brussels, (Building containing 4 shops and 2 large apartments)
Chausee De-Mons, 1670, Brussels

ZARDARI’S PROPERTIES IN FRANCE ARE:

La Manoir De La Reine Blanche and property in Cannes

ZARDARI’S PROPERTIES IN USA — in the name of Asif Zardari and managed by Shimmy Qureshi are:

Stud farm in Texas
Wellington Club East, West Palm Beach
12165 West Forest Hills, Florida
Escue Farm 13,524 India Mound, West Palm Beach
3,220 Santa Barbara Drive, Wellington Florida
13,254 Polo Club Road, West Palm Beach Florida
3,000 North Ocean Drive, Singer Islands, Florida
525 South Flager Driver, West Palm Beach, Florida
Holiday Inn Houston Owned by Asif Ali Zardari, Iqbal Memon and Sadar-ud-Din Hashwani

ZARDARI’S BANK ACCOUNTS IN FOREGN COMPANIES ARE:

Union Bank of Switzerland (Account No. 552.343, 257.556.60Q, 433.142.60V, 216.393.60T)
Citibank Private Limited (SWZ) (Account No. 342034)
Citibank N A Dubai (Account No. 818097)
Barclays Bank (Suisse) (Account No. 62290209)
Barclays Bank (Suisse) (Account No. 62274400)
Banque Centrade Ormard Burrus S A
Banque Pache S A
Banque Pictet & Cie
Banque La Henin, Paris (Account No. 00101953552)
Bank Natinede Paris in Geneva (Account NO.. 563.726.9)
Swiss Bank Corporation
Chase Manhattan Bank Switzerland
American Express Bank Switzerland
Societe De Banque Swissee
Barclays Bank (Knightsbridge Branch) (Account No. 90991473)
Barclays Bank, Kingston and Chelsea Branch, (Sort Code 20-47-34135)
National Westminster Bank, Alwych Branch (Account No. 9683230)
Habib Bank (Pall Mall Branch).
National Westminster Bank, Barking Branch, (Account No. 28558999).
Habib Bank AG, Moorgate, London EC2
National Westminster Bank, Edgware Road, London
Banque Financiei E Dela Citee, Credit Suisse
Habib Bank AG Zurich, Switzerland
Pictet Et Cie, Geneva
Credit Agricole, Paris
Credit Agridolf, Branch 11, Place Brevier, 76440, Forges Les Faux
Credit Agricole, Branch Haute – Normandie, 76230, Boise Chillaum

حقیقت یہ ہے کہ الطاف حسین نے مہاجروں کے ساتھ جتنی زیادتی کی ہے کسی اسٹیبلشمنٹ نے نہیں کی۔

یہ بات تو حقیقت ہے کہ مہاجروں کو پاکستان میں وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو دوسری قومیتوں کو حاصل ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پولیس اور رینجر اور دوسری ایجنسیاں ہمارے وجود کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اتنے سالوں میں مہاجروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے زبانی جمع خرچ۔ بے شمار احتجاجوں۔ لاتعداد جلسوں اور خطابات کے علاوہ ہم نے کیا کیا؟

ہمیں خود بھی خود احتسابی کے عمل کے ذریعے دیکھنا چاہیے کہ ایم کیو ایم کے قیام کے چیدہ چیدہ مقاصد کیا تھے اور ان مقاصد کے حصول میں ہم کس حد تک کامیاب ہوئے۔

آپریشن کلین اپ کے آغاز سے ہی رینجرز اور آرمی نے مہاجر نوجوانوں کا قتل عام کیا۔ اسی آرمی اور رینجرز کو ہم اچھے وقت میں روزانہ معمولی معمولی باتوں پر خراجِ تحسین پیش کرتے رہے۔

اتنے سال گزر جانے کے باوجود آج مہاجر شناختی کارڈ کے حصول کے لیے پریشان پھر رہے ہیں۔ مشرقی پاکستان سے ہجرت کر کے آنے والوں کے شناختی کارڈوں کی تجدید نہیں ہورہی۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔

کراچی میں وہی دو این ای ڈی یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی۔ کوئی نیا ادارہ نہیں بنا۔ یہ کس کا قصور ہے؟ پیپلز پارٹی نے کراچی میں لیاری میں کتنے تعلیمی ادارے بنا دیے۔ حال ہی میں ملیر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے قیام کا بل پاس ہوا ہے۔

جب سندھی یہ سب کر رہے تھے تو ایم کیو ایم کے لوگ شادی ہال بنانے میں اور چائنہ کٹنگ میں لگے ہوئے تھے۔

کراچی میں ٹرانسپورٹ مافیا کی زیادتیاں ایم کیو ایم کی مقبولیت کی بڑی وجہ تھیں۔ بشری زیدی کیس آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں ہو گا۔ مگر نہیں تو ایم کیو ایم کے لیڈران جو صرف دولت اکھٹی کرنے میں لگے رہے۔

آج دو کروڑ آبادی والے شہر کراچی میں بسوں کی جگہ چنگ چی چلتی ہے اور مہاجر خواتین اس طرح سفر کرتی ہیں کہ ان کے گھٹنے غیر مردوں کے گھٹنوں سے ٹکراتے ہیں مگر ایم کیو ایم کے کسی لیڈر کو غیرت نہیں آتی۔

کراچی میں سرکاری تعلیمی ادارے ایک ایک کر کے بند ہو گئے۔ کوئی نیا کالج نہیں کھلا۔ مگر کسی کو شرم نہیں آتی۔ کیا یہ سب اسٹیبلشمنٹ کا قصور ہے؟

ایم کیو ایم لندن کے لوگ سالہا سال سے پاکستان نہیں آئے۔ اور وہ آنا بھی نہیں چاہتے۔ انھیں معلوم ہی نہیں کہ یہاں کارکنان کس کرب میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے گھر والے کس طرح اپنے پیاروں کے لیے در بدر ہو رہے ہیں؟ چائنہ کٹنگ میں لندن کا ہر لیڈر شامل ہے۔ ہر ایک نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں۔ مگر رونا وہی ایک اسٹینلشمنٹ ظلم کر رہی ہے۔

سالہا سال سے زکات فطرے کے پیسوں سے الطاف حسین نے لندن۔ کینیڈا اور دبئی میں اپنے خاندان کے لوگوں کے نام ہر جائدادیں بنائیں۔ کراچی میں ایک سو بیس گز کے مکان کی دہائی دینے والے الطاف حسین بتائیں کہ وہ لندن میں کتنے گز کے محل میں رہتے ہیں اور کتنی دفعہ کثرت شراب نوشی کی وجہ سے ریہیبیلیٹیشن سینٹر میں داخل ہوئے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ الطاف حسین نے مہاجروں کے ساتھ جتنی زیادتی کی ہے کسی اسٹیبلشمنٹ نے نہیں کی۔ مہاجر نوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم چھین کر اس آدمی نے اسلحہ تمھا دیا اور انھیں یہ بتایا کہ قوم کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ تعلیم سے دور رکھ کر صرف تعصب کو ابھارا اور پاکستان میں ہر ایک سے لڑائی کی۔ خود کو ایک ایسے ولی الله کے طور ہر پیش کیا جو کبھی غلطی کر ہی نہیں سکتا۔

زرا سوچیں ، اندھی تقلید سے بچیں ۔

خدمت خلق فاؤنڈیشن کہنے کو ایک فلاحی ادارہ ہے۔ پچھلے ستائس سالوں سے ایم کیو ایم کے کارکنان رمضان۔ عید اور بقر عید کے موقعہ پر زکات فطرے اور قربانی کی کھالوں کی مد میں سندھ کے شہری علاقوں سے کروڑوں روپے جمع کرتے ہیں۔ اس بحث میں پڑے بغیر کے یہ پیسے جمع کرنے کے لیے کس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ ان 27 سالوں میں جو اربوں روپے جمع ہوئے آخر ان کا ہوا کیا۔

خدمت خلق فاؤنڈیشن کے تحت ایک ہسپتال نذیر حسین ہسپتال کے نام سے فیڈرل بی ایریا میں قائم ہوا ہے جو باقاعدہ ہسپتال کے طور پر کچھ سالوں سے کام کر رہا ہے۔ اس کی تعمیر میں فنڈنگ جاپان کے ادارے جائکا نے کی۔

جتنے سرد خانے تعمیر ہوئے وہ سب سرکاری زمین پر قبضہ کرکے حکومت کے ایم پی اے/ایم این اےکے فنڈ سے تعمیر کیے گئے۔

اسی طرح کچھ ڈسپنسریاں بھی ایم پی اے/ایم این اے کے فنڈ  سے تعمیر کروا کے کے کے ایف کو دے دی گئیں۔

فیڈرل بی ایریا میں سن اکیڈمی سرکاری زمین پر واقع ہے اور تعمیر کے لیے سرکاری فنڈ استعمال ہوا ہے۔

فیڈرل بی ایریا میں واقع نذیر حسین یونیورسٹی بھی قبضے کی زمین پر ہے اور اس کی تعمیر بھی سرکاری فنڈ سے کی گئی ہے۔

سرکاری فنڈ سے تعمیر کا مطلب یہ ہے کہ فائلیں کسی ترقیاتی کام کی بنیں مگر فنڈ استعمال کے کے ایف کے لیے ہوا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدمت خلق فاؤنڈیشن کے لیے ہر سال کروڑوں روپے جمع ہوتے ہیں تو وہ پیسے جاتے کہاں ہیں۔

جواب یہ ہے کہ وہ سارے پیسے لندن میں ایم کیو ایم کے عظیم رہنما اور خود ساختہ بابائے مہاجر قوم کی شاہ خرچیوں اور ان کے خاندان کے افراد کے لیے جائدادیں خریدنے کے کام آتا ہے۔

ایم کیو ایم کے کارکنان پاکستان میں آپریشن بھگت رہے ہیں۔ جیلوں کی سختیاں۔ مقدمات ان کا مقدر ہیں۔ اور لندن میں الطاف حسین دن رات اپنی عیش و عشرت کی زندگی جھیل رہے ہیں۔

اسی زکات فطرے کے پیسے میں سے لاکھوں پاؤنڈ سالانہ بابائے مہاجر قوم کی سیکیورٹی پر خرچ ہوتا ہے۔ کوئی یہ پوچھے کے جناب آپ سال میں صرف کچھ دن صرف تصویر کھنچوانے کے لیے انٹرنیشنل سکریٹیریٹ تشریف لاتے ہیں اور باقی دنوں میں گھر سے بھی نہیں نکلتے تو آپ کو اتنی سیکیورٹی کیا کیا ضرورت ہے اور وہ بھی زکات فطرے اور قربانی کی کھالوں کے پیسے سے؟

جو لوگ ایم کیو ایم کو یہ سوچ کر پیسے دیتے ہیں کہ یہ پیسہ فلاحی کاموں میں خرچ ہوگا تو انھیں سوچنا چاہیے۔

ایم کیو ایم کے کارکنان کو بھی سوچنا چاہیے کہ آخر الطاف حسین پاکستان واپس کیوں نہیں آتے۔ وہ اکثر کہتے رہتے ہیں کہ تمہارا قائد مرد کا بچہ ہے مگر یہ کیسا مرد کا بچہ ہے جو ملک آنا تو کجا لندن میں بھی گھر سے نکلتے ہوئے ڈرتا ہے۔

زرا سوچیں۔ اندھی تقلید سے بچیں۔

Labels:

گورنر سندھ الطاف کے سہولت کار یا وفاق کے نمائندہ

۴ نومبر ۲۰۱۶ الطاف حسین نے ویڈیو پیغام میں آرمی چیف اور پاک افواج کے خلاف دوبارہ غلظ زبان کا استعمال کیا اور صرف گورنر سندہ کے علاوہ تمام لوگوں کو برا بھلا کہا،گورنر سندہ نے کہا کے کراچی اپریشن انہوں نے شروع کروایا واضح رہے الطاف حسین گورنر سندہ کو ہر انکوائری کا ہیڈ بناتے ہیں اور گورنر دبئ راء میٹنگ اور منی لانڈرنگ سمیت چائنہ کٹنگ میں بھی ملوث رہے ہیں،ایم کیو ایم کارکنان کو ۲۰۱۳ سے ۲۰۱۶ تک کس نے گرفتار کروایا اور لاتعلقیاں کیں؟؟ یہ ایم کیو ایم پی آئ بی اور ایم کیو ایم لندن کے ہی نام نہاد کرپٹ راء ٹولہ ہے جس نے گورنر سندہ اور عامر خان جیسے پی آئ بی عناصر کے ہمراہ ۲۰۱۳ سے ۲۰۱۶ تک ایم کیو ایم کارکنان کو گرفتار کروایا اور انکے اہل خانہ ماؤں بہنوں بزرگ والد والدین کو ۹۰ بلا کر زلیل کیا،صولت مرزا کا بیان عوام کے سامنے ہے کے جن سے لاتعلقی کے بعد الطاف حسین اور انکی ایم کیو ایم نے کرمنل کہا،الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے لئے کارکنان ٹوائلٹ پیپر ہیں یہ بات بھی اب واضح ہوچکی ہے،کیونکے ۲۰۱۳ سے ۲۱۰۶ تک کارکنان سے لاتعلقی اور جیل لاش کی سیاست اور مجبوراً ۲۰۱۶ مارچ کے بعد کارکنان کو کارکن مانا گیا،اور جو ایم کیو ایم ایکسپوز ہونے پر ایم کیو ایم سے الگ ہوا ان پر جھوٹے مقدمات خود ایم کیو ایم نے تھونپ ڈالے،ایم کیو ایم کارکنان ۱۹۹۲ سے مثائب جھیلتے رہے اور جب ۲۰۱۶ میں ان نام نہاد ایم کیو ایم پی آئ بی ٹولے پر بات آئ تو یہ نام نہاد کرپٹ ٹولہ کچھ لندن فرار ہوگیا اور کچھ پی آئ بی میں بے غیرت بن کر مصلحت کے نام پر دکان سجا کر بیٹھ گیا،واضح ہوگیا کے ان عناصر کو صرف اپنی لیڈری اور زات سے مطلب اور غریب کارکنان کے لاش جیل پر ہی یہ سیاست کرسکتے ہیں،اسکے ساتھ الطاف حسین اور انکی ایم کیو ایم ۲۹ سالوں تک ہر حکومت کا حصہ رہی انہوں نے کتنی جامعات اور تعلیمی ادارے قائم کئے؟کراچی تک کو پانی فراہم کرنے میں ناکام رہے،ایم کیو ایم الطاف حسین اور ایم کیو ایم لندن ٹولے اور بابر غوری شمیم صدیقی جیسے کرپٹ عناصر اور پی آئ بی جیسے مفاد پرستوں کی اور انکے اہل خانہ کی عیاشی کا دوسرا نام ہے،واضح ہوگیا الطاف حسین کو ایم کیو ایم اپنی زات اور پی آئ بی کے مفاد پرست ٹولے کو اپنی عیاشی کے لئے چاہئے شیم ان ایم کیو ایم راء ٹولہ نا منظور پاکستان زندہ باد

Labels: