Thursday, May 26, 2016

ایم کیو ایم میرپورخاص کے گھنائونے عزائم

اقبال مقدم ، عبدلحسیب ، محمد حسین اور شبیر قائمی ،، عامر خان سے ہدایت لیتے ہوئے ،،، ندیم چند نصرت اور الطاف کی ڈائیریکشن پر عمل کرتے ہوئے ،،،، سندھ کے شہری علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں ،، اس دورے کا مقصد صرف اور صرف پی ایس پی میں شامل ہونے والے متحدہ چھوڑنے والے اور پی ایس پی میں فعال کردار ادا کرنے والے افراد کی نشاندہی کرنا اور ان کی لسٹیں تیار کرنا ہے ،، اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے میرپورخاص ذون میں شامل کیے گئے کرمنل میمبران یونٹ آفسز میں چند بچے کچے کارکنوں سے میٹنگ کر رہے ہیں اور ان کو لندن سے موصول شدہ ہدایات پہنچا رہے ہیں اور بھائیوں کو آپس میں لڑانے کی لندن سازش پر عمل پیراء ہیں ۔۔ سیاسی اختلاف کو دشمنی کے انداز میں پیش کرنے والےعناصر وقتی فائدے کے حصول کے لیے نفرتوں کے بیج بو رہے ہیں ،،، ہم پاکستان کے تمام قانون نافذ کرنے والے ادروں کی توجہ اس فہرست کی تیاری کی جانب دلواتے ہوئے یہ انکشاف بھی کر رہے ہیں کہ چند روز قبل میرپورخاص ذون آفس پر اسلحہ کی ریپیئر کرنے والے کو بلوا کر چا عدد غیر قانونی کلاشنکوف مرمت کروائی گئیں ہیں جس سے اس تنظیم کے عزائم و ارادے ظاہر ہوتے ہیں ،، ہماری اپنے ان دوستوں سے درخوابات۔ پیے کہ آپ کے ساتھ بھائیوں جیسا وقت گزارہ ہے لہذا لندن سازش پر عمل نہ کریں ،،،،،، آپس کے اختلافات صرف سیاسی انداز میں برداشت کریں ،،، اور جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل کریں نہ کہ جھنڈا سیاست پر عمل پیرا ہو کر اپنے ہی بھائیوں کو نقصان پہچائیں ۔۔ شاید کہ ترے دل میں اتر جائے میری بات۔پی ایس پی میرپورخاص

Labels:

Tuesday, May 17, 2016

PTCL PENSSIONERS SADIQ ALI V/S PTCL PTET CASE ORDER PASSED IN CONTEMPT OF COURT CASE.

GOOD NEWS:

In the Supreme Court today (17-05-2016) Mr.Khalid Anwar Adv. submitted application for adjournment.
Mr.Ibrahim Satti,counsel for Mr.Sadiq Ali in contempt case#Crl.O.P.53 prayed that since the 12-06-2015 is not "stayed" so order may be passed for implementation.The Court directed to implement the 12-06-2015 judgement and report by 13-06-2016.
Regards,
Muhammad Tauqeer

Labels:

Monday, May 16, 2016

VSS . 2008 Rted Article PTCL PENSSIONERS

 

                        "Article:- 13  (dated :15-05-2016)

Attention VSS-2008 Retd PTCL Employees W/O pension
 عزیز پی ٹی سی ایل کے ساتھیو
اسلا م و علیکم
آپ لوگوں کا یاد ھوگا کے جب 19فروری16 کو سپریم کوڑٹ کا شاڑٹ آڈر آیا جس
میں سپریم کوڑٹ نے پی ٹی سی ایل کی پانچ سال پھلے مسعود بھٹی کیس کے خلاف
کی ھوئی رویو خارج کر دی اور مسعود بھٹی کیس 2012SCMR152 فائینل شکل
اختیار کرگیا اور ایک قانوں بن گیا جس سے پی ٹی سی ایل والوں کی یہ بڑکیں
ختم ھوگئیں کے یہ سب پی ٹی سی ایل یعنی کمپنی کے ملازم ھیں اور ھم جیسا
چاھیں انکے ساتھ سلوک کریں اور ھم ان کو گورنمنٹ کے ملازمیں نھیں مانتے
جن پر صرف گورنمنٹ کے ہی قانون استعمال ھوں گے چاھے انکے  خلاف کوئی بھی
انضباتی کاروائی کیوں نہ ھو. انکی پوری کرشش تھی کے انکی رویو اپیل منظور
ھوجائے اسکے لئے انھوں نے  خالد انور صاحب ، جو ایک بھت ھی مشھور اور
ممتاز وکیل ھیں، انکی خدمات بھی انکو ایک بہت ھی خطیر رقم دے کر حاصل کیں
اور انکو  صرف یہ ٹاسک دیا گیا کے کسی کے کسی طرح سے سپریم کوڑٹ یہ فیصلہ
کردے کے یہ پی ٹی سی کے ملازمیں جو یکم جنوری 1996 سے پی ٹی سی ایل کے
ملازمین بنے ھیں ،یہ کمپنی کے ملازمین ھیں اور ان پر  صرف کمپنی کے ہی
قوانین استعمال ھوں یعنی" ملازم اور نوکر والے". انکو یہ ڈر تھا کے اگر
انکی رویو پٹیشن منظور نہ ھوئی تو وہ تمام اقدام جو انھوں نے ان ملازمین
کے خلاف   کمپنی کے قوانین کے تحت کئے ھیں ، وہ ریورس  یا ختم بھی ھو
سکتے ھیں خاصکر انکو یہ بھی ڈر تھا کے جن ایسے ملازمین کو انھوں ن پنشن
دئیے بغیر نکالا ھے  جنکا گورنمنٹ کے قوانین کے تحت پنشن لینے کا حق تھا
، وہ سب انکی جان کو آجائیں گے. جناب محترم چیف جسٹس ظہیر جمالی صاحب نے
خالد انور کو خوب موقع دیا کوڑٹ کو قائیل کرنے کا.دو دن یعنی 17 اور 18
فروری 16دئیے اور جناب خالد انور عدالت  نے  مسلسل بحث کی مگر سپریم کوڑٹ
نے وھی فیصلہ کیا جو صحیح تھااور کیونکے مسعود بھٹی کیس میں جو فیصلہ دیا
گیا وہ حقیقتن پی ٹی سی ایکٹ  1991 اور پی ٹی ری آرگینائیزشن ایکٹ 1996
کی تشریح تھی کو ئی ایسی  بات نھیں تھی جو کوڑٹ نے اپنے تئیں کی. اور اب
یہ فیصلہ پر پی ٹی سی ایل کے اچھوں کو بھی عمل کرنا ھوگا.  سیدمظہر حسین
ایس ای وی پی اور اسکے حواریوں نے کمپنی کے اپنے بناۓ ھوۓ قوانین  کی آڑ
میں ان ملازمین کے ساتھ جو زیادتیاں  اور ظلم کیا . انکو اسکا جواب دینا
ھوگااور جو بھی انھوں  نے انکی تنخوایں کم کرکے انکو گورنمنٹ والے الا
ؤنس نہ دے کر انکے خلاف ظالمانہ کاروآئیاں کیں سب کا جواب دینا ھوگا اور
انکو وھی تنخواہ  پنشن اور اس میں  سالانہ اضافہ ، پروموشنس اور دیگر
مراعات وغیرہ وغیرہ گورنمنٹ کے قوانین کے  مطابق اسی دن سے دینا ھوں گی
جب سے انکو  غیر قانونی طور پر محروم کیا گیا. اب یہ لوگ کچھ بھی کرلیں
انکو سپریم کوڑٹ کے فیصلے پر تو عمل کرنا ھوگا لازمی ورنہ ان کی خیر نہيں
اور ان سب کو بہت ہی خطرنائیک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا. جب 7 اکتوبر
2011 کو جب سپرم کوڑٹ نے مسعود بھٹی کیس میں یہ تاریخی فیصلہ دیا تو اسکے
بعد جب کبھی بھی ایسے ملازمین کے خلاف انھوں نے اپنے کمپنی قوانین کے تحت
انضباطی کاروائی کرنے کی کوشش کی تو ایسے لوگ فورن کورٹ اپروچ کرکے ریلیف
لے لیتے اور کورٹ یہ حکم جاری کرتی کے انکے خلاف کوئی انضباتی کاروائی
کرنی ھے تو گورنمنٹ کے قوانین کے مطابق کریں جسکے ماتحت یہ لوگ پی ٹی سی
ایل میں کام کررھے ھیں. سب سے زیادہ ان لوگوں کو سبکی فیض الرحمان اور
چوھدری محمد قیصر  کے کیس میں ھوئی جنکو  انھوں نے کمپنی کے قوانین
استعمال کرتے  ھوۓ   ایک کو ملازمت سے نکال اور دوسرےکو  جبری ریٹائیر
کردیا تھا اور انکا یہ فیصلہ مسعود بھٹی کیس کے کےتاریخی فیصلے کے کچھ ھی
دن بعد آیا.   فیض الرحمان اور انکے ساتھ   چوھدری محمد قیصر نے اسلام
آباد ھائی کوڑٹ میں رٹ پٹیشن داخل کردی  (WP No 1064 and 1065 of 2011)کے
انکو کمپنی کے قوانین کے تحت سزا دینا غیر قانونی ھے .اسلام آباد ھائی
کوڑٹ نے ان دونوں کو بحال  کرتے ھوۓ  Civil Servants (E&D) Rules 1973 کے
تحت کاروآئی کرنے کاحکم دیا جسکے خلاف  PTCL President  نے سپرم کوڑٹ میں
اپیل کردی  (CP-717/2011، CP-718/2013) جسکو سپریم کوڑٹ کے تین رکنی بینچ
, جسکے سربراہ سابق چیف جسٹس افتخار چوھدری تھے ، 28 اگست 2013 کو مسعود
بھٹی کیس کا حوالا دیتے ھوۓ اسک روشنی میں  خارج کردی اور بی ٹی سی ایل
کو حکم دیا کے اسلام آباد کے فیصلے پر من وعن عمل کیا جائے مگر پی ٹی سی
ایل کے President نے اسکے خلاف رویوپٹیشن   (CRP-253/2013 & CRP-254/2013
) داخل کردی اس میں بھی انھیں جوتے پڑےاور انکی یہ رویو پٹیشنس بھی سپریم
کوڑٹ نے 11 دسمبر 2013 کو خارج کردی اور یہ اپنا سا منہ لے کر رہگئے.
مسعود بھٹی کیس کے فصلے یہ بھی کہا گیا ھے کے نہ پی ٹی سی ایل  اور نہ ھی
گورنمنٹ کو اس بات کا اختیار یا پاور ھے کے وہ ایسےکسی ملازم کی terms &
conditions of services میں کسی ایسی قسم کی منفی تبدیلی کریں جن سے اسکو
نقصان پھنچے اور یہ بھی کہا گیا ھے کے ایسے تمام ملازمیں کی گورنمنٹ
گارنٹر ھوگی کے انکے ان terms & conditions of services میں پی ٹی سی ایل
کوئی بھی منفی تبدیلی کر سکے جن سے ان ملازمین کو نقصان پھنچے خاصکر انکے
Pensionary benefits  میں مگر سپریم کوڑٹ نے یہ بات واضح کردی کے یہ
گورنمنٹ کی یہ گارنٹی ان پی ٹی سی ایل کے ملازمین کے لئے نہ ھوگی جنھوں
نے پی ٹی سی ایل یکم جنوری 1996کے بعد جائین کیا ھوگا مگر افسوس کی بات
یہ ھوئی کے پی ٹی ای ٹی نے اس گورنمنٹ کی ملی بھگت سے ان ملازمین کو جو
پی ٹی سی سے ٹرانسفر ھوکر  یکم جنوری 1996 کو پی ٹی سی ایل کے ملازمین بن
گئے تھے اور جن پر گورنمٹ کے statutory rules لاگو ھو گئے تھے ، انکے
پنشن قوانین تبدیل کردئیے اور نئے پنشن قوانین یعنی New Pension
Rules-2012 نافز کردئیے جس میں گورنمنٹ کے پنشن رولز میں ایسی منفی
تبدیلیاں کیں جن سے ان ٹرانسفڑڈ ملازمین  کو نقصان ھو مگر یہ رولز پشاور
ھائی کوڑٹ میں چیلنج ھوگۓ اور پشاور ھائ کوڑٹ نے ان قوانین کو ایسے پی ٹی
سی ایل ملازمین کے لئیے منسوخ کردئیے اور حکم دیا کے ان ملازمین پر صرف
گورنمنٹ کے ھی پنشن رولز استعمال استعمال ھوں گے   (New pension rules of
PTET vide SRO 525(I)2012 dismissed by PHC on 3-7-14 in WP M Yousaf
Afridi vs FD vide no 2657/12).اس فیصلے کے خلاف پی ٹی ای ٹی کی اپیل بھی
سپریم کوڑٹ نے اپنے 12 جون 2015 فیصلے میں  میں خارج کردی . اور اب ایسے
ملازمین پر گورنمنٹ کے ھی  سول سرونٹ والے پنشن رولز استعمال ھوں گے.
 اب میں اس مقصد کی طرف آتا ھوں جسکے لئے میں یہ آڑٹیکل آپ لوگوں کی اطلا
ع کے لئے لکھ رھا ھوں میرا ان سبکا آپ لوگوں کو یہ باور کرانا ھے کے یہ
مسعوبھٹی کا فیصلہ جو اب ایک قانون بن چکا ھے آپ سب کے لئے کیا معنی
رکھتا ھے جس کو بنیاد بناتے  ھوۓ میں نے آپ سبکو یہ مشورہ دیا کے پھلے آپ
سب لوگ الگ الگ سے ایک زاتی اپیل  President PTCL اور  MD PTET  سے کریں
کے وہ آپکو بحیثیت ایک سرکاری ملازم پی ٹی سی ایل میں انکو وہ پنشن اسی
دن سے دیں جب انھوں نے غیر قانونی طور پر اس پنشن سے محروم کیا جسکے وہ
بالکل بھی مجاز نہیں تھے (انکے پنشن دینے کی مدت میں دس سال سے بیس سال
کا اضافہ کیا اور آپکو دھونس دھمکی سے وی ایس ایس 2008  بغیر پنشن کے
لینے پر مجبور کیا )  اس سلسلے میں اپیلیں ھائی کوڑٹس میں داخل ھونا شروع
ھوگئی ھیں . میری اطلاع کے مطابق لا ھور اور اسلام آباد ھائی کوڑٹس میں
اپیلیں داخل ھو  ھیں. کچھ پنجاب کے لوگ اسی طرح کی اپیلیں داخل کرنے آۓ
تھے اور جن وکیلوں سے انھوں نے یہ اپیلیں داخل کرنے کا مشورہ کیا انھوں
نیں انکو یہ بتایا کے یہ تو time barred  اپیلیں ھیں یہ نہیں داخل کی
جاسکتی ھیں .  ایسے لوگ بددول ھوکر میرے پاس آۓ تو انکو میں نے یہ مشورہ
دیا کے آپ لوگ اپنی اپیل کا محور صرف  16 مارچ 2016 کا سپریم کوڑٹ کا وہ
فیصلہ بنائیں جس میں سپریم کوڑٹ نے پی ٹی سی ایل کی وہ رویو پٹیشن خارج
کی جو انھوں نے مسعود بھٹی کیس 2012SCMR152 کے  فیصلے کےخلاف کی تھی اور
یہ فیصلہ اب قانونی شکل اختیار کر گیا اور پھر آپ لوگوں نے President
PTCL  اور MD PTET  کو باقاعدہ اپیل کی تھی  (میرے آڑٹیکل نمبر 4 میںل
اسکا ڈرافٹ موجود ھے )  کے انکی مسعود بھٹی کے کیس کی روشنی میں اسی دن
سے پنشن بحال کی جاۓ جس دن سے انھیں 2008 میں بغیر پنشن  کے وی ایس ایس
میں فارغ کیا گیا تھا (جبکے وہ بطور  گورنمنٹ کے سرکاری ملازم دس سال یا
اس سے زیادہ ملازمت کرنے کے بعد وہ گورنمنٹ کے پنشن قوانین کے تحت وہ
پنشن کے حقدار تھے )اور انکو آجتک کے پنشن کے واجبات دئیے جائیں  اگر یہ
نہ دئیے گئۓ تو وہ اپنے جائز حق کے لئیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر
مجبور ھونگے. جب آپ لوگ اس بات کے لئے ھائی کوڑٹ میں کیس کریں گے اور
ساتھ انکو اپنی اس کی ھوئی اپیل کا ریکاڑڈ پیش کریں گے اور کوڑٹ او یہ
بتائيں گے کے نہ تو PTCL  اور PTET نیں نا تو انکی پنشن بحال کی اور نہ
ھی  اسکے بقایا جات  دئيے بلکے کسی قسم  کا جواب تک ہی نہ دیا.تو یقینن
کوڑٹ اسکا انسے ضرور پوچھے گی اور پھر جو وہ جواب دیں گے تو انکو انھی
خطوط پر جواب دیا جائے گا جسکی اپیل کا ڈرافٹ میں نے آپ لوگوں کے لئے
بنایا ( آڑٹیکل نمبر 7& 8 میں موجود ھیں ) تاکے آپ اپنے وکیل  کو دکھائیں
تاکے اگر وہ چاہیں تو انکا جواب دینے کے لئے اس سے استفادہ کر سکیں .
مجھے آج ھی بتایا گیا کے انھی خطوط  جو اوپر میں نے بیان کیئے ہیں،  بلو
چستان کے کوئیی نوے  (۹۰)  پی ٹی سی ایل کے بغیر پنشن کے ایسے  ریٹائڑڈ
ملازمین  اسلام آباد ھائی کوڑٹ میں 16 مئی بروز پیر  کیس داخل کررھے ھیں.
ایک اور بات آپ لوگوں کو بتانا چاھتا ھوں کےستمبر 2008 میں یعنی مسیود
بھٹی کیس  فیصلےکے تین سال پہلے لاھور ہائی کوڑٹ میں آپ جیسے کچھ پی ٹی
سی ایل کے بغیر پنشن کے ریٹائڑڈ ملازمین نے ایک رٹ پٹیشن داخل کی تھی جو
تقریبن انھیں خطوط پر تھی جنکا زکر اوپر کر چکا ھوں مگر فرق صرف اتنا ھے
کے اس رٹ پٹیشن میں پی ٹی ری آر گنائیزیشن ایکٹ 1996 کے تحت سوال تھا کے
جب انکی guaranteed terms and conditions of service تھیں انکو کیوں
تبدیل کیا گیا . اس اس سلسلے میں میں نے ھائی کوڑٹ لاھور  کی 31 اکتوبر
2008  کی  آڑڈر شیٹ کی فوٹو کاپی نیچے لگائی ھے اور اس میں  محترم جناب
عمر عطا بندیال اسوقت کے لاھور ے چیف جسٹس صاحب نے پی ٹی سی ایل سے اسکا
جواب  دو ھفتے میں مانگا تھا مگر پی ٹی سی ایل نے نہ تو اسکا جواب مقررہ
وقت پے دیا اور نہ ھی اس پر لاھور ھائی کوڑٹ جب ریمائنڈر دیا پھر بھی
جواب نہیں دیا. میں آپ سب لوگوں کے لئیے اسی آڑڈر شیٹ کو  یہاں تحریر
کرکے دے رھا ھوں تا کے پڑھا جاسکے . اسکو ضرور غور سے پڑھئیے گا تاکے آپ
لوگوں کو اندازہ ھوسکے کے کتنی زیادتی آپ لوگوں سے کی گئی ھے.

                                   "ORDER SHEET"
                 IN THE LHORE HIGH COURT LAHORE
                          JUDICIAL DEPARTMENT

                  Case No: W.P 15027/2008

                                  Versus

Aamer Latif Loan                G.M (HR&A) PTCL  etc.

Date of Proceedings.                Order & Signature of  Judge

        1.      31-10-2008.                          Mr  M M  Alam Adv of Petitioner

                                                    1) Submits that
the VSS scheme has been offered by the PTCL to all its employees on
the uniform criteria. However, the Petitioner's option under the
scheme has been rejected without disclosure of ground, although he
satisfied the qualifying criteria . Further states that under Section
35&36 of PTC (Re-Organization ) Act, 1996 the transferred employees
are guaranteed their original Terms & Conditions by the government. As
government servants , the Petitioners would have earned pension after
putting in 10 years of service. That right was recognised by first VSS
of PTCL in year 1997 but it has been omitted from the latest Scheme
2007. Alleged violation of statutory obligation of PTCL.
                                                      2) Report and
parawise comments to be filled by the respondents within two
weeks.Relist thereafter.

                            -Sd-

            ( UMAR ATA BANDIAL)

                       JUDGE
اس آڑڈر شیٹ پر  لاھور ھائی کوڑٹ کے جناب چیف جسٹس صاحب کے نوٹ سے آپ
لوگوں کو اندازہ ھو گیا ھوگا کے  اسوقت عدالت کیا محسوس کررھی تھی .
کیونکے اسکو ری لسٹ کرنا پی ٹی سی ایل کی جانب سے دو ھفتے کے اندر جواب
دینے پر منحصر تھا مگر پی ٹی سی ایل والوں نے جواب ھی نھیں دیا اسکے بعد
اسکا reminder بھی  پی ٹی سی ایل کو ۱۵نومبر ۲۰۰۸ تک جواب جمع کرانے کے
لئے دیا گیا مگر پھر بھی کوئی جواب نہ دیا گیا اس  کے بعد پٹیشنر عامر
لطیف لون کے وکیل ھی چمپت ھوگئے اور انھوں نے کیس کو مزید peruse نھیں
کیا اور پھر بدقسمتی سے عامر  لطیف لون کا ایکسیڈنٹ ھوگیا اور وہ صاحب
فراش ھوگئے .انکے پاؤں میں فریکچر کی وجہ سے راڈ ڈالا گیا اور اسلئے وہ
خود بھی peruse نہ کرسکے اور انکے وکیل موصوف ایسے غائب ھوئے جیسے گدھے
کے سر سے سینگ . میں نے اب انکو یہ مشورہ دیا ھے کے وہ اپنی اس پٹیشن کا
پہلے سٹیٹس جانکر اسکو انھی خطوط پر آج کے حالات کے مطابق modify  کریں
کوئی اور اچھا وکیل کرکے . اور اگر انکی رٹ پٹیشن non persecution یا in
appearance کی وجہ سے خارج ھوگئی ھو تو پھلے اسکو restore  کرائیں . ایسی
رٹ پٹیشنیں بآسانی restore ھوجاتی ھیں
 آپ لوگوں کو پہلے ھی بتا چکا ھوں کے آپکے کیس میں سب سے بڑا کردار وکیل
کا ھوگا اور اگر آپکو ایک دیانتدار نہ بکنے والا اچھا وکیل مل جاتا ھے تو
آپ لوگوں کے کیس جیتنے کے چانسس زیادہ ھوجائیں گے ورنہ وکیل کیس ایسا
لٹکاۓ گا اور چلنے نھیں دے گا آپ لوگوں کو بھی لوٹے گا اور دوسری  rival
پاڑٹی کو بھی بلیک میل کر کے فائیدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا. جیسا حال آپ
ھی جیسے لوگوں کا سندھ ھائی کوڑٹ اور لاھور ھائی کوڑٹ میں ھورھا تین تین
سال سے زیادہ ھوگئے ھیں کیسز چلنے کا نام لینے کا نام ھی نہیں لے رھے
کبھی پٹیشنر کا وکیل نہیں آتا وقت پر اور کبھی respondents  کا اور کبھی
کیس لگتا تو نمبر ھی نھیں آتا وغیرہ وغیرہ . یہ وہ لوگ ھیں جنکو بیس سال
سروس کے باوجود وی ایس ایس 2008 میں پنشن نہ دی گئی اور انکی سروس بیس
سال سے کسی نہ کسی طریقے سے کم کردی گئی اور انکو پنشن سے محروم کردیا
گیا . مجھے کراچی سے ایسے ھی پی ٹی ٹی سی ایل کے ایک دوست  نے بتایا کے
اسکی کوالیفائیڈ سروس  ۲۲ سال سے زیادہ تھی مگر  پی ٹی سی ایل  نے  اسکو
بیس سال سے کم کردی جو صرف آٹھ دن کم تھی  اور اسکو پنشن لینے کے حق سے
محروم کردیا. اس نے اسکے خلاف سنھ ھائی کوڑٹ میں اس وقت ھی کیس کردیا تھا
اور وکیل کو پچاس ھزار  بھی ایڈوانس دئیے جبکے وکیل نے اسی ھزار  فیس کے
طلب کئے تھے مگر آجتک کیس ھی نہ لگا اور انکے وکیل موصوف مختلف بہانے
کرتے رھتے ھیں اسنے مجھ سے مشورہ مانگا تھا کے وہ کیا کرے اسکو میں نے یہ
ھی مشورہ دیا کے وہ اپنی پٹیشن کو  آجکل کے حالات کے مطابق مسعود بھٹی کے
کیس کا فائنل ھونے کی وجہ سے modify  کرے اور کوئی دوسرا اچھا وکیل کرے
اور modified  پٹیشن میں یہ لکھے کے اسکا پنشن لینے کا حق بطور سرکاری
ملازم پی ٹی سی ایل میں دس سال یا اس زیادہ سروس کرنے کی وجہ سے پنشن
لینے کا حق  بھی بنتا تھا انھوں نے کیوں نہیں دی وہ دلائی جاۓ.
آخر میں آپ لوگوں کے لئیے میرا مشورہ پھر وھی ھے کے آپ سب لوگ نہایت
بردباری او اتحاد کے ساتھ اپنے حق کے لئیے قانونی جنگ لڑیں .کسی مرحلے پر
ناآمید نا ھوں اللہ کی زات پر مکمل بھروسہ رکھیں  کیونکے جو بندے حق پے
ھوتے ھیں اور اپنے اس حق کے لئے اسکی ذات پر بھروسہ رکھتے ھوۓ جدو جہد
کرتے ھیں وہی مراد پاتے ھيں . انشاللہ جیت آپ ہی کی ھوگی.
واسلام
 محمد طارق اظہر
پی ٹی سی ایل ریٹائڑڈ جنرل منیجر( او پی ایس)
15-05-2016
0300-8249598

-- 
Sent from Rawalpindi Pakistan via iPad

Labels:

Sunday, May 15, 2016

PTCL PENSSIONERS UNDER VSS 2008

Attention PTCL VSS-2008 retiree without pension
                                                   (20-04-2016)

عزیز پی ٹی سی ایل  دوستو
اسلا م و علیکم

سپریم کوڑٹ آف پاکستان یہ جو 2016-04-14 کو ریلوے کی دآئراپیل 1072/2005 پر اپنا فیصلہ سنایا ، اس سے سے اس بات کے تاثر کا اظہار کیا جارھا ھے کے سپریم کورٹ نہ یہ باور کرایا ھےایک سرکاری ملازم اسوقت پنشن کا حقدار ھوجاتاھے جب اسکی سروس کی ملازمت پندرا سال ھوجاتی ھے  جبکے یہ بات صحیح نہیں .میں نے یہ فیصلہ بہت غور سے پڑھا اس میں ایسی کوئی بات نھیں لکھی.  اس فیصلے میں سپریم کوڑٹ نے سروس ریگولیشن کے آڑٹیکل 371A کی تشریح کرتے ھوے بتایا کے کے "کسی سرکاری ادرے میں عارضی طور پر کام کرنے والے ملازم کو اسکے عارضی ملازمت کے پانچ سال کی مسلسل ملازمت کے فورن بعد مستقل کیا جاتاھے  ، تو پھر بطور ایک  سرکاری مستقل ملازم کے وہ پنشن لینے کی متعلقہ کوالیفائیڈ سروس پوری کر لیتا ھے تو اب جو اسکو پنشن ملے گی اس میں اس پانچ سالہ عارضی ملازمت کا پانچ سالہ عرصہ  ( یا جو بھی ھو مگر پانچ سال سے زیادہ)  بھی شمار ھوگا " یعنی اسکو اس عارضی عرصہ مدت ملازمت کے پنشن فوآئید Pensionary benefits  بھی ملیں گے. جیسا کے میں آپسکو بتا چکا ھوں ایک سرکاری ملازم دس سال کی کوالیفائیڈ سروس مکمل ھونے پر پنشن کا حقدار بن جاتا ھے مگر جو ملازم پانچ سال سے زیادہ عارضی سروس کرنے کے فورن بعد یعنی بغیر کسی بریک کے، مستقل ھوجاتا ھے تو وہ ایک طرح  اپنی اس  ملازمت کے پندرہ سال کی کوالیفائیڈ سروس کرنے کے بعد ھی پنشن کا حقدار بنے گا کیونکے اس کے عارضی سروس کے پانچ سال اس دس سالہ کوالیفآئیڈ سروس میں جمع ھوجائيں گےجس سے  اسکو پنشن میں فائدہ ھوگا .
سپریم کوڑٹ نےاپنے اس فیصلے کے شروع میں یہ کہاھے کے" انکے  سامنے یہ اھم سوال ھے کے کیا  کسی سرکاری ادارے کا  عارضی ملازم  اپنی پانچ سال کی عارضی ملازمت اسی ادارے میں مکمل کرنے کے بعد ، سروس رولز(CSR) کی سیکشن 371A کے تحت پنشنری فوآئید (pensionary benefits )لینے کا حقدار ھوجاتا ھے یا نہیں". یہ مسءلہ سپریم کوڑٹ کے سامنے جب آیا جب ریلوے کے چئرمین نے  فیڈرل ٹریونلز کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی جس میں  ٹدیونلر نے ریلوے کے ایک 17 گریڈ کے عارضی ملازم شاہ عالم کی اپیل منظور کرتے ھوئے  اسے پنشن دینے کا حکم دیا تھا . شاہ عالم کو  اسکی  تیرہ سال کی عارضی ملازمت سے اس  محکمہ ریلوے اس بنا پر نکال  دیا گیا تھا کے وہ ریگولر ھونے کے لئے فیڈرل سروس کے امتحان میں فیل ھوگیا تھا اور اسنے اپنے تیرہ سال کی عارضی ملازمت کی وجہ پنشنری فوآئید (pensionary benefits ) محکمے سے مانگے اور محکمے سے انکار پر اسنے ٹریونلر میں کیس کردیا اور ٹریونلرنے اسکی اپیل،   (CSR) کی سیکشن 371A اور سپریم کورٹ  کے ایک کیس  (Mir Muhahmmad Khan vs Secretary to Govt & others (1997SCMR1477  کی  غلط تشریح کرتے ھوۓ شاہ عالم  کو پنشن دینے کا حکم دیا تھا. سپریم کوڑٹ نے پھلے تو 2005 ھی میں اس پر محکمہ کو leave to appeal  دے دی تھی یعنی سٹے آڈر اور اسکا یہ تفصیلی فیصلے14  اپریل 2016 میں  اب آیاھے
سپریم کوڑٹ نے اپنے اس فیصلے یہ لکھاھے کے فیڈرل ٹریونلز نے سروس ریگولیریشن  کے سیکشن 371A کی غلط تشریح کی اور اور پنشن کا حکم دیا اور کہا کے اگر یہ دلیل مان لی جاۓ تو ھزاروں کیسسز آجآئں گے اور جو ایسے لوگ پانچ سال کی عارضی ملازمت کے بعد کسی پھی سرکاری ادارے سے  فارغ کردئے گۓ وہ سبکے سب پنشن مانگنے آجائیں گے اور ایک مسءلہ پیدا ھوجائے گا .سپریم کورٹ نے واضح کیا کے سروس ریگولیریشن  کے سیکشن 371A  کے تحت وہ سرکاری ادارے کے عارضی ملازمین جو پانچ سال یا اس سے زیادہ عارضی ملازمت (بغیر کسی رکاوٹ یعنی اس میں کوئی بریک نہ آیا ھو) کے فورن بعد اسی سرکاری ادارے میں ریگولر ھوجاتے ھیں , تو جب وہ ریگولر ھونے کے بعد  سرکاری ادارے میں دس سال کی کوالیفائیڈ  ھونے پر پنشن کے حقدار ھو جاتے ھیں تو وہ اپنی ریٹآئرمنٹ پر ایسی عارضی ملازمت انکی مدت ملازمت میں شمار ھوگی اور کس مدت کو ملاکر پنشنری فوائد Pensionary benefits کے حقدار ھو جائیں گے. جسکا یہ مطلب نکلتا ھے کے ایسا پانچسالہ عارضی ملازمت کا ملازم جو پانچ سالہ عارضی ملازمت کے فورن بعد  ریگولر ھوجاتا ھے تو دس سال کی کولیفائنگ سروس پر ریٹائر کیا جاسکتا ھے اور اب اسکی ريٹائرمنٹ کی مدت پندرہ سال ھی کہلائگی.  میں ایک مثال دینا چاھتا ھوں مثلن زید کسی سرکاری ادارے میں چار سا ل کی عارضی مدت کے فورن بعد ریگولر ھوتا ھے اور بکر پانچسال کی عارضی مدت کے فورن بعد ریگولر ھوتاھے اور ایک تیسرا فرید اسی ادرے میں ریگولر بھرتی ھوتاھے تو اب دس سال کی کوالیفائنگ سروس ھونے پر یہ سب پنشن کے حقدار تو بن جاتے ھیں مگر صرف بکر کو پندرہ سال سروس  کے pensionary benefits  ملیں گے یعنی اسکی پنشن زید اور فرید سے زیادہ ھوگی جبکے زید اور فرید کو صرف دس سال کے پینشن بینیفٹ ملیں گے. کیونکے زید کی عارضی مدت ملازمت پانچسال سے کم ھونے کی وجہ سے او ریگولر ملازمت میں بھرتی والا فرید پر تو عارضی ملازم والی مدت کا تو سوال ھی پیدا نہیں ھوتا

نوٹ ::-- ان کی پنشن کسطرح بنے گی یعنی دس سال او ر پندرہ سال کولیفائڈ سروس ، اسکے چاڑٹ کا  فوٹو گراف دوبارہ  اٹیچ کررہا ھوں جس میں دس سال سے تیس سال تک (سال بہ سال)  کی کوالیفا ئیڈ سروس ھونے پر پنشن کسطرح شمار ھوگی  دکھائی گئی ھے
واسلام
طارق
شب دو بجے
20 اپریل  16

Labels:

Friday, May 13, 2016

فلسفہ محبت نہیں فلسفہ نفرت و منافقت

فلسفہ محبت یا فلسفہ نفرت ،، متحدہ کے قائد نے ایک کتاب لکھ کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ انکا فلسفہ ،، فلسفہ محبت ہے لیکن مجھ سمیت متحدہ کا ہر فرد جانتا ہے کہ خون کی بواس دیو کی خوراک ہے اور جتنی خوشی اس کو خون کی خبر سے ہوتی ہے کسی بڑی سے بڑی خبر سے نہیں ہوتی ، مہاجروں کے مائنڈسیٹ کو سمجھتے ہوئے اسکو خبر ہے کہ قوم کتنی ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو وفاداری کی انتہا کر دیتی ہے ۔ لیکن حقائق سے پردہ اٹھنے پر یہ نظروں سے گرا بھی دیتی ہے اس قوم نے الطاف کو نہ صرف راہنما مانہ بلکہ اسکو عقل کل سمجتے ہوئے اپنی باگ دوڑ اسکے ہاتھ میں دے دی اور سمجھتی رہی کہ یہ ان کی نیاء پار لگائے گا لیکن خداوند بزرگ و برتر کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس شخص کا راز کھل گیا کہ یہ پیسوں کا رسیا خون آشام دیو ہے جس کو بھائی لوگو کی طرح سپاری دے کر کوئی بھی شخص کیسا بھی کام کروا لے یعنی اجرتی قاتل وہ بھی بقول شاعر ،، دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ ،، تم قتل کروہو کہ کرامات کرو ہو ،، کے مصداق اس نے ہر سامنے آنے والے کو ختم کروا دیا اور مکروہ اتنا کہ اس نے عامر حقیقی والے کو مہاجروں کا قتل عام معاف کر کے نوے کا انچارج بنا دیا ،، اب حیدر آباد میں پی ایس پی کی پر امن ریلی پر حملہ کروانہ عامر حقیقی کا کام ہے جس کو کر کے لندن قیادت کو خوش کرنا مقصود ہے ، کیونکہ متحدہ کی پولیٹیکل افادیت صفر ہو گئی ہے لحاظہ اس کی سیاسی بلیک میلنگ بھی بند ہے بس پی پی سے اندرونی اتحاد برقرار ہے جو کسی بھی وقت حکومت میں شراکت کا باعث بن سکتا ہے لیکن اس وقت یہ کا بیک فائر مار سکتا ہے اس وجہ سے یہ معاملہ تعطل کا شکار ہے ۔ فلسفہ محبت کا مظاہرہ رات حیدر آباد کے عوام نے دیکھا کہ یہ دراصل فلسفہ منافقت ہے محبت نہیں ، حیدرآباد کی عوام پر حملہ کروانا دراصل اپنی بچی کچی ساکھ برقرار رکھنے کی آخری کوشش ہے اور یہ کوشش انشاء اللہ کامیاب نہیں ہو گی پی ایس پی قائدین کا یہ فیصلہ ہے کہ ہم عوام کو لڑنے نہیں دیں گے اور حالات خراب کرنے کی ہر سازش جس سے لندن قیادت کو تقویت ملے اسے ناکام بنا دیں گے اور شہری علاقوں کو کسی کی جاگیر نہیں بنے دیں گے ، سیاست کی آذادی ایک آئینی حق ہے اس پر کسی مافیہ کو مسط نہیں ہونے دیں گے علاقوں پر کسی کا راج یا قبضہ نہیں ہونے دیں گے اور فلسفہ محبت کی آڑ میں فلسفہ نفرت کا زہر نہیں پھیلنے دیں گے اور عوام کو لندن قیادت کے بارے میں سب کچھ بتاتے رہیں گے ،، یہ قافلہ کمال کا ہے اور کمال تک پہنچا کے دم لیں گے کسی ایک کارکن میں کسی قسم کے خوف کا عنصر نہیں ہے ۔ ہمیں پتہ ہے کہ تمام عوامی نمائندگی کے باوجود تم صفر ہو اور اس کی وجہ صرف تمہاری الطاف سے نسبت ہے اور جب یہ نسبت پاکستانی پرچم سے ہو جائے گی تو سندھ شہری کا وزیراعظم پاکستان کا حکمران بنے گا ۔ مہاجر قوم کسی شرابی کبابی زانی گھمنڈی مغرور فرعون صفت کو اپنا راہ نما نہیں مانتی اور ریاست پاکستان کی کی وفادار ہے اور کسی انڈین را کے ایجنٹ کا ایجنڈا تسلیم نہیں کرتی ہے اور اگر اس کام کو کرنے میں ریاست ہماری مدد کرے تو ہم کو اس مدد کے لینے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے ، جب انڈین را سے مدد لینے والے شرمندگی محسوس نہیں کر رہے تو ہم پاکستانی ادروں کو ہی پکاریں گے نہ کہ اقوام متحدہ کے سامنے پاکستانی اداروں کے خلاف مظاہرے کریں گے ، ہمارہ نعرہ پاک سرزمین شاد باد ،، کشور حسین شاد باد ۔

Labels:

Sunday, May 8, 2016

پی ایس پی راہنمائوں کی سکھر آمد

سکھر ۔۔ پاک سرزمین پارٹی کے راہنمائوں کی آمد کی خبر نے دوڑیں لگوا دیں ہیں ۔۔ واضع رہے کہ سکھر کراچی اور حیدرآباد کے بعد سندھ کا تیسرا بڑا شہر ہے ،، گزشتہ بلدیاتی الیکشن میں سکھر شہر میں متحدہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔سکھر ۔۔ پاک سرزمین پارٹی کے قائدین کی آمد سے قبل شہر میں آویزاں کیئے گئے خیر مقدمی پوسٹرز اور بینرز پھاڑ دیے گئے ،، واضع رہے کہ سکھر شہر اور گرد ونواح میں متحدہ کا گراف تیزی سے گر رہا ہے اور پارٹی شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ۔

Labels:

Tuesday, May 3, 2016

لوڈ شیڈنگ کے مارے میرپورخاص کے عوام

مئی کی ابتداء ہے اور لوڈ شیڈنگ کی انتہا ہے ، واپڈ رکوری ٹیمیں گلی گلی گھوم رہی ہیں مگر لوگ بلبلا رہے ہیں ،، بل زیادہ ، لائٹ کم ،، باقی سارے بحران لائٹ سے منسلک ہیں ،، کوئی لائحہ عمل دینے کو تیار نہیں ،، عوامی نمائندگی کے دعویدار بھی چپ ہیں ،، چند لوگوں کو حاصل ڈائرکٹ بجلی کی سہولت نے ان کے منہ بند کیے ہوئے ہیں ،، صحافی تو اس معاملے میں بالکل لاتعلق ہے ایک جنرل خبر لوڈشیڈنگ کے حوالے سے چلا دیتے ہیں ،، حالانکہ ام المسائل لائٹ کا بحران ہے  اور ادارے بھی کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ،، پی پی پی والے عوامی لوگ ہیں وہ نہ جانے کیوں خاموش ہیں ،، ہیسکو دب کے یونٹ چارج کر رہی ہے مگر کوئ پوچھنے والا نہیں ہے ۔۔ سول سوسائٹی کو اٹھنا ہو گا ،، عوامی نمائندوں کا پول کھولنا ہو گا ،، ہیسکو حکام کے خلاف یوم بد دعا منانا ہو گا ،، جھوٹا اور غیر قانونی ڈیٹکشن بل ٹھونکنے والوں کے لیے یوم بد دعا منانے کی درخواست ہے اس سلسلہ میں علماء حق سے مدد کی درخواست ہے کہ ان کی دعا میں تاثیر ہے ،، جو پولیس کا محکمہ ان حیسکو والوں کی سپورٹ کر رہا ہے اس کے افسران کے لیے خصوصی بدعا کی جائے اور میٹر ریڈر کے کرتوت کی وجہ سے لائن مین عذاب میں ہے اس میٹر ریڈر کے لیے خصوصی بدعا کی جائے ،، عوامی احتجاج کیا جائے ،، ہم عوام کے ساتھ ساتھ کھڑے ہوں گے اور اپنا کردار ادا کریں گے ،، پی ایس پی میرپورخاص ۔

Labels:

Monday, May 2, 2016

تھری ایڈیٹس

Altaf... Amir... Afaq

یہ جو تیتر بٹیر لڑ رہے تھے
ایک دوجے سے جھگڑ رہے تھے
وہ دھوکا تھا
ایک ناٹک تھا
جب لڑتے لڑتے ہوگئ گم
ایک کی چونچ ایک کی دم
تو پھر سے سر جوڑے بیٹھ گئے
جو ان کے کھیل تماشے میں
پکڑے گئے مارے گئے
ان کی صدائیں گونجیں گی
روحیں ان پر چیخیں گی
اپنے بھائیوں کی لاشوں پر
ان کے شانوں پر چڑھ چڑھ کر
پھر ہاتھ ملانے آئے ہیں
مل کر خون دھونے آئے ہیں
پہچان چکی ہے قوم انہیں
جان چکی ہے قوم انہیں
چلے ہوئے کارتوس ہیں یہ
قوم کے لیے منحوس ہیں یہ

Labels:

نظریہ یا نظر کا دھوکا ۔

ہیں کوکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ،، دیتے ہیں بازی گر دھوکا کھلا ،

کہتے ہیں کہ زندہ رہے نظریہ ،، مگر نظریہ تو ٹارگیٹ تک پہنچنے کا ایندھن ہوتا ہے اور ٹارگیٹ اس منزل کو کہتے ہیں جہاں تک پہنچنا مقصود ہو ۔۔ اور ہم کو نعرہ یہ دیا گیا کہ ہم کو منزل نہیں چاہیے تو ثابت ہوا کہ نظریہ کہ نام پر ایک غبارہ ہے جس میں ہوا بھر دی گئی ہے اور اصلیت اس وقت کھلے گی جب غبارے کی ہوا نکلے گی ،، جو کہ نکل ہی رہی ہے ،، دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان بنا تھا اور سب جانتے تھے کی مقاصد کیا ہیں ،، ایک شخص یا فرد کو آپ نظریاتی کارکن کہہ رہے ہو مگر اسے خود نظریہ کا پتا نہیں ،، اس کو نظریہ نہیں ایجنڈا ، بلکہ ہڈن ایجنڈا کہا جاتا ہے ،، جس کے نام پر قربانیاں مانگ لی جاتی ہیں اور مرنے والے اور تکلیف جھیلنے والے کو خبر ہی نہیں ہوتے کہ اس کی قربانی کی قیمت کہاں اور کیا وصول کی گئی ۔۔ ایک جملے کا مستقل استعمال کیا جاتا رہا وہ ہے جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد ،،آپ نے اس نظام کے حامی لوگوں کے ساتھ مل کر حکومتیں بنائیں تو کیا آپ نے نظریہ سے روگردانی نہیں کی ،، اصل بات یہ ہے کہ پاپولر نعرا لگانا مقصود ہے نہ کہ کوئ عملی اور مثبت قدم اٹھانا سو وہ آپ نے کیا اور اصل اشوز کو ایڈرس کرنا تو مقصود ہی نہیں تھا توآپ نے اشوز کی گردان تو کی مگر ان کو حل کرنے یا کروانے کی کوشش تک نہیں کی ۔۔ تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے یہ وقت پر اقدام نہ کرنے والوں کو معاف نہیں کرتی ہے اور وقت پر فیصلہ نہ کرنے والوں کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے ۔

Labels: