امجد صابری کی شہادت پر کیا جلائوں موم بتی یا اگربتی
لاکھ کوشش بسیار کے باوجود جب متحدہ والے امجد فرید صابری کی میت کو کے کے ایف کی ایمبیولنس میں منتول نہ کروا سکے اور خدمت چھیپا کے حصہ میں آئی اور ہزار منتوں کے باوجود والدہ امجد نے فوٹو نہیں بنوایا اور ستار کے بیٹے فاروق خجل پاء ہوتے رہے تو اچانک مقید شیطان نے چٹکی لے کر آنکھ مار کر بولا " موم بتیاں جلائو " ڈبل فائدہ ہو گا کہ لبرل بھی کہلائو گے اور امجد کے فین بھی مانے جائو گے تو پھر موم بتی جلائی گئی اور ایک منٹ کی خاموشی نے درود فاتحہ کی جگہ لے لی ، سیاست کی دکان بھی چمکا لی اور عوام کو بیوقوف بھی بنا دیا کہ امجد صابری ہماراکارکن تھا جبکہ صوفی ازم کے پیروکاروں کی کوئ سیاسی سوچ نہیں ہوتی بقول عبداللہ قوال ہم صوفی منش لوگ ہیں اور خانقاہی نظام کی پیدا وار ہیں ہمارا سب سے تعلق ہوتا ہے اور ہم سب کے ہوتے ہیں ۔ ۔صابر جلیل ایڈوکیٹ ، پی ایس پی میرپورخاص سندھ ۔
