Thursday, June 30, 2016

امجد صابری کی شہادت پر کیا جلائوں موم بتی یا اگربتی

لاکھ کوشش بسیار کے باوجود جب متحدہ والے امجد فرید صابری کی میت کو کے کے ایف کی ایمبیولنس میں منتول نہ کروا سکے اور خدمت چھیپا کے حصہ میں آئی اور ہزار منتوں کے باوجود والدہ امجد نے فوٹو نہیں بنوایا اور ستار کے بیٹے فاروق خجل پاء ہوتے رہے تو اچانک مقید شیطان نے چٹکی لے کر آنکھ مار کر بولا " موم بتیاں جلائو " ڈبل فائدہ ہو گا  کہ لبرل بھی کہلائو گے اور امجد کے فین بھی مانے جائو گے تو پھر موم بتی جلائی گئی اور ایک منٹ کی خاموشی نے درود فاتحہ کی جگہ لے لی ، سیاست کی دکان بھی چمکا لی اور عوام کو بیوقوف بھی بنا دیا کہ امجد صابری ہماراکارکن تھا جبکہ صوفی ازم کے پیروکاروں کی کوئ سیاسی سوچ نہیں ہوتی بقول عبداللہ قوال ہم صوفی منش لوگ ہیں اور خانقاہی نظام کی پیدا وار ہیں ہمارا سب سے تعلق ہوتا ہے اور ہم سب کے ہوتے ہیں ۔ ۔صابر جلیل ایڈوکیٹ ، پی ایس پی میرپورخاص سندھ ۔

Tuesday, June 28, 2016

ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے ایک سوال

ملیٹری اسٹیبلشمنٹ سے ایک سوال : سندھ کی سیاست میں سقوط ڈھاکہ کے بعد ایک تبدیلی لائی گئی اور یہ ضروری بھی تھی کہ ملک کا ایک حصہ جدا ہو چکا تھا ، پڑوسی انڈیا کے عزائم واضع ہو چکے تھے اور سندھ میں سندھودیش کی تحریک زوروں پر تھی ، پی پی پی کو لا کر قوم پرستوں کا توڑ کیا گیا اور پی پی پی کو ہٹانے کے لیے قومی اتحاد بنایا گیا اور مارشل لا دور میں قوم پرستوں کو سیاست دانوں پر سبقت دی گئی ،، جئے سندھ تحریک اور مہاجر قومی مومنٹ بنائی گئی اور ثانی الزکر کو عوامی مینڈٹ دلایا گیا جو بلدیاتی سے لے کر سینٹ تک ایک لمبا سفر تھا ۔۔ ایک موقع پر مہاجر قومی مومنٹ کو متحدہ بنوا کر اور پھر اس میں دو دھڑے بنوا کر عجب سیاست کی گئی جبکہ جنرل مشرف دور میں یو ٹرن لیا گیا اور اس متحدہ کو دوبارہ گلے لگایا گیا جس کی قیادت کی حب الوطنی مشکوک تھی اور ایڈھاک ازم جیت گیا ،، متحدہ کے راہنما ملک سے باہر رہ کر ملک کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے رہے اور ملک میں حکومت سازی میں حصہ دار رہے ،، بی بی سی نے پورا بھانڈہ بیچ چورہے پر پھوڑ دیا اور متحدہ اور انڈین را کے درمیان ساز باز اور منی لانڈر نگ کی کہانی افشاء کر دی اور ان انکشافات کو سرفراز مرچنٹ پیپرز نے مزید تقویت پہنچا دی ہے کہ انڈیا ہم سے کشمیر کی جنگ کراچی میں لڑ رہا ہے اور متحدہ کے قائد کو ایجنٹ بنا چکا ہے ۔۔ اس پس منظر میں پاکستان کا جھڈا اور قومی ترانے کی دھن کے ساتھ پی ایس پی کے راہنماء اپنی سابقہ قیادت کے خلاف گواہ بن کر کھڑے ہوئے اور چار ماہ میں ایک پاپولر قیادت کے طور پر ابھر رہے ہیں اور اس قیادت کو اور اس کے فالوورز کو اپنے لیے تھریٹ سمجھنے والی متحدہ کی قیادت اوچھے ہتھکنڈونوں اور جھوٹے پروپگنڈوں کے ذریعہ نقصان پہچانے کی کوشش کر رہی ہے اور متحدہ کا قائد بڑی بے باقی سے پاک فوج اور پاک سرزمین پارٹی کے لوگوں کی گردن مروڑنے کی کھلے عام ہدایات دے رہا ہے ،، کیا یہ اعلان جنگ نہیں ہے اور اگر اس کی ان کھلی دھمکیوں کو سنجیدہ نہ لیا گیا توکیا  سقوط ڈھاکہ کا کھیل شروع نہیں کر دیا گیا ہے اور اس مرتبہ ملک کی سالمیت کے خاطر پاک سرزمین پارٹی کے راہنماء آگے آگے نہیں ہیں اور اس قیادت کی حفاظت قومی سرمائے کی طرح نہیں کی جانی چاہیے اور متحدہ اور اسکے قائد پر فوری پابندی نہیں لگائی جانی چاہیئے ۔۔۔ ????? صابر جلیل ایڈوکیٹ ہائیکورٹ ۔۔ پی ایس پی میرپورخاص

Monday, June 27, 2016

متحدہ میں قحط الرجال کے بعد پیوند کاری کا عمل

عامر لیاقت عرف قدودسی صاحب کی بیواہ ۔۔۔ جی ہاں  موصف کو معافی اس وقت دی گئی ہے جس وقت حالت قحط الرجال تھا ،، قحط میں کیونکہ مکروہ تحریمی بھی حلال ہو جاتا ہے جیسا کہ گھوڑا ،، تو کراچی کی عوام کو گدھا کھلا نے کی نہ صحیح گدھا برداشت کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے ،، مقاصد کیا ہیں اس سوال کا جواب جاننے کے لیے آپ کو دانشور ہونے کی ضرورت نہیں ،، متحدہ کے قحط الرجال کے مرحلے میں دو کا ٹولہ آگے آیا ایک عابدی دوسرا عامری ،، عابدی کو کسی اور بڑی چوٹ کے بعد مرحم کے طور پر استعمال کیا جائے گا فی الوقت شیخ لیاقت کے فرزند جس کو آخری وقت میں اپنے باپ کے پاس سے بدبو آرہی تھی اور بلوانے پر بھی عیادت کو نہیں گیا تھا اس بے ادب ، بے نصیب شخص کو متحدہ کے وجود کا میڈیہ پر دفاع کرنے کی منصوبہ بندی کرائی گئی ہے ۔ قارئین کرام اگر لفاظی کے ذریعہ غلط کو صحیح کیا جا سکتا ہو اور عوام کو ان عابدیوں اور عامریوں کے ذریعہ بیوقوف بنا یا جا سکا تو یہ عوام کی بد قسمتی ہو گی اور سید مصطفی کمال اور رضا ہارون کے سامنے ان زبان دراز افراد کے زبان شارٹ نہ ہو جائے گی اور متحدہ کے بچے کچے لوگوں کے زہن میں پارٹی کے اندر پیراشوٹ سے اترنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر مزید سوالات ابھرنے سے کون روک سکے گا ۔ پاک سرزمین پارٹی کی قیادت سید مصطفی کمال کے قیادت میں جس تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اس کو دیکھتے ہو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ متحدہ کے ہاتھ سے عوامی مینڈیٹ ریت کی طرح نکلتا جا رہا ہے اور ہر نئے اقدام پر پاکستان میں موجود قیادت باغی ہوتی جارہی ہے اور مصطفی کمال کیمپ سے آواز سنائی دے رہی ہے کہ ،،،،، شب کو سنوارنے کا ہنر ہم پہ چھوڑ دو ،،، تم تھک چکے ہو اب یہ سفر ہم پہ چھوڑ دو ۔ صابر جلیل ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ،، پی ایس پی میر پور خاص

Labels:

Saturday, June 18, 2016

Mustufa kamal Hyderabad visit 16&17 June

https://youtu.be/F8ny1IIWQr4

Labels:

Sunday, June 5, 2016

کراچی کے ووٹرکہاں ہیں۔۔۔۔؟ الیاس شاکر

کراچی کے ووٹرکہاں ہیں۔۔۔۔؟
الیاس شاکر
کراچی کے دو صوبائی حلقوں میں ضمنی انتخاب ہوئے، نتیجہ وہی آیا جس کی توقع تھی۔۔۔۔ ایم کیو ایم ایک بار پھر کامیاب ہوگئی۔ محفوظ یار خان اور قمر عباس رکن سندھ اسمبلی بن گئے۔ سب کچھ معمول کے مطابق ہوا لیکن حیران کن بات ضمنی انتخاب کا انتہائی کم ٹرن آئوٹ ہے، صرف 10فیصد! ''ووٹ کاسٹنگ‘‘ کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں ان حلقوں میں ووٹنگ کی شرح 50 فیصد تھی، اب پی ایس 106میں 11.52اور پی ایس 117میں 9 فیصد ووٹرہی گھروں سے نکلے جن میں خواتین کی شرح صرف 6 فیصد ہے۔ پی ایس 106میں تقریباً پونے دو لاکھ رجسٹرڈ ووٹر ہیں جن میں سے صرف 19ہزار961 ووٹر پولنگ بوتھ تک گئے۔ اس حلقے میں کامیاب امیدوار کے علاوہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کے امیدوار ضمانت ضبط کروا بیٹھے۔ یہاں سے افتخار عالم 75 ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے اور تحریک انصاف کو10ہزار ووٹ ملے تھے۔ اس حلقے سے ایم کیو ایم کو 75 اور تحریک انصاف کو 85 فیصدکم ووٹ ملے۔ اسی طرح پی ایس117میں ایک لاکھ 63 ہزار ووٹر رجسٹرڈ ہیں لیکن ان میں سے صرف 14ہزارووٹ ہی کاسٹ ہوئے۔ ایم کیو ایم کے امیدوار 10ہزار 738 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ اس حلقے میں بھی 40 فیصد کم ووٹ کاسٹ ہوئے۔ یہاں سے ڈاکٹر صغیر احمد کو 43 ہزار جبکہ تحریک انصاف کو 21 ہزارووٹ ملے تھے۔
تحریک انصاف نے2013ء میں جتنے ووٹ لئے اب وہ دور دور تک ان کے قریب بھی نہیں آپا رہی۔ تبدیلی کے نام پر کراچی کے ووٹر بھی ''تبدیل‘‘ہوئے اور تحریک انصاف کو واقعی بہت ووٹ مل گئے لیکن آج اس کی حالت جماعت اسلامی جیسی ہوگئی ہے۔کراچی والوں نے تھوڑا ''مینڈیٹ‘‘ بھی واپس لے لیا۔ کراچی کے ووٹ اس وقت بیلٹ بکس کے بجائے گھروں میں موجود ہیں۔ آنے والے عام انتخابات میں پورے ملک کا نتیجہ کچھ بھی ہو کراچی کا نتیجہ ماضی سے مختلف ہو سکتا ہے۔
ضمنی انتخابات میں ٹرن آئوٹ کم ضرور ہوتا ہے لیکن وہ 10فیصد تک نہیں گرتا۔ سنجیدہ حلقے کراچی کو ''مکمل فٹ‘‘ قرار نہیں دے رہے، کم ٹرن آئوٹ کو''لوبلڈپریشر‘‘ بھی کہا جا رہا ہے۔ کراچی کی سیاسی نبض کی رفتار بھی ''سلو‘‘ ہوگئی ہے۔ سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ اس وقت کراچی میں دس ضمنی الیکشن کرا لیں نتیجہ اور ٹرن آئوٹ یہی ہوگا۔ پاک سر زمین پارٹی کے رہنما مصطفی کمال نے دعویٰ کیا ہے کہ ''کراچی کے شہریوں نے ہماری بات سن اور سمجھ لی ہے، وہ گھروں سے باہر نہیں نکلے، رکا ہوا مینڈیٹ 2018ء کے انتخابات میں حصہ لے گا‘‘۔ ایم کیو ایم کے دانشور یہ منطق پیش کرتے ہیں کہ جب تک مقابلہ ٹکر کا نہ ہو مہاجر ووٹر ''گرم‘‘ نہیں ہوتا، یک طرفہ مقابلے میں ٹرن آئوٹ کم رہنا کوئی حیرت انگیز بات نہیں، کانٹے کا مقابلہ جب بھی ہوگا لوگ گھروں سے خود بخود باہر نکل آئیں گے۔
ایک نظر کراچی کے ووٹرز پر ڈالیں تو اندازہ ہوگا کہ ان کی ضروریات، مطالبات اور خدشات کیاہیں؟ کراچی کے ووٹرز مایوس بھی ہیں اور بد دل بھی۔گھر میں ہوں تو بجلی اور پانی میسرنہیں، باہر نکلیں تو سڑکیں سیوریج کے پانی سے بھری ہوتی ہیں، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ہیں۔ تعفن زدہ ماحول میں گھٹن کے شکار کراچی کے شہری سب کو آزما چکے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں بھی ووٹ ڈالے ہوئے آٹھ ماہ گزرگئے لیکن اختیارات کی منتقلی ''مسئلہ کشمیر‘‘ بنتی نظر آرہی ہے۔ لوگ میئر‘ چیئرمین اور کونسلر زکے چہرے اور نام بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ حکومتیں مسلسل توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہیں لیکن اب وہ زمانہ کہاں کہ ''سوموٹو نوٹس‘‘بھی لئے جائیں۔ اب تو چیئرمین اور کونسلر حضرات کو بھی یہ لگ رہا ہے کہ اختیارات کی منتقلی ہوتے ہوتے کہیں دوبارہ الیکشن کی تاریخ نہ آ جائے۔
شہری بھی حیران ہیں کہ روشنیوں کے شہر کو کس کی نظر لگی جو کچرے کا ڈھیربن گیا۔ فلائی اوورز میں گڑھے پڑ رہے ہیں۔ ہر شاہراہ پر ٹریفک جام رہتا ہے۔ تعمیراتی منصوبے ادھورے پڑے ہیں۔ انڈرپاسز زیر تعمیر ہیں۔ لوگ چھ گھنٹے لوڈشیڈنگ کے عادی ہوجائیں تو دورانیہ ڈبل کردیا جاتا ہے۔ پہلے پانی کا ہفتے میں ایک دن ناغہ تھا، اب تو مہینے میں ایک دن پانی ملتا ہے۔ تعلیم کا حال بھی بدحال ہے، صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسپتالوں میں مریضوں کا رش دیکھ کر لگتا ہے کہ آدھا کراچی بیمارہے۔ دھول مٹی کراچی والوں کا مقدر بن گئی ہے، صبح دفتر جانے والا شام کو گھر آئے تو اہل خانہ پہچان نہیں سکتے۔ کیا اس لئے کہ یہ عالم اسلام کا سب سے بڑا شہر ہے؟کیونکہ یہ منی پاکستان ہے ؟ کراچی کو وفاق اور سندھ حکومت سے کیا چاہیے؟ اس سوال کا جواب قائم علی شاہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں اور میاں نواز شریف بھی، لیکن کراچی کو ایسا کیا چاہیے جو نہیں دیا جاتا۔ یہ معلوم کرنا بھی زیادہ مشکل نہیں۔ اٹھارویں ترمیم سے قبل کراچی کو بجٹ میں سے کچھ نہ کچھ حصہ ضرور مل جاتا تھا لیکن اب تو کھرچن بھی نصیب نہیں ہو رہی۔
ملک بھر میں گڈگورننس نہ ہونے کا رونا رویا جاتا ہے لیکن کراچی میں تو گورننس ہی نظر نہیں آرہی۔ دو ماہ میں دوکمشنر تبدیل ہوچکے ہیں۔ صوبائی وزیر بلدیات سے اختلاف کتنا مہنگا پڑسکتا ہے، یہ کوئی آصف حیدر شاہ سے پوچھے ۔کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ واٹر ٹینکر مافیا سڑکیں بلاک کردیتا ہے اورعوام پانی کے بحران کے ساتھ ٹریفک جام کا بھی نشانہ بنتے ہیں یعنی یک نہ شد دو شد!
ایسے کئی مسائل ہیں جن کا مقابلہ تن تنہا کراچی شہر کر رہا ہے۔ اس کا ساتھ دینے کے لئے نہ سندھ حکومت آگے بڑھتی ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت اپنی''جیب‘‘ میں ہاتھ ڈالتی ہے۔ ایسے حالات میں''انتخابی ٹرن آئوٹ‘‘ کے ساتھ ''عوامی ٹرن آئوٹ‘‘ بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔
اگر اسی طرح کراچی تباہ ہوتا رہا تو پاکستان کا سب سے بڑا معاشی حب نہ صرف برباد ہوجائے گا بلکہ ٹیکس کی انکم دن بدن کم اور غیر ملکی قرضوں کی شرح روز بروز بڑھتی جائے گی۔ کراچی کی تباہی اور بربادی جس شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کاش اس کا احساس حکمرانوں کوبھی ہوتا۔ کراچی پاکستان کے لئے وسائل کا سرچشمہ ہے اور کراچی کی تباہی خدانخواستہ کہیں پاکستان کو پیچھے بلکہ بہت پیچھے نہ لے جائے۔کراچی سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے اور اگر یہ مرغی مرگئی تو عام فارمی انڈہ بھی نہیں مل پائے گا۔

Labels: