Monday, August 29, 2016

ہارن نہ بجائیں ۔۔۔ ریاست سو رہی ہے ،

ہارن نہ بجائیں ۔۔۔ ریاست سو رہی ہے ،   کیا واقعی ریاست نے سقوط ڈھاکہ کے بعد کوئی ایسا لائحہ عمل بنا لیا ہے کہ اب ایسے سانحے ظہور پزیر نہیں ہونگے اور ملکی جغرافیہ میں کوئی انچ برابر بھی تبدیلی لانا ممکن نہیں رہا ، کیا ریاست ہے یا ہے ہی نہیں ?? ریاست کیا ہے اسکے اجزائے ترکیبی کیا ہیں اور کیا ہمارے اردگرد کے ممالک بھی ریاستی وجود رکھتے ہیں ،، کیا کسی بھی ریاست کا آئین اس ریاست کے جسم میں روح کی مانند ہوتا ہے ،، کیا حکومتوں کی تبدیلی سے ریاست کے خدوخال میں آئین سے فرار کے زریعہ تبدیلی لائی جاتی ہے ۔۔ کیا پاکستان صرف اس لیے ایک جغرافیائی حقیقت ہے کہ اس کے چاروں طرف حقیقی جغرافیائی ملک بستے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ہمیں اپنے اندر سمونے کی غلطی نہیں کرنا چاھتا اور ایسا کرنے سے ان کا کیا نقصان ہو سکتا ہے ۔ ملک میں چلنے والی باغیانہ تحریکیں اور ان کو کائونٹر کرنے کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہو رہی ہیں ? کیا یہ جدا جدا تحریکیں ملک سے باہر ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملا رہیں ہیں ،، وہ کون کون سے ممالک ہیں جو اس باغیانہ سوچ کو تقویت دے رہے ہیں اور فنڈنگ کر رہے ہیں ،، کیا چین ہماری اتنی مدد کر رہا ہے جتنی ہمیں ضرورت ہے یا جس شعبہ میں ہمیں ضرورت ہے ،، کیا ایران سے ہمارہ آر سی ڈی والا رشتہ برقرار ہے یا وہ بھی بھارت کی جانب جھکائو رکھتا ہے ، کیا بھارت سے تجارتی تعلقات صرف عسکری حکومت ہی قائم کر سکتی ہے جمہوری نہیں ،، مسئلہ کشمیر فلسطین شام عراق کی طرح امت مسلمہ کا مسئلہ کیوں نہیں ہے ۔۔ کیا کراچی سندھ نہیں ہے یا سندھ پاکستان نہیں ہے ، کیا کراچی کی ترقی پاکستان کی ترقی نہیں ہے ، کیا فوج یک لسانی فوج ہے ،، کیا قوم وفادار نہیں ہے صرف ادارے وفادار ہیں ، کیا ملک میں کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں میرٹ ہے ،، کیا مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوتا یا میں دوسرے افراد اور اداروں کو غلط سمجھتا ہوں اور اپنے آپ درست ۔ کیا ملک کی سیاسی جماعتیں اور خاص طور پر تین بڑی پارلیمانی جماعتیں محب وطن نہیں ہیں، کیا صرف عسکری اداروں کی وجہ سے ملک چل رہا ہے ،، کیا آج کے غدار کل کے حاکم نہیں بن جاتے اور ان کو این او سی کون دیتا ہے ،، کیا دنیا کے کسی اور ملک کی صورتحال ہم سے ملتی جلتی ہے یا ہم اپنی مثال آپ ہیں ۔۔ کیا ہمارے علماء کرام اپنے منصب کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ،، کیا پاک فوج ہمارے ملک کا واحد منظم اور مستحکم ادارہ نہیں ہے ، کیا فوج ہماری نہیں ہے ، کیا ہم سب کو مل جل کر نہیں چلنا چاہیے ،، کیا وطن سے بڑھ کر کوئی اور شے ہو سکتی ہے ، کیا نئے معاہدہ عمرانی کی ضرورت نہیں ہے ، کیا وطنیت اور ولدیت تبدیل ہو سکتی ہے ،، کیا ان کیا کا جواب ملے گا ،، ???????? بس بس ہارن نہ بجائو ۔۔ ریاست سو رہی ہے ۔۔

Labels:

Saturday, August 27, 2016

This information saved in your mobile.  کراچی کے تمام پولیس اسٹیشنز کے رابطہ نمبر:

This information saved in your mobile.  کراچی کے تمام پولیس اسٹیشنز کے رابطہ نمبر:
Name Phone No.
Police Help Line 15
Airport 34571420
Al-Falah 34513500
Arambagh 2632222
Art.Maidan 99205684, 99205662
Aziz Bhatti 34969494
Azizabad 36339996
Baghdadi 32528565 - 32528566
Bahadurabad 939231381
Baldia 32562322
Baloch Colony 34521393
BinQasim 4574224, 7769424
Brigade 32780002, 32782222
Buffer Zone 36982222
Cantt. Railway 39206072
Chakiwara 32529641
City Court 32774923
City Railway 2419814
Civil Lines 9205681
Clifton 35868224
Darakhsan 35345100-35841766
Defence 35896880
Docks 32850537
Eidgah 99215507-99215439
Ferozabad 34542200
Frere 35893013
Gadap 34561100, 34560033
Garden 39215527
Gizri 35891709
Gulbahar 36622882
Gulberg 939246150
Gulistan-e-Johar 939243743
Gulshan-e-Iqbal 939246150
Gulzar-e-Hijri 8142217, 6319255
Ibrahim Hyderi 34511756
Jackson 32850537
Jamshed Quaters 99231380-99230899
Joharabad 99246145 99246149
K.P.T. 2314398, 23144399
Kalakot 32524970
Kalri 32524722 - 32512222
Khawaja Ajmer Nagri 36902100
Kharadar 99217143-4
Khokrapar 34510539, 34511879
Korangi 35064774, 35065555
Korangi Industrial Area 35053131
Landhi 35042322
Liaquatabad 99231382-3
Malir Cantt. 939247431
Malir City 34511879
Mangohpir 36981116
Mauripur 32351712
Mehmoodabad 35896709
Mithadar 99217141-2
Mobina Town 34994792-3
Mochkaa 32810566, 32810286
Model Colony 34513833, 34602222
Mominabad 36650061
North Nazimabad 36632222-36637220
Nabi Buksh 39215441
Napier 37731329, 37732224
Nazimabad 939260502
New Karachi 36902222, 39602323
New Town 34528966 - 34983441
North Karachi Indust.Area 36972222
Orangi Extension 36658300, 36692860
Orangi Town 36658085, 36652223
Pak Colony 32573131- 32572224
PIB Colony 34946943
Pirabad 36626636
Preedy 7721456, 7732222
Quaidabad 35013971, 35013970
Risala 39215506
S.I.T.E 32573322
Sacchal 34645963
Saddar 32781222, 32782587
Saeedabad 32812181, 32814444
Samnabad 939246172
Saudabad 34512526, 34502225
Shah Faisal Colony 99248016 - 99248020
Sharfiagoth 35015757
Sharifabad 939246189
Shershah 32579866 - 3299433
Shahrah-e-Noor Jahan 36639635
Soldier Bazar 99215435-46
Steel Town 939264072
Sukkun 34100092
Surjani Town 36912221
T.P.X. 32312858
Taimuria 36979610
Tipu Sultan 34529286
Women 5684566, 9205662
Zaman Town NJ 35091381
Karachi Police Station Numbers

Sunday, August 21, 2016

الطاف انڈین را کا پیڈ ایجنٹ کیا کروانا چاہ رہا ہے ۔۔ دانشوران قوم و وطن جاگو۔

قائد متحدہ کے تازہ فرمودات جن کے زریعہ وہ اپنی را فنڈنگ حلال کر رہے ہیں اور متحدہ کے لیڈر ان کی بدزبانی کو حالت غم قرار دے رہے ہیں ۔۔ پڑھیے اور شیئر کیجئے کہ پی پی والے اور ن لیگ والے اس اردو قوم سے یکجہتی کے بہانے کیا کام کروانا چاہ رہے ہیں ۔۔  اردو دانشور آگے آئیں ان گیدڑ بھبھکیوں میں نہ آئیں قوم ملک کو بچانے میں کردار ادا کریں ۔۔۔ قوم کو ریڈ کراس کے کیمپوں سےبچائیں ۔ کراچی : تمام ججز اپنے عہدوں سےفوری استعفیٰ دے دیں , الطاف حسین

کراچی :  ورنہ وہ وقت آئے گا جب ججز بھاگنا چاہیں گے اور بھاگ نہیں سکیں گے , الطاف حسین

کراچی : آج ججز اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ میں آکر غلط فیصلے کررہے ہیں , الطاف حسین

کراچی : ایک دن وقت آئے گا جب ہم ججز کو پھانسی پر چڑائیں گے , الطاف حسین
اس نے میرے کارکنان کو قتل کیا ہے اگر میری حکومت ہوتی تو میں اس سالے سرعام چوک میں پانسی لگاتا اور اس کی لاش کو تین مہنے تک لٹکا رہنے دیتا
خدا کی قسم اگر اسرائل اور روس کا اسلحہ ہمارے پاس آجائے تو کراچی میں رینجرز کا ایک بھی آدمی نظر نہیں آئے گا
کراچی : اگر میری حکومت ہوتی تو میں سالے بلال اکبر کو سرعام چوک میں پھانسی دو گا ,الطاف حسین

کراچی : اور ڈی جی رینجرز بلال اکبر کی لاش کو تین مہینے تک کےلیے لٹکا دوگا , الطاف حسین

Labels:

Friday, August 19, 2016

ایم کیو ایم اقتدار میں شمولیت کے لیے بے تاب ہے

ایم کیو ایم اقتدار میں شمولیت کے لیے بے تاب ہے ،، جب جب اقتدار کی بھوک پیاس بڑھتی ہے تو اسے پانے کے لیے احساس محرومی کا نعرہ لگایا جاتا رہا اور  دینے والے جب مجبور تھے اور ا نکے اقتدار کی کرسی ایم کیو ایم کے سہارے پر تھی تو اس کے قائد نے احساس محرومی دور کرنے کے لیے کوئ کالج یونیورسٹی یا ہسپتال یا کوٹہ سسٹم کا خاتمہ یا محصورین بنگلہ دیش کی واپسی نہیں ما نگی ،، بلکہ مینڈٹ کو کیش کی صورت میں وصول کیا گیا ۔۔ اس بات کو  نہ مانو صرف اتنا بتا دو سید مراد علی شاہ کے مقابلہ کے لیے متحدہ کے امیدوار نہ کھڑا کرنے میں قوم و ملک کی کونسی بہتری پنہاں تھی ۔۔۔ ڈری ہوئی پی پی پی اپنے عمر رسیدہ وزیر اعلی کی تبدیلی نہیں کر پا رہی تھی کہ ان کے اندر ایک گروپ بن چکا تھا اور 85 اور 50 کے درمیان کا فرق کچھ زیادہ نہیں تھا ۔۔ مگر مگر واہ رے قائد تیری کرامت کہ تو نےصوبہ کا وزیر اعلی بڑی آسانی سے بنوا دیا اور ویہل چیئر کو گھما کر دونوں ہاتھوں سے تالی مار کر دیدے گھما کر دائیں بائیں بیٹھے نو رتنوں سے مخاطب ہوا کہ ،، کیسا دیا ،، سب نے جواب دیا جی بھائی مزا آگیا ، یہ قوم ہے ہی اس قابل  کہ اسکا سودا بھی سر بازار اور بار بار کیا جائے اور بعد میں تم کو ہی انہیں لوگوں کے خلاف بھوک ہڑتال پر بٹھا دیا جا ئے جن کا وزیر اعلی بنوا کر دیا تھا ،،، واہ رے اندھی تقلید کے رسیا لوگو ۔۔ واہ حق پرستی کا نعرہ مارنے والوں تمہیں بار بار خیالی سونے کی چڑیا دکھا کر تمہاری بار بار طہر کرنے والے صحیح کرتے ہیں کہ تم ہو ہی اس قابل کہ ایک ہی سوراخ سے مسلسل ڈسوائے جارہے ہو پر ہوش میں نہ آنے کی قسم کھا لی ہے تم نے ،،،، ٹھیک ہے نہ مانو اور نہ پڑھو دیوار کا لکھا پر وقت قریب ہے کہ جان جائو گے کہ سراب کے پیچھے بھاگتے رہے ہو ۔

Labels:

ایک مستقل قومی سلامتی پالیسی کی ضرورت ہے ۔

انیس قائم خانی صدر پاک سر زمین پارٹی کی اے ٹی سی کورٹ میں ضمانت کا نا منظور کیا جانا اور سندھ ہائی کورٹ کے فاضل جج صاحب کا بیل ایپلیکیشن کا نہ سننا اور اسطرح قیادت کو عوام سے دور کرنا تا کہ پارٹی ورک متاثر ہو ، ایک سوچے سمجھے پلان کا حصہ معلوم ہوتا ہے ،، اس پلان کے تحت ایک متحرک قیادت کو محدود کرنا اور نئی تشکیل شدہ پارٹی کے ورکرز میں مایوسی پھیلانا شامل ہے ۔ اس کے علاوہ موجودہ حکومت جو کہ عوامی مسائل کے حل کرنے میں یکسر ناکام ہو چکی ہے کسی ایسی اٹھتی ہوئی آواز سے خائف نظر آرہی ہے جو ان کی کوتاہیوں پر عوامی ردعمل پیدا کرسکتا ہو  ۔ بلا شبہ پابند سلاسل قیادت کی زہنی پرواز تو جاری ہے پر جسمانی قید کسی نئی ابھرتی ہوئی جماعت کے راہنما کی راہنمائی کو محدود کرسکتی ہے اور سازشی عناصر جو کہ وفاق اور صوبہ دونوں میں سے ہو سکتے ہیں انیس قائم خانی بھائی کی تنظیمی صلاحیت کو جانتے ہیں اور یہ ایک ہی وجہ انکو عوام و ورکرز سے دور رکھنے کے لیے کافی ہے ۔۔ اب جبکہ فیصلہ تو کورٹ نے ہی کرنا ہے اور ضمانت حاصل کرنا قانونی حق ہے اور سندھ کی اعلی عدلیہ کسی پریشر میں آئے بغیر فیصلہ کرتی ہے ہمیں یقین ہے کہ آئندہ سماعت میں ہمارا راہنماء ہمارے ساتھ ہونگے لیکن  ہمیں ان قوتوں پر نظر رکھنی ہو گی جو دہرہ گیم کھیلنے کی ماہر ہیں اور بعض مرتبہ وطن فروشوں سے ہاتھ ملا لیتی ہیں جیسا کہ بینظیر کی شہادت کے بعد دبائو میں آ کر اقتدار زرداری کے حوالے کیا گیا اور قوم آج تک اس دور کا بھگتان بھگت رہی ہے ۔۔ ایک لانگ ٹرم ریاستی پالیسی ہی ہماری بقاء کی ضمانت ہو سکتی ہے نہ کہ ہر بدلتی صورتحال میں پالیسی کی تبدیلی جس سے ریاستی ڈھنچا متاثر ہو رہا ہے ۔۔ عوامی بیداری کے اس دور میں اگر مفاہمت کے نام پر پھر کوئی سودے بازی کی گئی تو معشیت کے ساتھ ساتھ ریاستی جغرافیہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ریاست کے امین کبھی ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔۔ انشا اللہ تعالی ،،، لہذا ہمیں اپنی پالیسی میں مستقل مزاجی لانے کی ضرورت ہے نہ کے ایڈھاک ازم پر مبنی اقدامات جن سے خاکم بدھن نقصان کا اندیشہ ہے ۔۔۔ وطن پرستوں پر اعتماد کیا جانا چاہیے اور ان کے ذریعہ پاکستانیت کو فروغ دینا چاہئے ۔۔ صابر جلیل ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ۔ پاک سرزمین پارٹی ۔ میرپورخاص ۔ سندھ ۔

Labels:

Sunday, August 7, 2016

کشمیر ، کراچی اور پاک سر زمین پارٹی ایک تجزیہ ۔

بلا شبہہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کشمیری جدوجہد آزادی کی تاریخ رقم کر رہے ہیں، اور کرچی میں را ایجنٹ الطاف کشمیر کا کراچی سے موازنہ کروا رہا ہے۔

کراچی میں "مقبوضہ کراچی" کی چاکنگ کروائی گئی ہے اور تصاویر بنا کر سوشل میڈیہ پر ڈالی جا رہی ہیں۔

پاک فوج کو کیا کرنا ہے اور کب اور کس مرحلے پر کرنا ہے اور کیا کر رہی ہے اس بات کے لیے یہ فورم مناسب نہیں ہے، لیکن بھروسہ ہے کہ آزادی کی اس جدوجہد میں اتنی تیزی خود بخود نہیں آجاتی ہے چند لوازمات ہوتے ہیں تو کچھڑی پکتی ہے یہ پراکسی وار کا دور ہے، اور ہم حالت جنگ میں ہیں اندرونی اور بیرونی محاذ دونوں پر۔

اس موقع پر اگر کوئی نام نہاد سیاسی لیڈر اپنے کارکنان کو یہ سبق پڑھائے کہ اگر میں ایک یونٹ کا کارکن ہوتا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تو میں سو آدمیوں کو قتل کر سکتا یا یوں کہے کہ فوج اور رینجرز کے جوانوں کے سر پر ہتھوڑا مار کر مغز نکالو اور اس کو بھون کر کھا لو یا کتوں کے آگے ڈال دو۔

اور صحافیوں کے سوال کرنے پر ایم کیو ایم کے نمائندے یہ عذر لنگ پیش کری کہ بھائی نے غصہ میں اور کارکنوں کے غم میں یہ بات کر دی، تو یہ قطعا قابل قبول نہیں۔

میرے بھائی یہ اب یا کبھی نہیں والا مرحلہ آگیا ہے۔ یہ ہماری ملکی تاریخ کا ایک فیصلہ کن مرحلہ یا Defining Moment ہے، کہ کون کہاں اور کس کے ساتھ کھڑا ہے۔

بلا شبہ پی ایس پی PSP ریاست کے ساتھ کھڑی ہے اور ایم کیو ایم اس کے مقابل ہے. یہ قطعا سیاست یا اقتدار کی جنگ نہیں ہے، یہ ہماری بقا کی جنگ ہے اور اس جنگ کی کامیابی کی صورت میں ہمیں محصورین بنگلہ دیش کی طرح کیمپوں میں رہنا نہیں پڑے گا۔

سمجھدار کے لیے اشارہ کافی ہے، مصطفی کمال اور انیس قائم خانی صاحبان پر آنکھ کھول کر بھروسہ کریں اندھی تقلید زہر قاتل ہے جسکا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔

باقی اندورونی اختلاف کی باتیں کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھیں اس پر ٹیکنکل بحث ہونی چاہئے اور ہوگی ۔ 

پاکستان ہمارا، ہم سب کا، ملک ہے اور یہ انشااللہ قائم و دائم رہے گا۔ صابر جلیل ایڈوکیٹ ہائی کورٹ  پی ایس پی میرپورخاص ۔

پاک سرزمین پارٹی کا پیغام وطن پرستوں کے نام پارٹ 2

بلا شبہ کشمیری اپنی تاریخ رقم کر رہے ہیں ، الطاف را ایجنٹ کشمیر کو کراچی سے موازنہ کروا رہا ہے اور کراچی میں ،، مقبوضہ کراچی ،، کی چاکنگ کروائی گئی ہے اور فوٹو بنا کر شوشل میڈیہ پر ڈالا گیا ہے ۔۔ پاک فوج کو کیا کرنا ہے اور کب اور کس مرحلے پے کرنا ہے اور کیا کر رہی ہے اس بات کو کرنے کے لیے یہ فورم نہیں ہے لیکن بھروسہ ہے کہ آذادی کی اس جدوجہد میں اتنی تیزی خود بخود نہیں آجاتی ہے چند لوازمات ہوتے ہیں تو کچھڑی پکتی ہے یہ پراکسی وار کا دور ہے ۔۔۔ اور ہم حالت جنگ میں ہیں اندرونی اور بیرونی محاذ دونوں پر ،، اس موقع پر اگر کوئی لیڈر سپنے کارکنوں کو یہ سیکھائے کہ میں اگر یونٹ کا کارکن ہوتا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تو میں سو آدمیوں کو قتل کر سکتا یا یو کہے کہ فوج اور رینجرز کے جوانوں کے سر پر ہتھوڑا مار کر مغز نکالو اور اس کو بھون کر کھا لو یا کتوں کے آگے ڈال دو ۔۔۔ اور اینکر کے سوال کرنے پر ایم کیو ایم کا نمائندہ بولے کہ بھائی نے غصہ میں اور کارکنوں کے غم میں یہ بات کر دی ۔۔ میرے بھائی یہ نائو آر نیور والا مرحلہ آگیا ہے ۔۔ ڈیفاننگ موومنٹ ہے کہ کوں کہاں کھڑا ہے ۔۔ بلا شبہ پی ایس پی ریاست کے ساتھ کھڑی ہے اور ایم کیو ایم اس کے مقابل ہے ،، یہ قطعا سیاست یا اقتدار کی جنگ نہیں ہے یہ ہماری بقا کی جنگ ہے اور اس جنگ کی کامیابی کی صورت میں ہمیں محصورین بنگلہ دیش کی طرح کیمپوں میں رہنا نہیں پڑے گا سمجھدار کے لیے اشارہ کافی ہے ۔۔ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی صاحبان پر آنکھ کھول کر بھروسہ کریں اندھی تقلید زہر قاتل ہے جسکا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں ۔۔ باقی ملک کی بات کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھیں اس پر ایک ٹیکنکل بحث ہو گی ۔  ملک ہمارہ پاکستان ہے اور یہ انشااللہ قائم و دائم رہے گا ۔۔

Labels:

پاک سرزمین پارٹی کا پیغام وطن پرستوں کے نام

الطاف کی تقریر سننے اور اس تقریر میں شامل نازیبا فحش جملے ، پاک آرمی اور رینجرز کے بارے میں انتہائی غدارانہ الفاظ کا استعمال جاننے کے باوجود کچھ سیلف موٹیویٹڈ کارکن جنہوں نے ہماری طرح اس شخص سے تواقعات باندھ لی ہیں اور خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ یہ شخص کوئی راہنماء ہے یا مربی ہے یا نجات دہندہ ہے کہ نیاء پار لگا دے گا اور کسی منزل پر پہنچا کر آپ کو پکارے گا لو آئو میرے بچوں تمہاری منزل آن پہنچی اب میرا کام ختم ۔۔۔ لیکن نہیں ایسا نہیں ہے راہنما اور قائدین ہمیشہ اپنی عوام کے درمیان ہوتے ہیں ، چرواہا یا گلہ بان اپنے ریوڑ کے ساتھ ہوتا ہے اور اس ریوڈ کو مخصوص منزل تک پہنچاتا ہے جس کی اسکو خود بھی خبر ہوتی ہے ۔۔۔۔ اب جب کہ الطاف کے حوالے سے اسکا ذاتی کردار اور قومی کردار دونوں عیاں ہوتے جا رہے ہیں اسکے باوجود کچھ لوگ اڑے ہوئے ہیں کہ الطاف ہی نجات دہندہ ہے تو بتائو نجات کس شے سے ، کیا ملک سے اور اگر کوئی منزل ہے تو کیا منزل پاکستان نہیں تھی ۔۔ اگر ماضی کے کسی جبر اور سیاسی فیصلوں کو بنیاد بنا لیں تو کیا اور اس کا الزام مقامی باشندوں کو دے دیں تو کیا ہمارے ہجرت کرنے والے آباءاجداد کو بھی مورد الزام ٹھہرائو گے کہ انہوں نے ہجرت ہی کیوں کی تھی ،، لہذا آج اور ابھی کے دور میں جینا سیکھو ،، صوبہ سندھ کی مقامی لسانی اکائیاں اب یکجاء ہو چکی ہیں اور یہ عمل سست سہی پر جاری عمل ہے اور ہر ہر شعبہ زندگی میں جاری ہے اس کا انکار کیسے کرو گے ، کیا کراچی حیدرآباد کو صرف آپ کی خواہش پر علحیدہ صوبہ یا ملک بنایا جا سکتا ہے کیا آپ کا وہ سنہیرا وقت گزر نہیں گیا جب آپ کی تحریک میں ایک جذبہ اور لگن تھی اب کوئی سنہیرا خواب دکھانا اور وہ بھی صرف نعرہ کی حد تک سود مند ثابت ہوگا یا سرا سر نقصان رساں ہو گا ،، جو جس شعبہ زندگی سے متعلق ہے سوچے کہ اس وقت ہمارا کاروبار ہماری تعلیم ہماری زراعت اور ہماری رشتہ داریاں مقامی سندھی باشندوں کے ساتھ کسقدر گھل مل گئیں ہیں اور ہمیں شہری حقوق کے لیے مقامی و غیر مقامی کا فرق یکسر مٹا کر نئے سرے سے جدوجہد کرنی پڑے گی ۔۔ سندھ اورپاکستان کی عوام میں ایک طبقہ پیدا ہوا ہے جسکو آپ بفر کہ سکتے ہو یہ طبقہ موجودہ لوٹ کھسوٹ کے نظام سے نالاں ہے اور آپ سے زیادہ نہ صحیح برابر کا تو مظلوم ضرور ہے ۔۔۔۔ اس طبقہ کو ملا کر کرپٹ نظام کو ختم کرنا ہے اور پاکستان کو ایک رفاحی اور فلاحی مملکت بنانا ہے ،، ہر پارٹی اور قوم میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں ان اچھے لوگوں کو اجاگر کرنا ہے برے لوگوں کی برائیوں پر تنقید کرنی ہے نہ کے اسکی قوم برادری کو برا کہنا ہے اس طرح ایک معاشرے کی تخلیق کرنی ہے اور قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق ریاست کو ڈھالنا ہے یہ ایک سست مگر دیرپا عمل ہے جس کے زریعہ ہم اپنی آنے والی نسل کو بہتر پاکستان دے سکیں گے ۔۔۔۔ صابر جلیل ایڈوکیٹ ہائیکورٹ ۔۔ پاک سرزمین پارٹی ۔ میرپورخاص ۔ سندھ

Labels:

Thursday, August 4, 2016

آذادی کی نعمت کی قدر کریں

آذادی کی نعمت کی قدر کریں اور سندھ اور پاکستان کے ٹکڑے کرنے اور حقوق کے نام پر بربادی کے سوداگروں کو مستردکر دیں کہ آذادی کی ایک سانس کی قیمت یا بہادر شاہ ظفر بتا سکتا تھا یا کشمیری بتا سکتے ہیں ۔ وقت اجازت دے تو یہ تحریر پڑھ کر شکر الحمداللہ کہیں ۔۔۔۔۔

اور پھر ہندوستان کے آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکنن میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا‘
یہ جہاز17 اکتوبر 1858ء کو رنگون پہنچ گیا‘
شاہی خاندان کے 35 مرد اور خواتین بھی تاج دار ہند کے ساتھ تھیں‘
کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا‘
وہ بندر گاہ پہنچا‘
اس نے بادشاہ اور اس کے حواریوں کو وصول کیا‘
رسید لکھ کر دی اور دنیا کی تیسری بڑی سلطنت کے آخری فرمانروا کو ساتھ لے کر اپنی رہائش گاہ پر آ گیا‘
نیلسن پریشان تھا‘
بہادر شاہ ظفر قیدی ہونے کے باوجود بادشاہ تھا اور نیلسن کا ضمیر گوارہ نہیں کر رہا تھا وہ بیمار اور بوڑھے بادشاہ کو جیل میں پھینک دے مگر رنگون میں کوئی ایسا مقام نہیں تھا جہاں بہادر شاہ ظفر کو رکھا جا سکتا‘
وہ رنگون میں پہلا جلا وطن بادشاہ تھا‘
نیلسن ڈیوس نے چند لمحے سوچا اور مسئلے کا دلچسپ حل نکال لیا‘
نیلسن نے اپنے گھر کا گیراج خالی کرایا اور تاجدار ہند‘ ظِلّ سُبحانی اور تیموری لہو کے آخری چشم و چراغ کو اپنے گیراج میں قید کر دیا‘
بہادر شاہ ظفر17 اکتوبر 1858ء کو اس گیراج میں پہنچا اور 7 نومبر 1862ء تک چار سال وہاں رہا‘
بہادر شاہ ظفر نے اپنی مشہور زمانہ غزل
"لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں‘
"کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں"
اور
"کتنا بدنصیب ہے ظفردفن کے لیے‘
"دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں،
اسی گیراج میں لکھی تھی‘
یہ آج7 نومبر کا خُنَک دن تھا اور سن تھا 1862ء۔

بدنصیب بادشاہ کی خادمہ نے شدید پریشانی میں کیپٹن نیلسن ڈیوس کے دروازے پر دستک دی‘
اندر سے اردلی نے بَرمی زُبان میں اس بدتمیزی کی وجہ پوچھی‘
خادمہ نے ٹوٹی پھوٹی بَرمی میں جواب دیا‘
ظِلّ سُبحانی کا سانس اُکھڑ رہا ہے‘
اردلی نے جواب دیا‘
صاحب کتے کو کنگھی کر رہے ہیں‘ میں انھیں ڈسٹرب نہیں کر سکتا‘
خادمہ نے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا‘
اردلی اسے چپ کرانے لگا مگر آواز نیلسن تک پہنچ گئی‘
وہ غصے میں باہر نکلا‘
خادمہ نے نیلسن کو دیکھا تو وہ اس کے پاؤں میں گر گئی‘ وہ مرتے ہوئے بادشاہ کے لیے گیراج کی کھڑکی کُھلوانا چاہتی تھی‘
بادشاہ موت سے پہلے آزاد اور کھُلی ہوا کا ایک گھونٹ بھرنا چاہتا تھا‘
نیلسن نے اپنا پسٹل اٹھایا‘ گارڈز کو ساتھ لیا‘
گیراج میں داخل ہو گیا۔

بادشاہ کی آخری آرام گاہ کے اندر بَدبُو‘ موت کا سکوت اور اندھیرا تھا‘
اردلی لیمپ لے کر بادشاہ کے سرہانے کھڑا ہو گیا‘
نیلسن آگے بڑھا‘
بادشاہ کا کمبل آدھا بستر پر تھا اور آدھا فرش پر‘
اُس کا ننگا سر تکیے پر تھا لیکن گردن ڈھلکی ہوئی تھی‘ آنکھوں کے ڈھیلے پپوٹوں کی حدوں سے باہر اُبل رہے تھے‘ گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں اور خشک زرد ہونٹوں پر مکھّیاں بِھنبھِنا رہی تھیں‘ نیلسن نے زندگی میں ہزاروں چہرے دیکھے تھے لیکن اس نے کسی چہرے پر اتنی بے چارگی‘ اتنی غریب الوطنی نہیں دیکھی تھی‘
وہ کسی بادشاہ کا چہرہ نہیں تھا‘
وہ دنیا کے سب سے بڑے بھکاری کا چہرہ تھا اور اس چہرے پر ایک آزاد سانس,
جی ہاں.......
صرف ایک آزاد سانس کی اپیل تحریر تھی اور یہ اپیل پرانے کنوئیں کی دیوار سے لپٹی کائی کی طرح ہر دیکھنے والی آنکھ کو اپنی گرفت میں لے لیتی تھی‘
کیپٹن نیلسن نے بادشاہ کی گردن پر ہاتھ رکھا‘
زندگی کے قافلے کو رگوں کے جنگل سے گزرے مدت ہو چکی تھی‘
ہندوستان کا آخری بادشاہ زندگی کی حد عبور کر چکا تھا‘
نیلسن نے لواحقین کو بلانے کا حکم دیا‘
لواحقین تھے ہی کتنے ایک شہزادہ جوان بخت اور دوسرا اس کا استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی‘
وہ دونوں آئے۔

انھوں نے بادشاہ کو غسل دیا‘ کفن پہنایا اور جیسے تیسے بادشاہ کی نمازِ جنازہ پڑھی‘ قبر کا مرحلہ آیا تو پورے رنگون شہر میں آخری تاجدار ہند کے لیے دوگز زمین دستیاب نہیں تھی‘
نیلسن نے سرکاری رہائش گاہ کے احاطے میں قبر کھدوائی اور بادشاہ کو خیرات میں ملی ہوئی مٹی میں دفن کر دیا‘
قبر پر پانی کا چھڑکاؤ ہورہا تھا ‘
گلاب کی پتیاں بکھیری جا رہی تھیں تو استاد حافظ ابراہیم دہلوی کے خزاں رسیدہ ذہن میں 30 ستمبر 1837ء کے وہ مناظر دوڑنے بھاگنے لگے
جب دہلی کے لال قلعے میں 62 برس کے بہادر شاہ ظفر کو تاج پہنایاگیا‘
ہندوستان کے نئے بادشاہ کو سلامی دینے کے لیے پورے ملک سے لاکھ لوگ دلی آئے تھے اور بادشاہ جب لباس فاخرہ پہن کر‘ تاج شاہی سَر پر سَجَا کر اور نادر شاہی اور جہانگیری تلواریں لٹکا کر دربار عام میں آیا تو پورا دلی تحسین تحسین کے نعروں سے گونج اٹھا‘
نقارچی نقارے بجانے لگے‘ گویے ہواؤں میں تانیں اڑانے لگے‘
فوجی سالار تلواریں بجانے لگے
اور
رقاصائیں رقص کرنے لگیں‘ استاد حافظ محمد ابرہیم دہلوی کو یاد تھا بہادر شاہ ظفر کی تاج پوشی کا جشن سات دن جاری رہا اور ان سات دنوں میں دِلّی کے لوگوں کو شاہی محل سے کھانا کھلایا گیا مگر سات نومبر 1862ء کی اس ٹھنڈی اور بے مہر صُبح بادشاہ کی قبر کو ایک خوش الحان قاری تک نصیب نہیں تھا۔

استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘
اس نے جوتے اتارے‘
بادشاہ کی قبر کی پائینتی میں کھڑا ہوا
اور
سورۃ توبہ کی تلاوت شروع کر دی‘
حافظ ابراہیم دہلوی کے گلے سے سوز کے دریا بہنے لگے‘
یہ قرآن مجید کی تلاوت کا اعجاز تھا یا پھر استاد ابراہیم دہلوی کے گلے کا سوز,
کیپٹن نیلسن ڈیوس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘
اس نے ہاتھ اٹھایا اور اس غریبُ الوطن قبر کو سیلوٹ پیش کر دیا اور اس آخری سیلوٹ کے ساتھ ہی مغل سلطنت کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا‘

آپ اگر کبھی رنگون جائیں تو آپ کو ڈیگن ٹاؤن شِپ کی کچّی گلیوں کی بَدبُودار جُھگّیوں میں آج بھی بہادر شاہ ظفر کی نسل کے خاندان مل جائیں گے‘
یہ آخری مُغل شاہ کی اصل اولاد ہیں مگر یہ اولاد آج سرکار کے وظیفے پر چل رہی ہے‘
یہ کچی زمین پر سوتی ہے‘ ننگے پاؤں پھرتی ہے‘ مانگ کر کھاتی ہے اور ٹین کے کنستروں میں سرکاری نل سے پانی بھرتی ہے,
مگر یہ لوگ اس کَسمَپُرسی کے باوجود خود کو شہزادے اور شہزادیاں کہتے ہیں‘
یہ لوگوں کو عہد رفتہ کی داستانیں سناتے ہیں اور لوگ قہقہے لگا کر رنگون کی گلیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔

یہ لوگ‘
یہ شہزادے اور شہزادیاں کون ہیں؟
یہ ہندوستان کے آخری بادشاہ کی سیاسی غلطیاں ہیں‘ بادشاہ نے اپنے گرد نااہل‘ خوشامدی اور کرپٹ لوگوں کا لشکر جمع کر لیا تھا‘
یہ لوگ بادشاہ کی آنکھیں بھی تھے‘
اس کے کان بھی اور اس کا ضمیر بھی‘
بادشاہ کے دو بیٹوں نے سلطنت آپس میں تقسیم کر لی تھی‘
ایک شہزادہ داخلی امور کا مالک تھا
اور دوسرا خارجی امور کا مختار‘
دونوں کے درمیان لڑائی بھی چلتی رہتی تھی اور بادشاہ ان دونوں کی ہر غلطی‘ ہر کوتاہی معاف کر دیتا تھا‘
عوام کی حالت انتہائی ناگُفتہ بہ تھی‘
مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی‘
خوراک منڈیوں سے کٹائی کے موسموں میں غائب ہو جاتی تھی‘
سوداگر منہ مانگی قیمت پر لوگوں کو گندم‘ گڑ اور ترکاری بیچتے تھے‘
ٹیکسوں میں روز اضافہ ہوتا تھا‘
شہزادوں نے دلی شہر میں کبوتروں کے دانے تک پر ٹیکس لگا دیا تھا‘
طوائفوں کی کمائی تک کا ایک حصہ شہزادوں کی جیب میں چلا جاتا تھا۔

شاہی خاندان کے لوگ قتل بھی کر دیتے تھے تو کوئی ان سے پوچھ نہیں سکتا تھا‘ ریاست شاہی دربار کے ہاتھ سے نکل چکی تھی‘ نواب‘ صوبیدار‘ امیر اور سلطان آزاد ہو چکے تھے اور یہ مغل سلطنت کو ماننے تک سے انکاری تھے‘ فوج تلوار کی نوک پر بادشاہ سے جو چاہتی تھی منوا لیتی تھی‘
عوام بادشاہ اور اس کے خاندان سے بیزار ہو چکے تھے‘ یہ گلیوں اور بازاروں میں بادشاہ کو ننگی گالیاں دیتے تھے اور کوتوال چپ چاپ ان کے قریب سے گزر جاتے تھے جب کہ انگریز مضبوط ہوتے جا رہے تھے‘
یہ روز معاہدہ توڑتے تھے اور شاہی خاندان وسیع تر قومی مفاد میں انگریزوں کے ساتھ نیا معاہدہ کر لیتا تھا۔

انگریز بادشاہ کے وفاداروں کو قتل کر دیتے تھے اور شاہی خاندان جب احتجاج کرتا تھا تو انگریز بادشاہ کو یہ بتا کر حیران کر دیتا تھا ’’ظل الٰہی وہ شخص آپ کا وفادار نہیں تھا‘ وہ ننگ انسانیت آپ کے خلاف سازش کر رہا تھا‘‘ اور بادشاہ اس پر یقین کر لیتا تھا‘ بادشاہ نے طویل عرصے تک اپنی فوج بھی ٹیسٹ نہیں کی تھی چنانچہ جب لڑنے کا وقت آیا تو فوجیوں سے تلواریں تک نہ اٹھائی گئیں‘
ان حالات میں جب آزادی کی جنگ شروع ہوئی اور بادشاہ گرتا پڑتا شاہی ہاتھی پر چڑھا تو عوام نے لاتعلق رہنے کا اعلان کر دیا‘
لوگ کہتے تھے ہمارے لیے بہادر شاہ ظفر یا الیگزینڈرا وکٹوریا دونوں برابر ہیں‘
مجاہدین جذبے سے لبریز تھے لیکن ان کے پاس قیادت نہیں تھی۔

بادشاہ ڈبل مائینڈڈ تھا‘
یہ انگریز سے لڑنا بھی چاہتا تھا اور اپنی مدت شاہی بھی پوری کرنا چاہتا تھا
چنانچہ اس جنگ کا وہی نتیجہ نکلا جو ڈبل مائینڈ ہو کر لڑی جانے والی جنگوں کا نکلتا ہے‘
شاہی خاندان کو دلی میں ذبح کر دیا گیا جب کہ بادشاہ جلاوطن ہو گیا‘
بادشاہ کیپٹن نیلسن ڈیوس کے گیراج میں قید رہا‘
گھر کے احاطہ میں دفن ہوا اور اس کی اولاد آج تک اپنی عظمت رفتہ کا ٹوکرا سر پر اٹھا کر رنگون کی گلیوں میں پھر رہی ہے ۔                                                            سندھ کے شہری کسی نام نہاد حقوق کی تحریک کا حصہ نہ بنیں اور سازش کا شکار نہ ہوں ۔

Labels: